روایت : ’’عید کے دن رسالت مآبﷺ کا ایک بے سہارایتیم بچےکے ساتھ اخلاق کریمانہ سے پیش آنا ‘‘
حکم: یہ روایت سنداً نہیں ملتی،بیان کرنا موقوف رکھا جائے ۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] التحفة المرضیة:ص:۵۸،المطبع الکاستلیة ـ مصر .
[2] یہی واقعہ کچھ فرق اور اضافہ کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاتا ہے :
1 عید کے دن آپﷺ گھر سے مسجد کی طرف جارہے تھے ،راستے میں ایک جگہ کچھ ایسے بچوں کوکھیلتے دیکھا جنہوں نے اچھے کپڑے پہنتے ہوئے تھے ،بچوں نے سلام کیا توآپ ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا ،کچھ آگے تشریف لے گئے تووہاں ایک بچے کو اداس بیٹھے دیکھا آپ اس کے قریب رک گئے اور پوچھا :تمہیں کیا ہوا کہ اداس اور پریشان نظر آرہے ہو؟ اس نے روتے ہوئے کہا: اے اللہ کے محبوب !میں یتیم ہوں ،میراباپ نہیں ہے جو میرے لئے کپڑے لادیتا میری ماں نہیں ہے جومجھے نہلاکر نئے کپڑے پہنادیتی ،اس لئے میں یہاں اکیلااداس بیٹھا ہوں ،آپ ﷺ اسے لے کر اپنے گھرتشریف لے گئے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ R سے فرمایا :اس بچے کونہلادو ،اتنے میں آپﷺ نے اپنی مبارک چادر کے دو ٹکڑے کردیے ،کپڑے کا ایک ٹکڑا اسے تہبند کی طرح باندھ دیا گیا اور دوسرا اس کے بدن پر لپیٹ دیا گیا ،پھر اس کے سر پر تیل لگا کر کنگھی کی گئی حتی کہ جب وہ بچہ تیار ہوکر آپﷺ کے ساتھ چلنے لگا توآپ ﷺ نیچے بیٹھ گئے اور اس بچے سے فرمایا:آج تو پیدل چل کر مسجد نہیں جائے گا بلکہ میرے کندھوں پرسوار ہوکر جائے گا۔
جب مسجدتشریف لاکر منبر پرجلوہ افروز ہوئے تو وہ بچہ نیچے بیٹھنے لگا ،آپﷺ نے اسےفرمایا:آج تم زمین پر نہیں بیٹھو گے بلکہ میرے ساتھ منبر پر بیٹھوگے ، آپﷺ نے اس بچے کو منبر پر بٹھایا اور پھر اس کے سرپر ہاتھ رکھ کر فرمایا:جو شخص یتیم کی کفالت کرے گا اور محبت وشفقت سے اس کے سر پرہاتھ پھیرے گا ،اس کے ہاتھ کےنیچے جتنے بال آئیں گے،اللہ اس کے نامہ اعمال میں اتنی ہی نیکیاں لکھ دے گا ،مزید فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ اس کو مصیبت کے وقت تنہا نہیں چھوڑتا ،جوشخص اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے ،اللہ تعالی اس کی مدد کرتا ہے،جوشخص کسی مسلمان کی مشکل دور کرے گا اللہ تعالی اس کے بدلےقیامت میں اس سے سختی دور فرمائے گا۔
2 اسےایک موقع پر یوں بھی بیان کیاگیاہے : آپ ﷺ اس بچے کو اپنے کندھے پرسوارکرکے اس گلی سے تشریف لے جارہے تھے ،بچوں نے جویہ دیکھا تو تمنا کی کہ کاش ہم بھی یتیم ہوتے اور آپﷺ کے کندھوں پر سوار ہونے کا شرف حاصل کرتے ۔
3 ایک جگہ یوں بیان کیا گیا ہے:اس بچہ کا باپ کافر تھا وہ فوت ہوگیا تھا ،اس لئے وہ بےیارومددگارتھا ۔
[3] المعجم الأوسط:۳ /۲۸۵،رقم:۳۱۶۶،ت:طارق بن عوض الله بن محمد،دارالحرمين ـ القاهرة،الطبعة ۱۴۱۵هـ .
[4] فتح الباري:۱۱/۱۵۱،ت:عبدالعزیز بن باز،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۹هـ .
[5] صحيح البخاري:۳/۱۲۸،رقم:۲۴۴۲،ت:محمدزهير بن ناصر الناصر،دارطوق النجاةـ بیروت، الطبعة ۱۴۲۲هـ .
ملتی جلتی احادیث
حضرت بلال r کا چکی چلانا،آپﷺ کا چکی چلانےمیں تین دن تک ان کی مدد کرنا، اور بالآخر ان کا مسلمان ہونا
حضرت عثمان بن عفانr کانبی اکرمﷺ کو دعوت دینااور آپﷺ کے قدموں کو شمار کرنا
حضرت جبرائیل eکا رسالت مآب ﷺ کو جہنم کے احوال بیان کرنا،اس پرآپﷺ کا اپنی امت کے بارے میں انتہائی غم زدہ ہونا،حضرت فاطمہR کے پوچھنے پر انہیں تمام احوال بیان کرنا
روایت: حضرت سلمانr کو آپ ﷺ کا ترتیب وار چالیس احادیث بیان کرنا ،اور انہیں یاد کرنے پرانبیاء و علماء کے ساتھ حشر کی فضیلت۔
روایت: آپ ﷺ کے دستِ مبارک سے حضرت سلمان r کےواسطے لگائے گئےتین سو درختوں کا راتوں رات اگنا۔