جو شخص پان کھانے کی فضیلت آنحضرت ﷺ کے قول سے ثابت بتاتا ہو وہ بڑا جاہل بلکہ بے دین ہے۔
تفصیل
’’سوال: پان کھانا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ پان کھانے کی بہت تعریف حضرت ﷺ نے فرمائی ہے، قولِ زید صحیح ہے یا غلط ہے؟
جواب: جو شخص پان کھانے کی فضیلت آنحضرت ﷺ کے قول سے ثابت بتاتا ہو وہ بڑا جاہل بلکہ بے دین ہے، اس کی بات بھی نہ سننا چاہیئے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : پان کھانا ، ص: ۱۷۰، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
’’ آپ ﷺکا اپنے صاحبزادے ابراہیم r کے لئے فاتحہ خانی کرنا‘‘،اس کا گھڑنے والا ملعون ہےکہ فخر عالم e پر تہمت باندھتا ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دےدیا جائے، عوام کے عقیدہ کی خرابی کی وجہ سے اس کا پڑھنا ممنوع ہے۔