التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دےدیا جائے، عوام کے عقیدہ کی خرابی کی وجہ سے اس کا پڑھنا ممنوع ہے۔

تفصیل

’’سوال:  چہ فرمانید علمائے دین رحکم اللہ تعالیٰ درثبوت وفضیلت وثواب درود تاج کہ در اکثر عوام بالخصوص جہلا شہرت   دارد و مند رجہ الفاظ ان نسبتہ رسول اللہ ﷺ کردہ {دافع البلاء والوباء والقحط والمرض والألم} الخ آیا خواندن آں ومعتقد فضیلت وثواب آں از اد لہ شرعیہ ثابت ودرست است یا منع وشرک وبدعت۔

جواب:  انچہ فضائل درود تاج کہ بعض جہلا بیان کنند غلط است  وقدر آں بجز شارع e معلوم شدن محال وتالیف ایں درود بعد مرور صد ہا سال واقع شد پس چگونہ درود ایں صیغہ را موجب ثواب قرار دادہ شود وانچہ در احادیث صحاح صیغہائے درود وارد شدہ آں را ترک کردن وایں رامو عود بثواب جزیل پنداشتن ودرود ساختن بدعۃ ضلالت ہست وچوں آنکہ در آں کلمات شرکیہ مذکور اند اندیشہ خرابی عقیدہ عوام است لہذا ودر آں ممنوع ہست پس تعلیم درود تاج ہمانا سم قاتل بعوام سپردن ست کہ صدہا مردم بفساد عقیدہ شرکیہ مبتلا شوند وموجب ہلاکت ایشاں گردد، فقط واللہ تعالیٰ اعلم! ۔

[علماء دین اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے کیا فرماتے ہیں درودِتاج کی فضیلت اور ثواب اور اس کے ثبوت کے بارہ میں، اکثر عوام بالخصوص جہلاء میں شہرت رکھتا ہے، اور اس کے مندرجہ ذیل الفاظ رسول اللہ ﷺ سے نسبت رکھتے ہیں:  ’’دافع بلاء و وباء وقحط ومرض والم‘‘ (دکھ)۔ آیا اس کا پڑھنا اور اس کی فضیلت وثواب کا اعتقاد رکھنا، ادلۂ شرعیہ سے ثابت اور درست ہے یا نہیں یا یہ شرک وبدعت ہے؟

 درود شریف کے جو کچھ فضائل بعض جاہل بیان کرتے ہیں بالکل غلط ہے، اور اس کا مرتبہ بجز شارع e کے یہاں فرمانے کے معلوم ہونا محال ہے، اور اس درود کی تالیف صدہا سال گزر نے کے بعد ہوئی ہے، پس کس طرح درود کے اس صیغہ کو باعث ثواب قرار دے سکتے ہیں؟ اور صحیح حدیثوں میں درود شریف کے جو صیغے آئے ہیں اُن کو چھوڑنا، اور اس  [درودِ تاج]میں بہت کچھ ثواب کی امید رکھنا اور اس کا ورد کرنا گمراہی وبدعت ہے، اور چونکہ اس [درودِ تاج]میں کلماتِ شرکیہ بھی ہیں، اندیشہ عوام کے عقیدہ کی خرابی کا ہے، لہذا اس کا پڑھنا ممنوع ہے، پس درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دے دیا جائے، کیونکہ بہت سے آدمی عقیدۂ شرکیہ کے فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور ان کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم‘‘][1]۔

حوالہ جات

[1] تالیفات رشیدیہ : درودتاج کا حکم، ص: ۱۴۹، ادارہ اسلامیات لاہور ۔ 

ملتی جلتی احادیث