درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دےدیا جائے، عوام کے عقیدہ کی خرابی کی وجہ سے اس کا پڑھنا ممنوع ہے۔
تفصیل
’’سوال: چہ فرمانید علمائے دین رحکم اللہ تعالیٰ درثبوت وفضیلت وثواب درود تاج کہ در اکثر عوام بالخصوص جہلا شہرت دارد و مند رجہ الفاظ ان نسبتہ رسول اللہ ﷺ کردہ {دافع البلاء والوباء والقحط والمرض والألم} الخ آیا خواندن آں ومعتقد فضیلت وثواب آں از اد لہ شرعیہ ثابت ودرست است یا منع وشرک وبدعت۔
جواب: انچہ فضائل درود تاج کہ بعض جہلا بیان کنند غلط است وقدر آں بجز شارع e معلوم شدن محال وتالیف ایں درود بعد مرور صد ہا سال واقع شد پس چگونہ درود ایں صیغہ را موجب ثواب قرار دادہ شود وانچہ در احادیث صحاح صیغہائے درود وارد شدہ آں را ترک کردن وایں رامو عود بثواب جزیل پنداشتن ودرود ساختن بدعۃ ضلالت ہست وچوں آنکہ در آں کلمات شرکیہ مذکور اند اندیشہ خرابی عقیدہ عوام است لہذا ودر آں ممنوع ہست پس تعلیم درود تاج ہمانا سم قاتل بعوام سپردن ست کہ صدہا مردم بفساد عقیدہ شرکیہ مبتلا شوند وموجب ہلاکت ایشاں گردد، فقط واللہ تعالیٰ اعلم! ۔
[علماء دین اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے کیا فرماتے ہیں درودِتاج کی فضیلت اور ثواب اور اس کے ثبوت کے بارہ میں، اکثر عوام بالخصوص جہلاء میں شہرت رکھتا ہے، اور اس کے مندرجہ ذیل الفاظ رسول اللہ ﷺ سے نسبت رکھتے ہیں: ’’دافع بلاء و وباء وقحط ومرض والم‘‘ (دکھ)۔ آیا اس کا پڑھنا اور اس کی فضیلت وثواب کا اعتقاد رکھنا، ادلۂ شرعیہ سے ثابت اور درست ہے یا نہیں یا یہ شرک وبدعت ہے؟
درود شریف کے جو کچھ فضائل بعض جاہل بیان کرتے ہیں بالکل غلط ہے، اور اس کا مرتبہ بجز شارع e کے یہاں فرمانے کے معلوم ہونا محال ہے، اور اس درود کی تالیف صدہا سال گزر نے کے بعد ہوئی ہے، پس کس طرح درود کے اس صیغہ کو باعث ثواب قرار دے سکتے ہیں؟ اور صحیح حدیثوں میں درود شریف کے جو صیغے آئے ہیں اُن کو چھوڑنا، اور اس [درودِ تاج]میں بہت کچھ ثواب کی امید رکھنا اور اس کا ورد کرنا گمراہی وبدعت ہے، اور چونکہ اس [درودِ تاج]میں کلماتِ شرکیہ بھی ہیں، اندیشہ عوام کے عقیدہ کی خرابی کا ہے، لہذا اس کا پڑھنا ممنوع ہے، پس درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دے دیا جائے، کیونکہ بہت سے آدمی عقیدۂ شرکیہ کے فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور ان کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے، فقط واللہ تعالیٰ اعلم‘‘][1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : درودتاج کا حکم، ص: ۱۴۹، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔