روایت: ’’نمک سے کھانے کی ابتداء کی روایات‘‘،سب معلول ہیں، کسی کا راوی متروک ہے تو کوئی روایت گھڑنے میں متہم ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×يبدأ بالملح ويختم به الخ÷ [ابتداء نمک سے کی جائے اور ختم بھی نمک پر ہو] کی تحقیق اختصار کے ساتھ تحریر فرمائیں ۔
جواب: ×الجواب: عن علي رضي الله تعالى عنه قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أكلت فابدأ بالملح واختم بالملح، فإن الملح شفاء سبعين داء، أوّلها الجنون والجذام والبَرْص ووجع الأضراس ووجع الحلق ووجع البطن. رواه الحارث، عن عبد الرحيم بن واقد، عن حماد بن عمرو، عن السَرِيِّ بن خالد، وهم ضعفاء.
قلت: عبد الرحيم بن واقد، قال الطَبَرِي في تفسيره: مجهول، غير معروف بالنقل، غير جائز الاحتجاج بما يرويه، كذا في اللسان. وشيخه حماد بن عمرو هو النَصِيَبِي متهم بالكذب والوضع، قال البخاري: يكنى أبا إسماعيل، منكر الحديث، وقال النسائي: متروك الحديث، قال الجُوزجاني: كان يكذب، وقال ابن حِبَّان: كان يضع الحديث وضعا، وشيخه السَرِيِّ بن خالد، قال الذهبي: السَرِيِّ بن خالد مدني لا يعرف، قال الأزدي: لا يحتج به÷.
[علی r سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تو کھانا کھائے تو نمک سے ابتداء کر، اور ختم بھی نمک پر کر، کیونکہ نمک میں ستر امراض سے شفاء ہے، ابتدائی امراض : جنون، جذام،برص، داڑھ کا درد، حلق کا درد، پیٹ کا درد ہیں۔ اسے حارث نے عبد الرحیم بن واقد، عن حماد بن عمرو، عن سَرِی بن خالد کی سند سے نقل کیا ہے،اور یہ سب ضعفاء ہیں۔
میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں: طَبَرِی l اپنی ’’تفسیر ‘‘ میں عبد الرحیم بن واقد کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ مجہول، غیرمعروف بالنقل ہے، اس کی روایتوں سے احتجاج جائز نہیں ہے، اسی طرح ’’لسان ‘‘ میں ہے۔ عبد الرحیم کے شیخ حماد بن عمرو نَصِیَبِی متہم بالکذب والوضع ہیں، بخاری l فرماتے ہیں کہ ان کی کنیت ابو اسماعیل ہے، یہ منکر الحدیث ہے، اور امام نسائی l نے انہیں متروک الحدیث کہا ہے، جُوزجانی l فرماتے ہیں: یہ جھوٹ بولتا تھا، اور ابن حبان l کا فرمان ہے کہ وہ حدیث گھڑتا تھا ۔ حماد کے شیخ سَرِی بن خالد ہیں، جن کے بارے میں ذہبی l فرماتے ہیں کہ سَرِی بن خالد مدنی غیر معروف ہے، ازری l کا کہنا ہے کہ یہ لائق احتجاج نہیں[1]]
حضرت علی r سے اور بھی طریقوں سے ×بدائة بالملح مرفوعا وموقوفا÷ [نمک سے کھانے کی ابتداء،آپ ﷺ سے اور صحابہ رضی اللہ عنہم سے]منقول ہے، لیکن سب معلول ہیں، کسی کا راوی متروک ہے تو کسی کا متہم بالوضع ۔
×وفي الباب عن أنس رضي الله تعالى عنه رفعه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ابدأوا بالملح فإن فيه بضعا وسبعين دواء، ومن بدأ بالملح فقال: بسم الله والحمد لله، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا وارزقنا ماهو أفضل منه، وقاه الله من عذاب القبر، ثم لا تستقر اللقمة في بطنه حتى يغفر الله له. أخرجه حمزة بن يوسف السَهْمِي في تاريخ جرجان(ص :۳۴۱) وقال: هذا حديث منكر، وعلي بن يزداد الجرجاني متهم÷[2] ‘‘.
[اور اس باب میں انس r سے مرفوعاً منقول ہے: نمک سے ابتداء کرو، کیونکہ اس میں ستر سے زائد امراض کا علاج ہے، اور جس نے نمک سے کھانا شروع کیا، پھر یہ دعاپڑھی: ×بسم الله والحمد لله، اللهم بارك لنا فيما رزقتنا وارزقنا ماهو أفضل منه÷. اور اللہ اسے عذابِ قبر سے محفوظ رکھے گا، پھر لقمہ اس کے پیٹ میں پہنچا ہی نہیں ہوتا کہ اللہ اس کی بخشش فرما دیتے ہیں۔حمزہ بن یوسف سہمی l نے یہ حدیث ’’تاریخ جرجان‘‘ میں تخریج کر کے کہا ہے: یہ منکر حدیث ہے، اور (سند میں موجود) علی بن یزدادجرجانی متہم ہے]
حوالہ جات
[1] مذکورہ روایت بسند حماد بن عمرو نَصِیْبِی حافظ بیہقیl نے ’’دلائل النبوة ‘‘ (۷/ ۲۲۹) میں نقل کرکے اسے موضوع کہا ہے، اورعلامہ سیوطیl نے ’’اللآلیٔ المصنوعۃ ‘‘ (۲/ ۳۱۲)میں حافظ بیہقیl کے قول پر اکتفاء کیا ہے۔
[2] الیواقیت الغالیۃ : یبدا بالملح ویختم به کی تحقیق،۲/۴۴۸۔
حضرت علی rکا ایک مرفوع طریق حافظ ابن جوزی l نے ’’كتاب الموضوعات‘‘ (۲/ ۲۸۹) میں تخریج کرکے لکھا ہے : ’’هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، والمتهم به عبدالله ابن أحمد بن عامر أو أبوه، فإنهما يرويان نسخة عن أهل البيت كلها باطلة‘‘. یہ حدیث رسول اللہﷺ سے ’’صحیح‘‘ نہیں ہے،اور اس میں عبداللہ بن احمد بن عامر یا ان کا والد (یعنی احمد بن عامر )متہم ہے، کیونکہ ان دونوں نے اہل بیت سے متعلق ایک نسخہ نقل کیا ہے،جوتمام ترباطل ہے۔علامہ ابن جوزی l کے قول پر علامہ سیوطیl نے ’’اللآلیٔ المصنوعۃ ‘‘ (۲/ ۱۷۹)میں اور حافظ ابن عراق l نے ’’تنزيہ الشريعۃ‘‘ (۲/ ۲۴۳)میں اکتفاءکیاہے۔
حضرت علی r ہی کا ایک موقوف طریق امام بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ (۸/ ۱۰۱،رقم:۵۵۵۳) میں تخریج کیا ہے،جس کے بارے میں حافظ ابن عراق l ’’تنزیہ الشریعۃ‘‘ (۲/ ۲۴۳)میں لکھتے ہیں : ’’أثر علي ضعيف، في سنده جويبر متروك، وعنه عيسى بن الأشعث مجهول، والله تعالى أعلم‘‘. علی r کا اثر ضعیف ہے،کیونکہ اس کی سند میں جویبر متروک راوی ہے،اوران سے نقل کرنے والا عیسی بن اشعث مجہول ہے،واللہ اعلم ۔
اسی طرح متعلقہ مضمون پر مشتمل روایت سعد بن معاذ r سے بھی مرفوعاً منقول ہے،جسے امام سیوطی l نے ’’اللآلیٔ المصنوعۃ ‘‘ (۲/ ۱۷۹)میں نقل کیا ہے،حافظ ابن عراق l ’’تنزيہ الشريعۃ ‘‘ (۲/ ۲۴۳)میں اس پر بھی تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’(قلت) هو من طريق إبراهيم بن حيان بن حكيم، فلا يصلح شاهدا‘‘. میں کہتاہوں کہ یہ روایت ابراہیم بن حیان بن حکیم کی سند سے ہے چنانچہ یہ شاہد بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔حافظ ابن عرَّاق اس بات کی جانب اشارہ فرمارہے ہیں کہ یہ ابراہیم بن حیان ’’متہم بالوضع‘‘ ہے،اس لئےیہ طریق بھی شاہد نہیں بن سکتا،جیساکہ علامہ ابن عرَّاق l نے ’’تنزيہ الشريعۃ‘‘ (۱/ ۲۱)کے مقدمہ میں بحوالہ حافظ ابن عدی l ذکر کیا ہے کہ ابراہیم بن حیان کی احادیث من گھڑت ہیں ۔
فائدہ:
حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے ’’المنارالمنیف‘‘ (ص:۵۵)میں حدیث : ’’عليكم بالملح فإنه شفاء من سبعين داء‘‘. پر مشتمل تمام روایات کو موضوع کہاہے،اور ملاعلی قاری l نے بھی ’’الاسرار المرفوعۃ‘‘ (ص:۴۱۰)میں حافظ ابن قیم الجوزیہ کے اس قول کو بلاتعاقب نقل کیا ہے ۔
ملتی جلتی احادیث
روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔
’’تختم بالعقیق‘‘(عقیق کی انگوٹھی پہننے)کے بارےمیں منقول روایات سب واہی ہیں،اورمحققین ناقدین ان روایات کوبے اصل اورموضوع کہتےہیں۔
۵ - جزء روایت
×اطلبوا العلم ولو بالصین÷
روایت: ’’علم حاصل کرو،خواہ چین سے ہو‘‘، روایت ہذا کےثبوت کی کوئی صورت نہیں ہے۔
۲ – جزء: عربی زبان کے نو غیر معتبر فضائل
روایت: ’’ایک گھڑی کا غور و فکر ساٹھ یا اسّی سال کی عبادت سے افضل ہے‘‘۔
اس کے الفاظ تو ثابت نہیں ہیں،لیکن معنی ثابت ہے