روایت: آپﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’میری امت کے علما ء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں‘‘۔
حکم: بے اصل، بیان نہیں کر سکتے۔ ذیل میں ایک زبان زَدعام قصہ کی تحقیق بھی ذکر کی جائے گی۔
تفصیل
ہمارے گرد وپیش ایسی بہت سی حدیثیں زبان زَد عام ہیں،جو اگر چہ صحیح معنی پر مشتمل ہوتی ہیں،لیکن خاص ان الفاظ کے ساتھ وہ حدیثیں ثابت نہیں ہوتیں، چنانچہ محدثین کرام l ان حدیثوں کو صاف لفظوں میں بےاصل قراردیتے ہیں، کیونکہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی بھی کلام اور کلمات کو رسول اللہ ﷺ کی جانب ایک خاص اصل اور قاعدے سے منسوب کیا جاسکتا ہے،جسے ’’اسناد‘‘ کہا جاتا ہے، اس اسناد میں موجود راویوں کے حالات، ان کے مابین اتصال ا ور انقطاع وغیرہ امور کو دیکھ کر حفاظ حدیث ہر حدیث کو اس کا فنی مقام دیتے ہیں، اسی چھان بین میں بعض حدیثوں کے بارے میں وہ بے اصل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں،لہذا ایسی حدیثوں کو بیان کرنا جائز نہیں ہوتا،البتہ یہ عین ممکن ہے کہ اس بے اصل روایت کا مضمون دوسری معتبر حدیثوں سے ثابت ہو،لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم ان معتبر روایتوں کی وجہ سے اُن کے مضمون پر مشتمل بے اصل حدیثوں کو ثابت سمجھ کر انھیں بیان کریں،اور رسول اللہ ﷺ کی طرف اُن کا انتساب کریں،اس کی وجہ ما قبل میں بیا ن کی جاچکی ہے کہ ثبوتِ حدیث کے اپنے مسلمہ اُصول اور ضروریات ہیں، یہ بے اصل حدیثیں اُن سے خالی ہونے کی بنا پر درجۂ اعتبار سے ساقط اور نا قابلِ بیان ہوتی ہیں، اور انہی کے مضمون پر مشتمل دیگر روایات ان قواعد پر پورا اترنے کی وجہ سے مقبول بن جاتی ہیں، سابقہ بیان کردہ اُصول کو خاتم المحدثین علامہ عبد العزیز فرہاروی lنے ’’ کوثر النبي‘‘[1]میں ان لفظوں سے لکھا ہے:
’’وکثیراً مایکون الحدیثُ الموضوعُ مُشْتَمِلاً علی معنی صحیح، فإذا سَمِعَتْ العامةُ مِنَ المُحَدِّثِ أنّه موضوعٌ، ذَهَبَ وهمُهم إلی أنّه یُرِیدُ إبطالَ معناه، وهذه جَهَالَةٌ شَدِیدَةٌ مَرْکُوْزَةٌ في طِبَاعِهم ... وبالجملة أهلُ الحدیث إنّمایُنْکِرُ صُدُورَ اللَّفْظِ عن النبيّ صلى الله عليه وسلم‘‘.
’’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک من گھڑت حدیث، صحیح معنی پر مشتمل ہوتی ہے، پس جب ایک عامی شخص کسی محدث سے یہ سن لے کہ یہ حدیث من گھڑت ہے، تو اسے یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ یہ محدث تو اس حدیث کے معنی اور مضمون کو باطل قرار دے رہا ہے،بس یہی شدید جہالت ان کی فطرتوں میں اتری ہوئی ہے… خلاصۂ کلام یہ ہے کہ محدث تو صرف اس بات کا انکار کرتا ہے کہ یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہیں‘‘ (ہاں! یہ ممکن ہے کہ اس کا معنی کسی دوسری روایت سے ثابت ہو)۔
اسی فریضے کے پیش ِ نظر، ذیل میں ایک ایسی روایت بیان کی جائے گی جو محدثین کے نزدیک بے اصل ہے، اس لئے اسے بیان کرنا درست نہیں ہے، البتہ اس کے معنی پر مشتمل دیگر معتبر حدیثیں اس بے اصل روایت سے مستغنی کرنے والی ہیں، لہذا صرف ان مقبول حدیثوں کو بیان کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
[1] كوثر النبي:العلم،ص:249،المخطوط،نَسَخَه العلامة عبد الله الولهاري(1283هـ) .
[2] تفسير الفخر الرازي:سورة يونس:17/270،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[3] اللآلئ المنثورة:في الفضائل،166،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة 1406 .
[4] المقاصد الحسنة:حرف العين،332،رقم:700،ت:عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1427هـ .
[5] الدرر المنتثرة:188،رقم:293ت:محمد عبد القادر عطا،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۸هـ.
[6] الفوائد المجموعة:في فضائل العلم،286،رقم:47،ت:عبد الرحمن بن يحيي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة1416هـ .
[7] سير أعلام النبلاء:الحسيني،18/524،ت:شعيب أرنؤوط ومحمد نعيم العرقسوسي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت ،الطبعة الأولى1405هـ .
[8] أسنى المطالب:1/184،رقم:889 ،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[9] المصنوع:123،رقم:196،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید ـ کمپنی ـ کراچی .
[10] المصنوع:شذرات في بيان بعض الإصطلاحات،ص:18،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید ـ کمپنی ـ کراچی .
[11] المقاصد الحسنة:حرف العين،332،رقم:701،ت:عبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1427هـ .
[12] روح البيان:سورة البقرة:الآية:1/248،دار احياء التراث العربي ـ بيروت.
[13] المصنوع:ص:142،رقم:232،ت:الشيخ عبد الفتاح أبو غدة،ایچ ـ ایم ـ سعید ـ کمپنی ـ کراچی .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک مؤمن عورت کی نیکی ستر صدیقین کے عمل کی طرح ہے، اور ایک فاجر عورت کی برائی ہزار فاجر مردوں کی طرح ہے۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المَعْرِفَةُ رَأسُ مَالِي...‘‘. اﷲ کی معرفت میرا سرمایہ ہے۔۔۔‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: ’’مسجد میں باتیں کرنا، نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے،جس طرح چوپایہ گھاس کھاتا ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ روایت ان الفاظ سے منقول ہے: ’’مسجد میں جائز گفتگو بھی نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے،جس طرح آگ لکڑیوں کو‘‘۔
روایت: ’’ کنتُ کَنْزاً مَخْفِیًّا لا أعْرَفُ ...‘‘. ’’میں ایسا چھپا ہوا خزانہ تھا کہ جسے کوئی پہچانتا نہیں تھا۔۔۔‘‘۔