روایت: ’’من صلى الفجر في جماعة، وخرج من المسجد فمر بعشرين نفسا فسلم عليهم، ثم مات في ذلك اليوم غفر له‘‘.جو شخص نمازِ فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے، اور مسجد سے باہر جائے اوربیس افراد پر گزرتے ہوئے اُنھیں سلام کرے، پھر اگر یہ شخصاسی دن مرگیا تو اس کی بخشش ہوجائے گی۔
حکم: من گھڑت۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الزيادات على الموضوعات:1/411،رقم:487،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1431هـ .
[2] الزيادات على الموضوعات:1/411،رقم:487،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1431هـ .
[3] تذكرة الموضوعات:ص:164،دار أحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الثانية1399هـ .
[4] الفوائد المجموعة:1/235،رقم:54،ت:عبد الرحمن بن يحيي المعلمي اليماني،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة1416هـ .
[5] تنزيه الشريعة:2/119،رقم:120،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .
[6] تاریخ بغداد:۳/۴56، رقم: ۹۸۳، ت:بشار عواد،دار الغرب الإسلامی ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[7] الضعفاء والمتروکین:۳/۷۹،رقم:۳۰۸۸،ت:عبدالله القاضی،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[8] المغني في الضعفاء:2/223،رقم:5702،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
ملتی جلتی احادیث
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
حکایت: ابومعلق تاجرصحابیr کا ڈاکو سے حفاظت کی نماز میں ایک خاص دعا کرنا، اور فرشتہ کا اس ڈاکو کو نیزہ سے قتل کرنا۔
روایت: ’’ إنما خلقت الخلق ليربحوا علي، ولم أخلقهم لأربح عليهم‘‘. میں نے مخلوقات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ وہ مجھ سےنفع حاصل کریں، اور میں نے ان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ میںان سے نفع حاصل کروں۔
روایت: ’’من صبر على سوء خلق امرأته، أعطاه الله من الأجرمثل ما أعطى أيوب على بلائه ومن صبرت على سوءخلق زوجها أعطاها الله مثل ثواب آسية امرأة فرعون‘‘.جو شخص اپنی عورت کی بداخلاقی پر صبر کرے گا تو اللہ تعالی اس کو وہ اجردیں گے جو حضرت ایوب e کو ان کی بیماری پر صبر کرنے پر دیا گیا تھا،اور جو عورت اپنے شوہر کی بداخلاقی پر صبر کرے تو اللہ تعالی اس کوفرعون کی بیوی آسیہ علیہا السلام کے ثواب کے مثل عطاء کریں گے۔