التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا محمد یونس جونپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ’’جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے‘‘،ذہبی l فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔

تفصیل

’’سوال: ×وفي رواية: لما أمره بالهجرة إليها قال: أللهم إنك أخرجتني من أحب بلادك إلي فأسكني في أحب بلادك إليك.

جواب:  الحديث الثاني [أي: هذا] أخرجه الحاكم في مستدركه (۳/۳) في كتاب الهجرة عن أبي هريرة  رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أللهم إنك أخرجتني من أحب البلاد إلي فأسكني في أحب البلاد إليك، فأسكنه الله المدينة. قال الحاكم: رواته مدنيون من بيت أبي سعيد المقبري .

قال الذهبي: لكنه موضوع، فقد ثبت أن أحب البلاد إلى الله مكة، وسعد ليس بثقة÷[1] ‘‘.

[سوال: ایک روایت میں ہے: جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے ۔

جواب: دوسری حدیث (یعنی یہی حدیث) حاکم l نے ’’مستدرک‘‘ میں کتاب الہجرہ میں ابوہریرہ r  سے تخریج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں، سو مجھے اپنے محبوب ترین شہر میں آباد کر دیجئے، چنانچہ اللہ نے آپ کو مدینہ میں آباد کردیا۔

حاکم l فرماتے ہیں: اس روایت کے راوی مدنی ہیں، ابو سعید مقبری کے گھرانے کے لوگ ہیں۔

ذہبی l فرماتے ہیں: لیکن یہ موضوع ہے، کیونکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین شہر مکہ ہے، اور (سند میں موجود) سعد ثقہ نہیں ہے ][2]۔

حوالہ جات

[1] الیواقیت الغالیۃ:بعض روایات کی تحقیق وتخریج،۲/۱۵۷۔

[2] حافظ ابن حزم l نے ’’المحلى بالآثار‘‘ (۷/ ۲۸۶)میں اسےمن گھڑت کہا ہے،حافظ ابن عبدالبرl ’’الاستذکار‘‘ (۷/ ۲۳۷)میں فرماتے ہیں کہ اس کے من گھڑت اور منکر ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، حافظ ابن تیمیہl ’’مجموع الفتاوى‘‘ (۱۸/ ۷۳)میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث باطل،جھوٹ ہے،حافظ ابن کثیرl نے ’’البدايۃ والنہايۃ‘‘ (۴/ ۵۰۷)میں اسے غریب جداً کہا ہے،حافظ ابن حجرl نے ’’اتحاف المہرة‘‘ (۱۴/۶۷۹، رقم:۱۸۴۶۹)میں اس کے منکر ہونے کی جانب اشارہ کیاہے۔

حافظ سخاویl نے ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص:۱۱۲)میں،حافظ سیوطیl نے ’’الدرر المنتثرة‘‘ (ص:۵۳) میں،حافظ زرکشیl نے ’’التذكرة‘‘ (ص:۱۷۱)میں، ملاعلی قاری l نے ’’مرقاة المفاتيح‘‘ (۵/۶۱۲) میں، علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخَفَاء‘‘ (۱/۲۱۶)میں، علامہ محمد بن محمد درویش الحوت l نے ’’اسنى المطالب‘‘ (ص:۷۱)میں، علامہ احمد الغزیl نے ’’الجد الحثيث‘‘ (ص:۵۴) میں حافظ ابن عبدالبرl کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔

علامہ قاؤقجیl نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (ص:۴۷)میں،علامہ محمد امیر مالکیl نے ’’النخبۃ البہیہ‘‘ (رقم:۳۸) میں اسے من گھڑت کہا ہے۔

ملتی جلتی احادیث