روایت: ’’جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے‘‘،ذہبی l فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×وفي رواية: لما أمره بالهجرة إليها قال: أللهم إنك أخرجتني من أحب بلادك إلي فأسكني في أحب بلادك إليك.
جواب: الحديث الثاني [أي: هذا] أخرجه الحاكم في مستدركه (۳/۳) في كتاب الهجرة عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أللهم إنك أخرجتني من أحب البلاد إلي فأسكني في أحب البلاد إليك، فأسكنه الله المدينة. قال الحاكم: رواته مدنيون من بيت أبي سعيد المقبري .
قال الذهبي: لكنه موضوع، فقد ثبت أن أحب البلاد إلى الله مكة، وسعد ليس بثقة÷[1] ‘‘.
[سوال: ایک روایت میں ہے: جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے ۔
جواب: دوسری حدیث (یعنی یہی حدیث) حاکم l نے ’’مستدرک‘‘ میں کتاب الہجرہ میں ابوہریرہ r سے تخریج کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں، سو مجھے اپنے محبوب ترین شہر میں آباد کر دیجئے، چنانچہ اللہ نے آپ کو مدینہ میں آباد کردیا۔
حاکم l فرماتے ہیں: اس روایت کے راوی مدنی ہیں، ابو سعید مقبری کے گھرانے کے لوگ ہیں۔
ذہبی l فرماتے ہیں: لیکن یہ موضوع ہے، کیونکہ یہ ثابت شدہ ہے کہ اللہ کے نزدیک محبوب ترین شہر مکہ ہے، اور (سند میں موجود) سعد ثقہ نہیں ہے ][2]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:بعض روایات کی تحقیق وتخریج،۲/۱۵۷۔
[2] حافظ ابن حزم l نے ’’المحلى بالآثار‘‘ (۷/ ۲۸۶)میں اسےمن گھڑت کہا ہے،حافظ ابن عبدالبرl ’’الاستذکار‘‘ (۷/ ۲۳۷)میں فرماتے ہیں کہ اس کے من گھڑت اور منکر ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، حافظ ابن تیمیہl ’’مجموع الفتاوى‘‘ (۱۸/ ۷۳)میں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث باطل،جھوٹ ہے،حافظ ابن کثیرl نے ’’البدايۃ والنہايۃ‘‘ (۴/ ۵۰۷)میں اسے غریب جداً کہا ہے،حافظ ابن حجرl نے ’’اتحاف المہرة‘‘ (۱۴/۶۷۹، رقم:۱۸۴۶۹)میں اس کے منکر ہونے کی جانب اشارہ کیاہے۔
حافظ سخاویl نے ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ (ص:۱۱۲)میں،حافظ سیوطیl نے ’’الدرر المنتثرة‘‘ (ص:۵۳) میں،حافظ زرکشیl نے ’’التذكرة‘‘ (ص:۱۷۱)میں، ملاعلی قاری l نے ’’مرقاة المفاتيح‘‘ (۵/۶۱۲) میں، علامہ عجلونی l نے ’’ کشف الخَفَاء‘‘ (۱/۲۱۶)میں، علامہ محمد بن محمد درویش الحوت l نے ’’اسنى المطالب‘‘ (ص:۷۱)میں، علامہ احمد الغزیl نے ’’الجد الحثيث‘‘ (ص:۵۴) میں حافظ ابن عبدالبرl کے کلام پر اکتفاء کیا ہے۔
علامہ قاؤقجیl نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (ص:۴۷)میں،علامہ محمد امیر مالکیl نے ’’النخبۃ البہیہ‘‘ (رقم:۳۸) میں اسے من گھڑت کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تمہاری دنیا میں، تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے،اس کے بعد حضرت ابوبکرr نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی تین چیزیں محبوب ہیں .... پھر حضرت عمر r نے بھی یہی فرمایا،اور ان کے بعد حضرت عثمان r و حضرت علی r نے بھی اپنی تین محبوب چیزیں ذکر کیں‘‘، آپ اس کی کوئی صحیح یا حسن یا ضعیف سند ہی نہ پائیں گے۔
روایت: ’’مجھے میرے رب نے تعلیم دی اور مجھے علم میں خوب اچھا بنایا، مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور مجھے ادب میں خوب اچھا بنایا‘‘، جملہ اول تو کہیں نہیں دیکھا، البتہ دوسرے جملے کے بارے میں حافظ ابن تیمیہ l وحافظ سخاوی l فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی ثابت سند نہیں ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔