التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”جو شخص مجھ کو ماہ ِصفر کے گذرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا“، یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔

تفصیل

’’بعض کتبِ تصوف میں ایک حدیث لکھ دی ہے  کہ {من بشّرني بخروج صفر بشّرته بالجنة}. یعنی حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مجھ کو ماہِ صفر کے گذرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا، آہ! [كذا في الأصل]، اس سے بعض نے اس ماہ کی نحوست پر استدلال کیا ہے، مگر یہ دلیل ثبوتاً  اور دلالتًہ دونوں طرح مخدوش ہے، یعنی نہ تو یہ حدیث سے ثابت ہے، اور نہ یہ اس  مضمون  پر  دال  ہے ۔۔۔“[1]۔

حوالہ جات

[1] زوال السِنہ عن اعمال السَنہ، یعنی سال بھر کے مسنون اعمال :صفر المظفر، ص: ۸،ادارہ اسلامیات، لاہور ۔

علامہ صغانی    ؒ نے ”موضوعات“ (رقم:۱۰۰) میں،علامہ اسماعیل عجلونی    ؒ نے ”كشف الخفاء“ (رقم:۲۴۱۸)میں، علامہ شوکانی   ؒ نے ”الفوائد المجموعہ“ (رقم:۱۲۶۰) میں، ملاعلی قاریؒ نے”الاسرار المرفوعہ“ (ص:۳۲۴) میں، علامہ محمد بن طاہر پٹنی ؒ نے ”تذكرة الموضوعات“ (ص:۱۱۶)میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے۔