التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔

تفصیل

’’سوال: {لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. [اپنے پیٹ کوجانوروں کی قبر نہ بناؤ] حدیث ہے یا نہ؟ اور حدیث تم رحم کرو زمین والوں پر آسمان والا تم پر رحم فرمادے گا، درست ہے یا نہ؟

جواب: {لاتجعلوا بطونكم} الخ کوئی حدیث نہیں ہے، یہ قول غلط ہے، تم رحم کرو زمین والوں پرالخ،یہ حدیث اس طرح ہے: {ارحموا من في الأرض يرحمكم من السماء}. [تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا] شروع اس حدیث کا اس طرح ہے: {الراحمون يرحمهم الرحمن. الحديث}. [رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے]  فقط،والله تعالى ٰاعلم‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :یہ حدیث نہیں ہے کہ تم اپنے پیٹوں کو جانوروں کا قبرستان مت بناؤ، ۱۸/۱۶۰ مکتبہ حقانیہ ملتان۔

واضح رہے کہ علماء کی ایک جماعت نے اسے بعض حکماء کا قول قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ علی بن عقیل بغدادی حنبلی l  (۴۳۱ھ/۵۱۳ھ)  ’’ کتاب الفنون‘‘ (ص:۲۰۳)میں لکھتے ہیں :

{إن جاء الحكماء بما واطأ العقل، كقول القائل منهم للتلاميذ استثارة للرحمة والرأفة: يا هؤلاء! لا تجعلوا بطونكم مقابر الحيوان! ... }.

علامہ عبدالرؤف مناوی l  ’’فیض القدیر‘‘(۲/۵۲)میں لکھتے ہیں: {وكبعض الحكماء حيث قال: يا أبناء الحكمة! لا تجعلوا بطونكم قبورا للحيوان}.

علامہ عبد الله بن سعيدلَحْجِی مكیl (۱۳۴۳ھ/۱۴۱۰ھ) {منتهى السؤل على وسائل الوصول} (۲/۱۲۳)میں لکھتے ہیں: {وقال بقراط: لا تجعلوا بطونكم مقابر للحيوان، انتهى زرقاني}.