{لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. اپنے پیٹ کو جانوروں کی قبر نہ بناؤ‘‘، یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: {لاتجعلوا بطونكم مقابر الحيوانات}. [اپنے پیٹ کوجانوروں کی قبر نہ بناؤ] حدیث ہے یا نہ؟ اور حدیث تم رحم کرو زمین والوں پر آسمان والا تم پر رحم فرمادے گا، درست ہے یا نہ؟
جواب: {لاتجعلوا بطونكم} الخ کوئی حدیث نہیں ہے، یہ قول غلط ہے، تم رحم کرو زمین والوں پرالخ،یہ حدیث اس طرح ہے: {ارحموا من في الأرض يرحمكم من السماء}. [تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا] شروع اس حدیث کا اس طرح ہے: {الراحمون يرحمهم الرحمن. الحديث}. [رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے] فقط،والله تعالى ٰاعلم‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :یہ حدیث نہیں ہے کہ تم اپنے پیٹوں کو جانوروں کا قبرستان مت بناؤ، ۱۸/۱۶۰ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
واضح رہے کہ علماء کی ایک جماعت نے اسے بعض حکماء کا قول قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ علی بن عقیل بغدادی حنبلی l (۴۳۱ھ/۵۱۳ھ) ’’ کتاب الفنون‘‘ (ص:۲۰۳)میں لکھتے ہیں :
{إن جاء الحكماء بما واطأ العقل، كقول القائل منهم للتلاميذ استثارة للرحمة والرأفة: يا هؤلاء! لا تجعلوا بطونكم مقابر الحيوان! ... }.
علامہ عبدالرؤف مناوی l ’’فیض القدیر‘‘(۲/۵۲)میں لکھتے ہیں: {وكبعض الحكماء حيث قال: يا أبناء الحكمة! لا تجعلوا بطونكم قبورا للحيوان}.
علامہ عبد الله بن سعيدلَحْجِی مكیl (۱۳۴۳ھ/۱۴۱۰ھ) {منتهى السؤل على وسائل الوصول} (۲/۱۲۳)میں لکھتے ہیں: {وقال بقراط: لا تجعلوا بطونكم مقابر للحيوان، انتهى زرقاني}.
ملتی جلتی احادیث
{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. ’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، کسی بزرگ کا قول ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
{عند ذكر أولياء الله تنزل الرحمة}. اللہ کے اولیاء کے تذکروں میں اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے‘‘، یہ کسی بزرگ کا مقولہ ہے، غالباً حدیث نہیں ہے۔
{لايسعني سمائي ولا أرضي ولكن يسعني قلب عبدي المؤمن}. میرے آسمان اور زمین مجھے نہیں سما سکے،البتہ میرے مومن بندہ کا دل مجھے اپنے میں سما لیتا ہے‘‘، ان الفاظ سے اس حدیث کی کچھ اصل نہیں ہے،البتہ اس کے ہم معنی ایک دوسری حدیث ثابت ہے۔
{أوتيت علم الأولين والآخرين}. مجھے اولین وآخرین کا علم ملا ہے‘‘، یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نظر سے نہیں گزری۔