التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’حضرت خاتم النبوت ﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آجانا‘‘، ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی۔

تفصیل

’’سوال: آیا رسول اللہﷺ کا معجزہ یعنی پائے مبارک حضرت خاتم النبوتﷺ کے نیچے پتھر کا موم ہو کر قدم پاک کا نقشہ پتھر پر آجانا کہیں  ’’صحاح  ستہ‘‘ یا دوسری حدیث کی کتابوں یا دیگر معتبرکتابوں سے ثابت ہوتا ہے یا نہیں ؟

جواب: (ازنائب مفتی دار العلوم دیوبند ) آج کل جو بعض لوگ ایک نشان لئے پھر تے ہیں اور اس کو نقش اور نشان قدم مبارک آنحضرت ﷺ کا بتاتے ہیں، یہ قول ان کا صحیح نہیں ہے، یہ نشان مصنوعی اور بناوٹی ہے۔ فقط، واللہ اعلم!

جواب: (از حضرت شیخ السلام مولانا السید حسین احمد مدنی قدس سرہ) جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات بہت زیادہ اور نہایت عظیم ہیں، ان کے سامنے پتھر کا مثل موم بن جانا اور نقش قدم اس پر پڑجانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا، یہ تو ادنیٰ بات ہے، مگر اس وقت تک میری نظر سے کسی حدیث یا سیر کی کتابوں میں سے کسی کتاب میں یہ معجزہ نہیں گزرا۔

جواب: (حضرت مفتی اعظمl)  اگر چہ پتھر پر نشان قدم مبارک آنحضرت ﷺ کا بطور معجزہ کے نقش ہوجانا مستبعد نہیں، مگر اس کے باوَر [اعتماد]کرنے کے لئے سند اور روایت کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی سند اور روایت نظر میں نہیں آئی،‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1]  کفایۃ المفتی: آنحضرتﷺ کے قدم مبارک کا نقش بطور معجزہ پتھر پرنقش ہوجانا ، ۱/۱۱۷، دار الاشاعت کراچی۔

ملتی جلتی احادیث