روایت:’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو یا اس کے پاس سے گزرے، اور اس نے سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص اور سورۂ تکاثرایک بار پڑھی، اور پھر اس نے کہا: (اے اللہ!) میں نے تیرے کلام میں سے جو پڑھا، میں اس کا ثواب قبرستان کے مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے کرتا ہوں، نبیﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اس بندے کےلئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہوں گے، باوجودیکہ میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا، شفاعت کی اجازت دئیے جانے والا ہوں گا‘‘۔
حکم: شدید ضعیف ہے، بیان نہیں کرسکتے۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] انظر مجموع فيه المنتقى من فوائد أبي القاسم الزنجاني:ص:78،رقم:58،ت:بدر العمراني الطنجي، دار الحديث الكتانية ـ بيروت،الطبعة الأولى1433هـ .
[2] کتاب الموضوعات:1/328،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[3] انظرلسان المیزان:1/472،رقم:530،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[4] لسان المیزان:1/472،رقم:530،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[5] لسان الميزان:1/681،رقم:874،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[6] سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد:2/186ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۱۴هـ.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ تعالی نے عرش کے نیچے ایک فرشتہ تخلیق فرمایا ہے، جس کا سر آدمی کے سر کی مانند ہے، اس کے ستر ہزار پر ہیں، ہر پر کے اوپر فرشتوں کی ایک جماعت ہے، اس کے دائیں رخسار پر سورۂ اخلاص لکھی ہوئی ہے، اور بائیں رخسار پر آیت ’’شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ‘‘لکھی ہوئی ہے، اور اس کی پیشانی پر فاتحہ لکھی ہوئی ہے، اور اس کے سامنے ستر ہزار فرشتے صف باندھ کر فاتحہ پڑھتے ہیں، سو جب وہ کہتے ہیں:’’إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ‘‘تو سب سجدہ میں چلے جاتے ہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں: سر اٹھاؤ، میں تم سے راضی ہوچکا ہوں، وہ عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! آپ امت محمد ﷺ کے ان لوگوں سے راضی ہوجائیں جو فاتحہ پڑھتے ہیں، سو اللہ تعالی فرماتے ہیں: تم گواہ رہو کہ میں ان سے راضی ہوگیا ہوں‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت:’’یہودیوں کی ایک جماعت کا آپﷺ سے چند سوال کرنا: 1 پانچ نمازوں اور ان کے ثواب سے متعلق 2 رمضان کے تیس روزوں اور ان کے ثواب سے متعلق 3 آپﷺ کی نبیوں پر کیا فضیلت ہے؟ آپﷺ کے جوابات سننے کے بعد یہودی ایمان لے آئے‘‘۔
روایت: ’’حضرت ابو بکر صدیق r کی رفاقت حضور اقدس ﷺ کےساتھ شام کے سفر میں ہوئی تھی، جب ان کی عمر اٹھارہ سال کی تھی، اور حضور ﷺ کی عمر شریف بیس سال کی تھی، اس سفر میں راستہ میں ایک بیری کے درخت کے پاس ان دونوں حضرات کا قیام ہوا، وہاں ایک راہب تھا، حضرت ابو بکر r اس سے ملنے تشریف لے گئے، اور حضور ﷺ درخت کے سایہ میں تشریف فرما رہے، اس راہب نے حضرت ابو بکر r سے پوچھا کہ یہ شخص جو درخت کے نیچے ہے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب، راہب نے کہا: خدا کی قسم! یہ نبی ہیں، حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے بعد سے اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھا، یہی نبی آخر الزماں ﷺہیں، جب حضور ﷺ کی عمر شریف چالیس سال کی ہوئی اور آپ کو نبوت ملی تو حضرت ابو بکر r مسلمان ہوئے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الدعاء سلاح المؤمن، وعماد الدين، ونور السماوات والأرض‘‘. دعا مؤمن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے‘‘۔