’’عہد نامہ‘‘ کے پڑھنے میں کچھ حرج نہیں، مگر اس کا ثواب جو لکھا ہے وہ غلط ہے۔
تفصیل
’’سوال: عہد نامہ‘‘ ایک چھوٹی کتاب ہے، اور اس کے پڑھنے کا ثواب حد درجہ لکھا ہے، یہ ’’عہد نامہ ‘‘ اور اس کی اسناد معتبر ہے یا غیر معتبر ؟
جواب: ’’عہد نامہ‘‘ کے پڑھنے میں کچھ حرج نہیں، مگر اس کا ثواب جو لکھا ہے وہ غلط ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : عہد نامہ کا پڑھنا ، ص: ۲۲۲، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت معاویہ r نے حضرت امام حسین r سے اقرار نامہ لکھا تھا کہ تا زندگی یزید کو ولی عہد نہ کروں گا‘‘، یہ بات واہی ہے۔
’’وقتِ ذکرِ ولادت کے ملائکہ کا نزول ہوتا ہے‘‘، بالکل غلط ہے، کسی روایت میں یہ نہیں لکھا۔
میت کو دفن کرنے کے بعد اول آخر سورہ ٔ بقرہ پڑھنا تو حدیث میں وارد ہے، مگر قبر پرانگلی رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔
درودِتاج کی تعلیم دینا اسی طرح ہے کہ عوام کو زہرِ قاتل دےدیا جائے، عوام کے عقیدہ کی خرابی کی وجہ سے اس کا پڑھنا ممنوع ہے۔
’’منافقوں کا آستین میں بت رکھ کر نماز پڑھنا، اور پھر حالت نماز میں آں حضرت ﷺ کو حکم ہوناکہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو‘‘، یہ قصہ سراسر غلط ہے، جہلاء روافض کی گھڑت ہے۔