روایت: ’’عدلِ فاروقی کا مشہور قصہ جس میں حضرت عمر r نے اپنے بیٹے کی قبر پر کوڑے مارے‘‘، یہ بے اصل ہے،اور صحیح قصہ دوسرا ہے۔
تفصیل
’’سوال: ماہنامہ ’’حسن اخلاق‘‘ کے اندر مضمون شائع کیا ہے : ’’عدلِ فاروقی کی ایک جھلک‘‘ تفصیل مندرجہ ذیل ہے کہ حضرت عمر فاروق r کے دورِ خلافت میں آپ کے ایک صاحبزادہ ابو شحمہ عبد الرحمن نے ایک عورت سے بنی نجار کے باغ میں شراب کے نشہ میں زنا کیا، عورت کو اس حرام کاری سے بچہ پیدا ہوا، عورت اس بچہ کو لے کر دربارِ خلافت میں حاضر ہوئی اور دعوی کیا کہ حضرت یہ آپ کا بچہ ہے، آپ نے اس واقعہ کی تحقیق کے بعد ابو شحمہ پر حدِ رجم جاری کیا اور اسی حالت میں اس بچے کا انتقال ہو گیا۔
رسالہ ’’البدر‘‘ جو لکھنؤ سے مولانا عبد العلی صاحب فاروقی لکھنوی شائع کر تے ہیں، انہوں نے اس کی تکذیب کی، اور فرمایا کہ یہ یہودیوں کی حضرت عمر r پر بہتان اور افترا پردازی ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، تو حضرت آپ سے رجوع کرنا پڑا، جواب سے ضرور نوازیں گے ۔
جواب: یہ واقعہ موضوع ہے، ابن الجوزی l نے اس کو موضوع کہا ہے، علامہ سیوطیl نے ’’اللآلی‘‘(ص :۱۹۸/۲) اور ابن عرَّاق نے ’’تنزيہ الشريعۃ‘‘ میں (ص :۱۲۲/۲) ان کی موافقت کی ہے، اسی طرح ان کی لاش یا قبر پر کوڑ ے مارنے کا قصہ مشہور ہے،لیکن بے اصل ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ : عدلِ فاروقی کے ایک واقعہ کی تحقیق،۲/ ۳۸۶۔
اس روایت کو مذکوہ مشہور تفصیل کے ساتھ حافظ جَوزَقانی l نے ’’الاباطيل والمناكير‘‘ (ص:۲۹۰) میں،حافظ ذہبی l نے ’’تلخيص الموضوعات‘‘ (ص:۳۵۸)میں اور حافظ ابن حجر l نے ’’الاصابۃ‘‘ (۷/ ۱۰۱)میں من گھڑت کہا ہے۔
اس قصہ میں ابو شحمہ کی جانب زنا کو منسوب کرنا،نیز یہ کہنا کہ حضرت عمر r نے اس پر ان کو کوڑے مارے،حتی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی قبر پر بقیہ کوڑے مارے،یہ سب من گھڑت ہے،البتہ صرف اتنا ثابت ہے کہ مصر میں ابو شحمہ نے نبیذ پی لی تھی،جس میں نشہ تھا،آپ نے حضرت عمرو بن عاص r سے اصرار کیا کہ مجھے اس پر کوڑے لگائے جائیں،حضرت عمرو بن عاص r نے اپنے گھر کے اندر انھیں کوڑے لگوائے،اسے حضرت عمر r نے ناپسند کیا کہ ابو شحمہ کو عام مسلمانوں کی طرح برسرِعام کوڑے کیوں نہیں مارے،چنانچہ حضرت عمر r نے انھیں مدینہ میں دوباہ برسرِعام کوڑے مارے،بعد میں اتفاق سے ابو شحمہ طبعی طور پر بیمار ہو گئے اور ان کا انتقال بھی ہو گیا،یہ نہیں کہ کوڑے لگنے سے انتقال ہوا ہے،لیکن لوگوں نے اس واقعہ کےساتھ دیگر من گھڑت باتیں چسپاں کر کے مشہور کر دیں۔روایت ہذا کی مزید تفصیل کے لئے دیکھئے : غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول،ص:۷۲)۔
ملتی جلتی احادیث
’’مصنف عبد الرزاق‘‘ میں مذکور حضرت فاطمہ R کے نکاح کا قصہ، من گھڑت ہے،اور ’’صحیح ابن حبان‘‘ میں مذکور اسی جیسا واقعہ بھی نکارت پر مبنی ہے۔
روایت: ’’جو جماعت یا طالب علم جس قبر ستان کے قریب سے گزرتے ہیں اس قبرستان کے مردوں کا چالیس روزتک قبر کا عذاب معاف ہو جاتا ہے‘‘۔
یہ روایت بے اصل ہے۔
یہ حدیث جو عمر بن خیام جنّی کے نام سے شائع کی جارہی ہے متعدد وجوہ سے غیر معتبر ہے۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تمہاری دنیا میں، تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے،اس کے بعد حضرت ابوبکرr نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی تین چیزیں محبوب ہیں .... پھر حضرت عمر r نے بھی یہی فرمایا،اور ان کے بعد حضرت عثمان r و حضرت علی r نے بھی اپنی تین محبوب چیزیں ذکر کیں‘‘، آپ اس کی کوئی صحیح یا حسن یا ضعیف سند ہی نہ پائیں گے۔
روایت: ’’حضورِ قلب کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘،یہ قصہ گوواعظوں کی حدیث ہے، میں اب تک ان الفاظ کے ساتھ اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں۔