عمرہ حج اصغر ہے،اور ہر ایک حج، حج اکبر ہے۔
تفصیل
’’سوال: جمعہ کے روز جو حج ہوتا ہے اس کو حج اکبری کہتے ہیں، اس کی کچھ اصل ہے یا نہیں، اور جمعہ کے حج میں زیادہ فضیلت ہے یا نہیں؟
جواب: اس کی اس قدر اصل ہے کہ آنحضرت ﷺ جو اخیر حج کیا تھا وہ جمعہ کا دن ہوا تھا اور اس کے بارہ میں آیت: (وَأَذَانٌ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ). الآیۃ نازل ہوئی، باقی ویسے حج اکبر بمقابلہ حج اصغر کے ہے، عمرہ حج اصغر ہے اور ہر ایک حج، حج اکبر ہے۔ فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :جمعہ کو جو حج ہوتا ہے اسے اکبری کہتے ہیں اس کی اصل کیا ہے؟۶/۴۸۱ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے ’’زاد المعاد‘‘ (۱/۶۵) میں اسے (یعنی حدیث : جمعہ کے دن کا حج، حج اکبر ہے) باطل کہا ہے،نیز حافظ ابن حجر l نے ’’فتح الباری‘‘ (۸/۲۷۰) میں کہا ہے کہ مجھے اس حدیث کی معرفت نہیں ہے،علامہ زرقانی l نے ’’شرح موطأ ‘‘ میں، اور علامہ مناوی l نے ’’فیض القدیر‘‘ میں حافظ ابن حجر l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے،علامہ شامی l نے ’’رد المحتار‘‘ (۴/۴۷) میں علامہ مناوی l کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ بعض حفاظ نے اسے باطل،بے اصل کہا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ اول،ص:۲۸۹۔
ملتی جلتی احادیث
آیت: {يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا}. کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ بالکل غلط ہے۔
1 ’’جو شخص تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے 2 جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو‘‘، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے۔
’’ارواحِ مؤمنین ہر جمعہ کی شب کو اپنے اہل وعیال میں آتی ہیں‘‘، یہ کہیں ثابت نہیں ہے،یہ روایات واہیہ ہیں، اس پر ہرگز عقیدہ نہیں رکھنا چاہیئے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
مشہور قضاءِ عمری کی نماز بے اصل ہے۔