روایت:’’اللہ تعالی نے فرشتوں کو پیدا کرکے ان میں عقل رکھی، اور چوپایوں کو پیدا کرکے ان میں شہوت رکھی، اور بنی آدم کو پیدا کرکے اس میں عقل اور شہوت دونوں رکھی ہیں، تو جس کی عقل شہوت پر غالب آگئی وہ ملائکہ سے افضل ہے، اور جس کی شہوت عقل پر غالب آگئی وہ چوپایوں سے کمتر ہے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] مثنوي مولوي معنوي:4/149،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .
[2] ادب الدين والدنيا:ص:62،دار المنهاج ـ بيروت،الطبعة الأولى1434هـ .
علامہ ابو الحسن ماوردی l نے اسے ’’قال بعض العلماء‘‘ کہہ کر نقل کیا ہے۔
[3] مكاشفة القلوب:ص:21،ت:أحمدجاد،دار الحديث ـ القاهرة،الطبعة1425هـ .
[4] مفاتيح الغيب:2/253،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
[5] مجموع فتاوى:15/428،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة،الطبعة1425هـ .
حافظ ابن تیمیہ l نے اسے ’’أبوبکر عبد العزیز من أصحابنا وغيره‘‘ کی جانب منسوب کیا ہے، یعنی ابوبکر عبد العزیز بن جعفر (المتوفی ۳۶۳ ھ) جو غُلام خلاَّل سے مشہور ہے۔
[6] مدارج السالكين:2/334،ت:محمد المعتصم بالله البغدادي،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة السابعة1423هـ .
حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے ’’ كما قال بعض السلف‘‘ کہہ کر نقل کیا ہے۔
[7] بصائر ذوي التمييز:4/494،ت:محمد علي النجار،إحياء التراث الإسلامي ـ القاهرة،الطبعة الثالثة1416هـ .
علامہ مجد الدین فیروز آبادی l نے اسے ’’ كما قال بعض السلف‘‘ کہہ کر نقل کیا ہے۔
[8] انظر حاشية تبيين الحقائق:1/126،مكتبة امدادية ـ ملتان باكستان .
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد شلبی l نے اسے ’’وفي جامع الكردي‘‘ کہہ کر نقل کیا ہے۔
[9] روح البيان:2/9،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
علامہ اسماعیل حقی استنبولی l نے اسے ’’قالوا‘‘ کہہ کر نقل کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
روایت: ’’درج ذیل کلمات پڑھنے پر حضور ﷺکی سفارش کہ حساب نہ لیا جائے، اور یہ کہ اللہ تعالی نے بخش دیا:
’’اللهم آمنّا في أوطاننا، وأصلحنا وأصلح ولاة أمورنا، اللهم صل على محمد كلما ذكره الذاكرون، وكلما غفل عن ذكره الغافلون‘‘. اے اللہ! ہمارے وطنوں کو امن کا گہوارہ بنا، اور ہمیں نیک بنا اور ہمارے حاکموں کو نیک بنا، اے اللہ! محمدﷺ پر رحمت کاملہ نازل فرما جب بھی یاد کرنے والے انہیں یاد کریں اور جب بھی غافل ہونے والے ان سے غافل ہوں‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ علماء اور فقہاء سے دور بھاگیں گے، تو اللہ تعالی ان کو تین مصیبتوں میں مبتلا کردیں گے: 1 ان کی کمائی سے برکت اٹھا لی جائے گی، 2 اللہ تعالی ان پر ظالم بادشاہ مسلط کردیں گے، 3 وہ دنیا سے بغیر ایمان کے جائیں گے‘‘۔
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔