روایت: ایک صحابی r کا نبی ﷺ کی اتباع میں مانگ نکالنے کی چاہت کرنا، بال گھنگھریالے ہونے کی وجہ سے مانگ نہ نکلنا، پھر صحابی r کا مانگ نکالنے کےلئے اپنے سر کے درمیان گرم سلاخ کا پھیرنا۔
تفصیل
روایت: ایک صحابی r جو حبشہ کے رہنے والے تھے ان کے بال گھنگھریالے تھے، وہ نہانے کے بعد اپنے بالوں میں کنگھی کیا کرتے تھے، چونکہ ان کے بال سخت تھے اس لئے ان کی مانگ درمیان سے نہیں نکلتی تھی، انہیں روزانہ یہ افسوس ہوتا کہ میری مانگ کیوں نہیں نکلتی، ان کو اپنا سر اچھا نہیں لگتا تھا، کیونکہ وہ سوچتے تھے کہ میرے آقا تو مانگ نکالتے ہیں اور میرے بالوں میں تو مانگ نہیں نکلتی، ان کے دل میں بڑی مدت تک یہ حسرت اور تمنا رہی، ایک مرتبہ انہوں نے لوہے کی سلاخ اٹھائی اور اسے آگ کے اندر اچھی طرح گرم کیا اور پھر اسے اپنے سر کے درمیان پھیر کر ایک لکیر بنادی، اب جب گرم گرم سلاخ لگی تو سر کی جلد جل گئی، لوگوں نے کہا : یہ آپ نے کیا کیا؟ وہ کہنے لگے مجھے یہ تکلیف تو بھول جائے گی اور زخم بھی بھر جائے گا، لیکن اس جگہ کے جلنے کی وجہ سے وہاں بال نہیں رہیں گے، چنانچہ جب بھی میں اپنے سر کو دیکھوں گا تو مجھے اپنا سر اپنے محبوب s کے مبارک سر کی مانند نظر آئے گا۔
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’ آپﷺ کا حضرت علی r کے خادم کے کان میں کہنا کہ علی r کی شہادت تیرے ہاتھ سے ہوگی‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے معراج کی رات اپنی امت کی کچھ عورتوں کو مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا پایا: 1 ایک عورت پردہ نہ کرنے کی وجہ سے بالوں کے بل لٹکائی گئی تھی 2 ایک عورت شوہر کو تکلیف دینے کی وجہ سے زبان کے بل لٹکائی گئی تھی 3 غسل جنابت، غسل حیض نہ کرنے اور نماز کا مذاق اڑانے کی وجہ سے ایک عورت کے پیر اس کے پستانوں سے اور ہاتھ پیشانی سے بندھے ہوئے تھے 4 شوہر کے بستر میں ایذاء کا سبب بننے کی وجہ سے ایک عورت پستانوں کے بل لٹکائی گئی تھی 5 چغل خوری اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ایک عورت کاسر خنزیر کے سر کی طرح، جسم گدھے کے جسم کی طرح تھا 6 احسان جتلانے اور حسد کرنے کی وجہ سے ایک عورت کی شکل کتے کی شکل کی طرح تھی‘‘۔
روایت: ایک صحابیr کا بیوی کی خدمت سے خوش ہوکر ان سے کہنا کہ جو تم مانگو گی میں ضرور دوں گا، اس پر بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا، الحاصل پریشان ہوکر صحابی r بیوی کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے مشورہ کرنے گئے، راستے میں صحابی r کو ٹھوکر لگی، تو بیوی نے یہ کہہ کر طلاق کا مطالبہ چھوڑ دیا: اب تک تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچی تھی، اس لئے میں تمہیں منافق سمجھ رہی تھی، اور اب میں مطمئن ہوگئی ہوں۔