التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ششم)

حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ

حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔

حکم: مذکورہ آیت کی تفسیر میں یہ حکایت خاص اس سیاق سے سنداً نہیں ملی،تاہم حافظ ابن تیمیہ l نے آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کے قصہ کو جھوٹ قرار دیا ہے، بلکہ اسے بھی جھوٹ قرار دیا ہے کہ امم سابقہ میں اس نام کا کوئی شخص گزرا ہو، اس لئے اسے مذکورہ آیت شریفہ کی تفسیر میں بیان کرنا درست نہیں ہے۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] مثنوي مولوي معنوي:5/22۸،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .

[2] مثنوي مولوي معنوي:5/233،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .

[3] مثنوي مولوي معنوي:5/236،مترجم:قاضي سجاد حسين،حامد ایند کمبنی ـ لاهور .

[4] مجموع الفتاوى:16/59،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة،الطبعة1425هـ .

ملتی جلتی احادیث