روایت:ایک بچہ کا اپنی ماں کی گود میں حضرت یوسف e کی پاک دامنی کی گواہی دینا، اور حضرت یوسف e کا اس بچے کے جوان ہونے پر اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا، اور اس پر حضرت جبرئیل e کا یہ فرمانا: اللہ کریم اس مومن کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے جس نے پوری زندگی اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دی۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] خزينة الجواهر في زينة المنابر:ص:276،كاتب:محمد حسن السبزواري،دون ذكر مطبع،سنة1358هـ .
علی اکبر بن حسین نہاوندی شیعی کے ترجمہ کےلئے دیکھئے: (طبقات أعلام الشيعة:16/1599،رقم:2134،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الأولى1430هـ) .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔
روایت:آپ ﷺ کا بنی ہذیل کے ایک نوجوان شخص کو لشکر کا امیر مقرر کرنا، اور اس پر ایک شخص کا اعتراض کرنا کہ اسے امیر نہ بنائیں، کیونکہ آپ ہی کا فرمان ہے کہ پیشوا بوڑھا ہونا چاہئے، اور آپ ﷺ کا اس شخص سے فرمانا کہ اے ظاہر بیں! تو اس کو جوان اور بے ہنر نہ سمجھ ۔
روایت:’’ قسّام في النار‘‘.بانٹنے والا جہنمی ہے۔
روایت: ’’پیغمبرﷺ نے فرمایا:رزق کا دروازہ بند اور اس پر تالا لگا ہوا ہے، اس کی کنجی محنت، کوشش، اور کمانا ہے‘‘۔