قصہ جس میں شہد میں ایک بال دیکھ کر خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم نے اس کی مثال بیان کی، یہ مہمل قصہ ہے۔
تفصیل
”۔۔۔ اول ہی میں آپ نے [یعنی ایک واعظ نے ] ایک قصہ نقل کیا کہ ایک دن چاروں صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے یہاں جمع ہو گئے، حضرت علی r دعوت کے واسطے ہدیہ کے طور پر گھر میں سے شہد لائے، اس شہد میں ایک بال پڑا ہوا تھا، چاروں صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک دوسرے سے کہا کہ یہ جو بال ہے اس کی کوئی مثال سوچو،یہ کس چیز کی مثال ہے، چنانچہ کسی نے کچھ مثال دی کسی نے کچھ مثال پیش کی، اب مجھے کو [كذا في الأصل] یاد نہیں کہ یہ مثال کس نے دی، غلط مضامین کیا یاد رہتے، کسی نےکہا مومن کی فلاں حالت کے مشابہ ہے کسی نے کہا فلاں حالت کے مشابہ ہے۔
میں نے کہا،جب وعظ ختم کر چکے کہ اچھا یہ تو بتاؤ یہ قصہ جو تم نے نقل کیا وہ کون سی کتاب میں ہے: میری کتاب میں ہے یا مولانا محمد قاسم صاحب l کی کتاب میں ہے؟ کہنے لگے یہ تو یاد نہیں رہا کہ کس کتاب میں ہے، مگر ہاں دیکھا ہے کہیں، میں نے کہا یہ آپ کی احتیاط ہے کہ ایسا مہمل قصہ جو کسی اہلِ حق کی کتاب میں نہیں ہے، اس کو بیان کر دیا، اب تو سمجھ گئے کہ تم کووعظ کہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، مگر حضرت،انہوں نے نہیں مانا، برا بروعظ کہتے ہیں، تو گوارا کر لیا کہ مجھ سے تعلق نہیں رکھا، اور یہ گوارا نہ ہو سکا کہ وعظ کہنا چھوڑ دیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] خطبات حکیم الامت : خود بینی کے مضرات ،۱۰/۲۶۴ ، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان ۔
علامہ اسماعیل حقی استانبولی ؒ نے ”روح البيان“(۴/۳۷۷)میں یہ واقعہ ان الفاظ سے نقل کیا ہے:
{ومن الحكايات اللطيفة أن عليا رضي الله عنه مرض، فقال أبو بكر رضي الله عنه لعمر وعثمان رضي الله عنهما: إن عليا قد مرض فعلينا العيادة، فأتوا بابه وهو يجد خفة من المرض، ففرح فرحا فتموج بحر سخائه، فدخل بيته فلم يجد شيأ سوى عسل يكفي لواحد في طست، وهو أبيض وأنور، وفيه شعر أسود، فقال أبو بكر الصديق رضي الله عنه: لا يليق الأكل قبل المقالة، فقالوا: أنت أعزنا وأكرمنا وسيدنا فقل أولا، فقال: الدين أنور من الطست، وذكر الله تعالى أحلى من العسل، والشريعة أدق من الشعر، فقال عمر رضي الله عنه: الجنة أنور من الطست، ونعيمها أحلى من العسل، والصراط أدق من الشعر، فقال عثمان رضي الله عنه: القرآن أنور من الطست، وقراءة القرآن أحلى من العسل، وتفسيره أدق من الشعر، فقال علي رضي الله عنه: الضيف أنور من الطست، وكلام الضيف أحلى من العسل، وقلبه أدق من الشعر}.
ملتی جلتی احادیث
مقدمہ
” آپ ﷺ کا ردائے مبارک سو ٹکڑوں میں پھاڑ کر صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کرنا“، یہ روایت ثابت نہیں ہے۔
یہ قصہ کہ حضرت علی r نے اپنے صاحبزادے کو کسی سائل کو دے دیا اور اس نے بیچ ڈالا، بالکل غلط ہے اور لغو ہے۔
حضرت عمر r کا اپنے بیٹے ابو شحمہ پر حد نافذ کرنے کا مشہور قصہ موضوع وباطل ہے، صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
دورانِ نماز حضرت علی r کے بدن سے تیر نکالنے والا مشہور قصہ، بے اصل ہے۔