حکایت کہ شب برات میں حضرت فاطمہ R نے سویاں پکائیں، یہ محض تہمت ہے کہیں ثابت نہیں۔
تفصیل
”۔۔۔ اس [شب برات] کی نسبت ایک موضوع روایت مشہور کی ہے کہ حضرت فاطمہ R نے آٹا پکا کر مروڑ یاں جمع کر کے سویاں پکائی تھیں، یہ محض تہمت ہے کہیں ثابت نہیں ۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] اصلاح الرسوم :تیسری فصل،ص:۱۳۹،مکتبہ حقانیہ، ملتان ۔
علامہ لکھنوی ؒ نے اسی نوع کے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ ”اس بارے میں کوئی نص اثبات یا نفی کی صورت میں وارد نہیں“، دیکھئے:فتاویٰ عبد الحي ؒ(ص:۱۱۰)۔
علامہ پٹنی ؒ ” تذكرة الموضوعات“(ص:۴۴) میں اسی کے قائل ہیں،ملاحظہ ہو: {وفي بعض الرسائل قال علي بن إبراهيم: حدثت صلاة الرغائب بعد المائة الرابعة والثمانين سنة، ولا مزية لهذه الليلة عن غيرها، واتخاذها موسما وزيادة الوقود فيها بدعة، مما يترتب عليه من اللعب في المساجد وغيرها حرام، والإنفاق فيها والأكل من الحلواء وغيرها فيها، وأحاديث فضلها وفضل صلاتها كلها موضوعة بالاتفاق...}.
ملتی جلتی احادیث
حکایت کہ شب برات وغیرہ میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، اور دیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لئے کچھ پکا یا ہے یا نہیں، ثابت نہیں ہے۔
روایت: ”شب معراج میں حضور ﷺ کو نوے ہزار علوم عطا کئے گئے تھے، جن میں تیس ہزار خاص حضرت علی r کو عطا ہوئے ۔۔۔“، یہ گھڑی ہوئی روایت ہے۔
حکایت کہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ نہ رکھیں، کیونکہ یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا، یہ بھی محض بے اصل ہے۔
یہ کہنا کہ حضرت حمزہ r پندرہ شعبان کو فوت ہوئے ہیں، درست نہیں، بلکہ آپ r شوال میں فوت ہوئے ہیں۔
حکایت کہ حضرت غوث الاعظم l خود حضور ﷺ کی گیار ہویں کیا کر تے تھے، یہ ثابت نہیں ہے۔