میت کو دفن کرنے کے بعد اول آخر سورہ ٔ بقرہ پڑھنا تو حدیث میں وارد ہے، مگر قبر پرانگلی رکھنے کا ذکر نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: میت کو دفن کرنے کے بعد شہادت کی انگلی سرہانے اور پائنتیں[پاؤں کی جانب] رکھ کر دو شخص اول آخر سورۂ بقرہ پڑھتے ہیں، درست ہے یا نہیں ؟
جواب: اول آخر سورہ پڑھنا تو حدیث شریف میں وارد ہوا ہے، مگر خصوصیت انگلی کی نہیں ہے، فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] تالیفات رشیدیہ : قبر پر قرآن شریف پڑھنا، ص:۲۳۱، ادارہ اسلامیات لاہور ۔
حافظ ابن قیم الجوزیہ l نے ’’الروح‘‘ (ص: ۱۰) میں تدفین کے بعد میت پر اول آخر سورہ ٔ بقرہ کے دلائل ان الفاظ سے نقل کئے ہیں:
{وقد ذكر عن جماعة من السلف أنهم أوصوا أن يقرأ عند قبورهم وقت الدفن، قال عبد الحق: يروى أن عبد الله بن عمر أمر أن يقرأ عند قبره سورة البقرة، وممن رأى ذلك المعلى بن عبد الرحمن، وكان الإمام أحمد ينكر ذلك أولا حيث لم يبلغه فيه أثر ثم رجع عن ذلك.
وقال الخلال في الجامع: كتاب القراءة عند القبور، أخبرنا العباس بن محمد الدوري، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا مبشر الحلبي، حدثني عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج، عن أبيه قال: قال أبي: إذا أنا مت فضعني في اللحد، وقل: بسم الله وعلى سنة رسول الله، وسن علي التراب سنا، واقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة، فإني سمعت عبد الله بن عمر يقول ذلك، قال عباس الدوري: سألت أحمد بن حنبل، قلت: تحفظ في القراءة على القبر شيئا؟ فقال: لا، وسألت يحيى ابن معين فحدثنى بهذا الحديث.
قال الخلال: وأخبرني الحسن بن أحمد الوراق، حدثني علي بن موسى الحداد وكان صدوقا، قال: كنت مع أحمد بن حنبل ومحمد بن قدامة الجوهري في جنازة، فلما دفن الميت، جلس رجل ضرير يقرأ عند القبر، فقال له أحمد: يا هذا! إن القراءة عند القبر بدعة، فلما خرجنا من المقابر قال محمد بن قدامة لأحمد بن حنبل: يا أبا عبد الله! ما تقول في مبشر الحلبي، قال: ثقة، قال: كتبت عنه شيئا؟ قال: نعم، فأخبرني مبشر عن عبد الرحمن بن العلاء اللجلاج عن أبيه أنه أوصى إذا دفن أن يقرأ عند رأسه بفاتحة البقرة وخاتمتها، وقال: سمعت ابن عمر يوصي بذلك، فقال له أحمد: فارجع وقل للرجل: يقرأ.
وقال الحسن بن الصباح الزعفراني: سألت الشافعي عن القراءة عند القبر؟ فقال: لا بأس بها.
وذكر الخلال عن الشعبي قال: كانت الأنصار إذا مات لهم الميت اختلفوا إلى قبره يقرءون عنده القرآن ... }.
ملتی جلتی احادیث
’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا اپنے جنازہ کو صندوق میں رکھنے کو فرمانا، اور قبر میں دفن کرنے سے منع کرنا، اور یہ فرمانا کہ اونٹنی پر رکھ دیجیو جہاں چاہے لے جاوے گی‘‘، یہ قصہ غلط ہے، بعد انتقال دفن ہوئے۔
’’سوا لاکھ دفعہ کلمہ شریف پڑھ کر اگر میت کو بخشا جاوے تو مغفرت کی امید ہے‘‘، یہ روایت کسی حدیث کی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔
یہ درست ہے کہ مرنے کے بعد روحیں جمع ہوتی ہیں، البتہ مردہ کے خاندان کے لوگوں کا قبر میں مردہ سے مل کر، اسے تسلی دینے کا مضمون بظاہر غلط ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔