روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک بستی والوں کو عذاب دیا گیا جس میں دس ہزار لوگ تھے، جن کا عمل انبیاءE کا عمل تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہوا؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ اللہ تعالی کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے تھے، اور نیکی کا حکم نہیں کرتےتھے اور نہ ہی برائی سے روکتے تھے‘‘۔
حکم: علامہ تاج الدین سبکیlنےاس روایت کو ان احادیث کی فہرست میں ذکر کیا ہے جن کی سند انہیں نہیں مل سکی ہے،حافظ عراقیl فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ روایت مرفوعاً نہیں ملی‘‘، علامہ زبیدیl نے حافظ عراقیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے، نیز حافظ سخاویl فرماتے ہیں: ’’میں اس پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، اس لئے اسے رسول اللہﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] إحياء علوم الدين:2/310،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
[2] كتاب معالم القربة في أحكام الحسبة:ص:66،ت:محمد محمود شعبان،صديق أحمد عيسى الطبعي، مكتب الأعلام الإسلامي،الطبعة الأولى1408هـ .
[3] روح البيان:2/۷۴،دار احياء التراث العربي ـ بيروت.
[4] طبقات الشافعية:6/۳۲۱،ت:عبد الفتاح محمد الحلو ومحمود محمد الطناحي،هجر للطباعة،الطبعة الثانية 1413هـ .
[5] المغني عن حمل الأسفار:1/۵۸۶،رقم:۲۲۴۹،ت:أبو محمد أشرف بن عبد المقصود،مكتبة دار طبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
’’المغنی‘‘کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’حديث عائشة: عذب أهل قرية فيها ثمانية عشر ألفا عملهم عمل الأنبياء، لم أقف عليه مرفوعا، وروى ابن أبي الدنيا، وأبو الشيخ عن إبراهيم بن عمر الصنعاني: أوحى الله إلى يوشع بن نون: إني مهلك من قومك أربعين ألفا من خيارهم، وستين ألفا من شرارهم، قال: يا رب! هؤلاء الأشرار فما بال الأخيار؟ قال إنهم لم يغضبوا لغضبي، فكانوا يؤاكلونهم ويشاربونهم‘‘.
[6] إتحاف السادة المتقين:۸/۲۱، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة1433هـ .
[7] الأجوبة المرضية: 1/287،رقم:70،دار الراية ـ الرياض،الطبعة الأولى1418هـ .
’’الاجوبہ‘‘کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’ لم أقف عليه، وقد ورد في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر شيء كثير، أقربه للفظ المسئول عنه ما رواه ابن أبي الدنيا وغيره من حديث ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس! مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن تدعوا الله فلا يستجيب لكم، وقبل أن تستغفروه فلا يغفر لكم، إن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لا يدفع رزقا ولا يقرب أجلا، وإن الأحبار من اليهود والنصارى لما تكروا الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، لعنهم الله على لسان أنبيائهم، ثم عموا بالبلاء، نسأل الله السلامة‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’اللہ عز وجل نے یوشع بن نون eکی طرف وحی بھیجی: میں آپ کی قوم میں سے چالیس ہزار پسندیدہ اور ساٹھ ہزار شریر لوگوں کو ہلاک کرنے والا ہوں، یوشع بن نون e نے عرض کیا: اے رب! شریر لوگ تو سمجھ میں آتے ہیں، پسندیدہ لوگوں کی کیا وجہ ہے؟ اللہ عز وجل نے فرمایا: وہ میرے غضب کی وجہ سے غضبناک نہیں ہوتے، اور وہ لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، پینا کرتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو وحی فرمائی کہ فلاں فلاں شہر کو ان میں رہنے والوں پر پلٹ دو، فرشتے نے عرض کیا: اے پروردگار! اس شہر میں آپ کا بندہ ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر آپ کی نافرمانی نہیں کی، اللہ تعالی نے فرمایا: اس شہر کو اس بندہ پر اور ان پر پلٹ دو، کیونکہ اس کے چہرے پر میری وجہ سے کبھی بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔
روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس درود شریف کو سات جمعے پڑھے، اور ہر جمعہ میں سات مرتبہ پڑھے، تو اس کےلئے میری شفاعت واجب ہوگی: ’’اللهم صل على محمد وعلى آل محمد صلاة تكون لك رضاء، ولحقه أداء، وأعطه الوسيلة، وابعثه مقام المحمود الذي وعدته، وأجزه عنا ما هو أهله، وأجزه أفضل ما جزيت نبيا عن أمته، وصل على جميع إخوانه من النبيين والصالحين، يا أرحم الراحمين!‘‘۔
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔