روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’خير الآباء من علمك‘‘. تمہارا بہترین والد وہ ہے جس نے تمہیں علم سکھایا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] منهاج المتعلم:ص:۷۹،ت:أحمد عناية،دار التقوى ـ دمشق،الطبعة الأولى1431هـ .
[2] مفاتيح الغيب:۲۰/۱۸۷،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
[3] اللباب في علوم الكتاب:۱۲/۲۵۱،ت:عاد ل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[4] السراج المنير في الإعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير:۲/۲۹۵،مطبعة بولاق ـ مصر .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’الآباء ثلاثة: أب ولدك، وأب علمك، وأب رباك‘‘.باپ تین ہیں: (ایک) وہ باپ ہے جس سے تمہاری ولادت ہوئی، (دوسرا) باپ وہ ہے جس نے تمہیں علم سکھایا، (تیسرا) باپ وہ ہے جس نے تمہاری تربیت کی ہے‘‘، اور بعض مقامات پر یہ بھی ہے: ’’وأب زوجك‘‘. اور وہ باپ جس نے اپنی بیٹی تمہیں نکاح میں دی‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’إنما المعلم [أب لكم]، مثل الوالد لولده‘‘. معلم تمہارا باپ ہی ہے، جیسے: والد اپنے بیٹے کےلئے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قلوب بمنزلہ برتن کے ہیں، اور بہترین برتن وہ ہیں جو خیر کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہیں، علم کا جمع کرنا مال کے جمع کرنے سے بہتر ہے کہ علم تیری حفاظت کرتا ہے، اور مال کی تجھ کو حفاظت کرنی پڑتی ہے، علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے، مال کا نفع اس کے زائل ہونے (خرچ کرنے) سے ختم ہوجاتا ہے، لیکن علم کا نفع ہمیشہ ہمیشہ باقی رہتا ہے‘‘۔
روایت: روزِ محشر انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کو حکم ہوگا: تم اپنی امتوں کو پیش کرو، نبی ﷺ امت کے نیک لوگوں کو حاضر کریں گے، لیکن ارشاد ہوگا کہ بے نمازی، تارکِ زکوۃ، ماں باپ کے نافرمان، پڑوسی پر ظلم کرنے والے، اور جھوٹ بولنے والوں کو لاؤ تاکہ اللہ تعالی کی مغفرت وکرم کا اظہار ہوسکے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من صلى صلاة لم يدع فيها للمؤمنين والمؤمنات فصلاته خداج‘‘. جس نے نماز پڑھی اور اس میں مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کےلئے دعا نہ کی تو اس کی نماز نامکمل ہے‘‘۔