’’ایک شخص مدعی ہوا کہ حضورﷺ نے میرے برہنہ تن پر چابک مارا ہے، لہذا میں بھی حضور ﷺ سے مستدعی ہوں کہ آپ پیراہن مبارک اتاریں۔۔۔‘‘، یہ واقعہ صحیح نہیں،صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
تفصیل
’’سوال: یہ عوام، وعظ میں جو ایک طول طویل قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مدعی ہوا کہ حضور ﷺ نے میرے برہنہ تن پر چابک مارا ہے، لہذا میں بھی حضور ﷺ سے مستدعی ہوں کہ آپ پیراہن مبارک اتاریں، لہذا حضور ﷺ نے اتارا اس نے مہر ِنبوت کو بوسہ دیا، اور کہا بس یہی آرزو تھی، جناب والا کیا بھلا کسی کی مجال تھی جو حضور ﷺ سے بدلہ لے، اس قصہ کی بھی کچھ اصل ہے؟
جواب: یہ قصہ تو واقع ہوا، مگر واعظین جو اس کو وفاتِ نبوی ﷺ کے واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے سب لوگوں کو جمع کر کے ان سے معافی چاہی، اس وقت ایک صحابی نے عرض کیا، یہ صحیح نہیں، بلکہ ایک مرتبہ حضور ﷺ غزوہ میں یا نماز میں مسلمانوں کی صف سیدھی کر رہے تھے اس وقت ایک صحابی کا سینہ آگے کو ابھرا ہوا تھا، آپ ﷺ نے لکڑی سے ان کو برابر کیا، تو کہنے لگے کہ مجھے تکلیف ہوئی، حضور ﷺ نے فرمایا اچھا بدلہ لے لو، واللہ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] امدادالاحکام : ایک صحابی کے مہر نبوت چھونے کے واقعہ کی تحقیق، ۱/۳۴۲، مکتبہ دار العلوم کراچی۔
حافظ ابن جوزی l نے ’’ کتاب الموضوعات‘‘ (۱/۲۹۷)میں،حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں، علامہ سیوطی l نے ’’لآلئ المصنوعہ‘‘ (۱/۲۵۷)میں،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ (۱/۳۳۱) میں،علامہ لکھنوی l نے ’’آثار المرفوعہ‘‘ (ص:۴۰)میں اس مشہور حکایت کو من گھڑت قرار دیا ہے،صحیح واقعہ وہی ہے جو حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی l نے نقل کیا ہے،تفصیل کےلئے دیکھئے: کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ اول،ص:۱۰۰۔
ملتی جلتی احادیث
’’فاقہ سے مجبور ہو کر آپ ﷺنے ایک یہودی کے کنویں سے ایک ڈول پر ایک کھجورکے عوض کام کیا، پانچوے ڈول پر رسّی ٹوٹ گئی اور ڈول گر گیا، یہودی نے ایک چانٹا اس زور سے فخر الموجودات ﷺ کو مارا کہ گال سرخ ہوگیا‘‘، مجھے اس کے من گھڑت ہونے کا ڈر ہے۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔