التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

’’ایک شخص مدعی ہوا کہ حضورﷺ نے میرے برہنہ تن پر چابک مارا ہے، لہذا میں بھی حضور ﷺ سے مستدعی ہوں کہ آپ پیراہن مبارک اتاریں۔۔۔‘‘، یہ واقعہ صحیح نہیں،صحیح واقعہ دوسرا ہے۔

تفصیل

’’سوال: یہ عوام، وعظ میں جو ایک طول طویل قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص مدعی ہوا کہ حضور ﷺ نے میرے برہنہ تن پر چابک مارا ہے، لہذا میں بھی حضور ﷺ سے مستدعی ہوں کہ آپ پیراہن مبارک اتاریں، لہذا حضور ﷺ نے اتارا اس نے مہر ِنبوت کو بوسہ دیا، اور کہا بس یہی آرزو تھی، جناب والا کیا بھلا کسی کی مجال تھی جو حضور ﷺ سے بدلہ لے، اس قصہ کی بھی کچھ اصل ہے؟

جواب: یہ قصہ تو واقع ہوا، مگر واعظین جو اس کو وفاتِ نبوی ﷺ کے واقعہ میں بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے سب لوگوں کو جمع کر کے ان سے معافی چاہی، اس وقت ایک صحابی نے عرض کیا، یہ صحیح نہیں، بلکہ ایک مرتبہ حضور ﷺ غزوہ میں یا نماز میں مسلمانوں کی صف سیدھی کر رہے تھے اس وقت ایک صحابی کا سینہ آگے کو ابھرا ہوا تھا، آپ ﷺ نے لکڑی سے ان کو برابر کیا، تو کہنے لگے کہ مجھے تکلیف ہوئی، حضور ﷺ نے فرمایا اچھا بدلہ لے لو، واللہ اعلم!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1] امدادالاحکام : ایک صحابی کے مہر نبوت چھونے کے واقعہ کی تحقیق، ۱/۳۴۲، مکتبہ دار العلوم کراچی۔

حافظ ابن جوزی l نے ’’ کتاب الموضوعات‘‘ (۱/۲۹۷)میں،حافظ ہیثمی l نے ’’مجمع الزوائد‘‘ میں، علامہ سیوطی l نے ’’لآلئ المصنوعہ‘‘ (۱/۲۵۷)میں،علامہ ابن عراق l نے ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ (۱/۳۳۱) میں،علامہ لکھنوی l نے ’’آثار المرفوعہ‘‘ (ص:۴۰)میں اس مشہور حکایت کو من گھڑت قرار دیا ہے،صحیح واقعہ وہی ہے جو حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی l  نے نقل کیا ہے،تفصیل کےلئے دیکھئے: کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ،حصہ اول،ص:۱۰۰۔

ملتی جلتی احادیث