روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں ایک انتہائی خوبصورت عابد تھا، جو ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کے دروازہ کے سامنے سے گزرا، بادشاہ کی بیوی کو وہ بہت پسند آیا، اور اس نے اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا چاہا، اس نے انکار کیا، اور گناہ سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو مارنے کےلئے چھت سے گرا دیا، اور حضرت جبرائیل e نے اللہ کے فرمان سے آکر بچا لیا۔۔۔‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تنبیه الغافلین:ص:614،رقم:960،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .
[2] فنون العجائب في أخبار الماضين من بني إسرائيل وغيرهم من العباد والزاهدين:ص:127،رقم: 100، ت:طارق الطنطاوي،مكتبة القرآن ـ القاهرة .
حافظ ابو سعید نقاش l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو:
’’أخبرنا أبو الحسن المروزي محمد بن محمود، حدثنا عبد الله بن محمود، حدثنا أحمد بن سيار، حدثنا يحيى بن بكير قال: سمعت عبد الرحمن بن زيد بن أسلم يقول: كان عابد في بني إسرائيل وكانت له امرأة سخابة سليطة بذيئة اللسان، وكان يبيع القفاف، قال: فخرج يوما بقفافه، فمر بقصر، فلحظته ابنة الملك، فقالت لجاريتها: لا صبر لي عنه، علي به، فخرجت إليه الجارية، فقالت له: تبيع قفافك؟ قال: نعم، قال: فذهبت به حتى أدخلته القصر، فأغلقت عليه بابا دون باب حتى انتهى إلى المرأة، فأرادته على نفسه، فجهدت به، فأبى أن يقع عليها حتى قالت له: فإن لم تفعل صحنا بك، قال: فلا بد منه، قال: فضعوا لي طهورا على السطح حتى أستنظف وأتطهر به، قال: ففعلوا، فتوضأ وصلى ركعتين، ثم دار حول القصر من أيها يلقي نفسه، قال: فجاء إلى أقصرها في نفسه، فقال: بسم الله، فألقى نفسه منه، فأوحى الله عز وجل إلى جبريل عليه السلام يتلقيه بجناحه، كما يتلقى الوالد الرحيم ولده، فلا يخدش له لحما ولا يكسر له عظما، فتلقاه جبريل بجناحه حتى وضعه على الأرض، قال:
فانصرف إلى أهله، فقالت له امرأته: ما لك، أرتجي بثمن القفاف، قال: فصاحت به وضجت، قال: وكانت امرأة سخابة، فسخبت معه ساعة وآذته بلسانها، قال: فلما رأى ذلك، قال لها آخر شيء: قومي إلى تنورك فاسجريها، فقامت فسجرت التنور حتى أحمته، وجاءت تحدث زوجها، فجاء بعض الجيران، فقال: عندكم وقود؟ قالت: نعم خذيه من التنور، قال: فذهبت لتأخذ النار، فإذا التنور مليء خبزا نضيج أطيب خبز يكون، فرجعت إليها، فقالت: أشغلك الحديث مع زوجك عن الخبز، وقد احترق في التنور، فقامت فإذا التنور مليء خبزا أطيب ما يكون، فقالت لزوجها: ما هذا؟ فأخبرها الأمر، قال: فقالت: لك هذه المنزلة عند ربك ولم أعلم؟ ادع الله أن يوسع علينا إلى أن نموت، قال: فقال: دعي الله يأتي بالرزق، قال: فلم تزل حتى قال: فدعى الآن، فلما كان الليل قام فصلى ركعتين، ثم قال: يا رب!
إن فلانة امرأتي سألتني أن أسألك شيئا تتوسع به إلى أن نموت، وقد علمت أن ذلك ينقصني من مجالس الأبرار يوم القيامة، قال: فانفرج سقف البيت، فإذا كف فيها لؤلؤتين لم ينظر إلى مثلهما حتى وقعتا بين يديه، قال: فقال لها: قومي فخذي هذا، وقد نقصتني ذلك من مجالس الأبرار يوم القيامة، قال: فقالت: إني رأيت كأن منابر وضعت مكللة بالياقوت واللؤلؤ، فقلت: ما لهذا المنبر قد ذهب منها هاتان اللؤلؤتان، قالوا: هذا عملك، سألت زوجك أن يسأل أن يعجل لهم اللؤلؤتان في الدنيا، فجعل لهم ذلك، قال: فقلت: فهذا الذي سألته أن يسأل ربك فلا حاجة لي فيها، ادع الله أن يردهما، قال: فدعا الله فجاءت الكف حتى أخذتهما، فهو مكتوب في بعض الحديث: حديث ذي الكف‘‘.
سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زید بن اسلم پر ائمہ رجال کا شدید کلام ہے، واللہ اعلم۔
[3] كتاب المستغيثين بالله تعالى عند المهمات والحاجات:ص:135،رقم:132،ت:مانويلا مارين،المجلس الأعلى للأبحاث العلمية معهد التعاون مع العالم العربي .
[4] المنتظم في تاريخ الملوك والأمم:2/182،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۱5هـ .
حافظ ابن جوزی l کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو:
’’أخبرنا ابن ناصر، قال: أخبرنا أبو الحسين بن عبد الجبار، قال: أخبرنا أبو إسحاق البرمكي، قال: أخبرنا أبو الحسين الزينبي، قال: أخبرنا ابن المرزبان، قال: أخبرني أحمد بن حرب، قال: حدثني عبد الله بن محمد، قال: حدثني أبو عبد الله البلخي: أن شابا كان في بني إسرائيل لم ير شاب قط أحسن منه، وكان يبيع القفاف، فبينما هو ذات يوم يطوف بقفافه خرجت امرأة من دار ملك من ملوك بني إسرائيل، فلما رأته رجعت مبادرة، فقالت لابنة الملك: يا فلانة! إني رأيت شابا يبيع القفاف، لم أر شيئا أحسن منه، قالت أدخليه، فخرجت إليه، فقالت: يا فتى! أدخل، لنشتر منك، فدخل، فأغلقت الباب دونه، ثم قالت: ادخل، فدخل فأغلقت بابا آخر دونه، ثم استقبلته بنت الملك كاشفة عن وجهها ونحرها، فقال لها: اشتري عافاك الله، قالت: إنا لم ندعك لهذا، إنما دعوناك لكذا، يعني: المراودة عن نفسه، فقال لها: اتقي الله، قالت له: إنك إن لم تطاوعني على ما أريد أخبرت الملك أنك إنما دخلت علي تكابدني على نفسي، قال: فأبى ووعظها، فأبت، فقال: ضعوا لي وضوءا، فقالت: أعلي نعلك، يا جارية! ضعوا له وضوءا فوق الجوسق مكان لا يستطيع أن يفر منه، ومن الجوسق إلى الأرض أربعون ذراعا، فلما صار إلى أعلى الجوسق، قال: اللهم! إني دعيت إلى معصية، وأنا أختار أن أضر نفسي، فألقيها من هذا الجوسق، ولا أركب المعصية، ثم قال: بسم الله، وألقى نفسه من أعلى الجوسق، فأهبط الله له ملكا، فأخذ بضبعه، فوقع قائما على رجليه، فلما صار إلى الأرض، قال: اللهم إن شئت رزقتني رزقا يغنيني عن هذه القفاف، قال: فأرسل الله إليه جرادا من ذهب، فأخذ منه حتى ملأ ثوبه، فلما صار في ثوبه، قال: اللهم! إن كان هذا رزقا رزقتنيه في الدنيا، فبارك لي فيه، وإن كان ينقصني مما لي عندك من الآخرة، فلا حاجة لي فيه، فنودي إن هذا الذي أعطيناك جزء من خمسة وعشرين جزءا لصبرك على إلقائك نفسك من هذا الجوسق، قال: اللهم! لا حاجة لي فيما ينقصني مما عندك في الآخرة قال: فرفع‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ کےلئے کسی شخص سے محبت کی کسی ایسے عدل کی وجہ سے جو اس سے ظاہر ہوا ہو، حالانکہ وہ اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والوں میں سے تھا، اللہ اس سے اس کی محبت پر اسے اجر عطاء فرمائیں گے، جیسا کہ اگر یہ جنت والوں میں سے کسی شخص سے محبت کرتا، اور جس نے اللہ کےلئے کسی شخص سے بغض رکھا کسی ایسے ظلم کی وجہ سے جو اس سے ظاہر ہوا ہو، حالانکہ وہ اللہ کے علم کے مطابق جنت والوں میں سے تھا، اللہ اس شخص کو اس سے بغض رکھنے پر اجر عطاء فرمائیں گے، جیسا کہ اگر یہ دوزخ والوں میں سے کسی شخص سے بغض رکھتا‘‘۔
روایت:’’حضرت فاطمہ R کا روزے کی حالت میں آدھی روٹی کھانا، اور آدھی روٹی آپ ﷺ کےلئے دوپٹے میں باندھ لینا، اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ نے کچھ نہ کھایا ہو، پھر خود اپنے ہاتھوں سے آپ ﷺ کو وہی آدھی روٹی کھلائی، اور پھر حضرت فاطمہ R رونے لگیں، حضور ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! اب کیوں روتی ہو؟ کہا: ابا جان! کل کیا ہوگا، کل کون کھلانے آئے گا؟ کیا کل میرے گھر میں چولھا جلے گا؟ کیا کل آپ کے گھر میں چولھا جلے گا؟ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ حضرت فاطمہ R کے سر پر رکھ کر فرمایا: اے فاطمہ! تو صبر کر، اور میں بھی صبر کرتا ہوں، ہمارے صبر کرنے سے اللہ تعالی امت کے گناہ گاروں کو معاف کردیں گے‘‘۔
روایت:’’جبریل علیہ السلام نے نبی ﷺ سے عرض کیا: اے محمد! میں آپ کی امت پر عذاب کا اندیشہ رکھتا تھا، پھر جب فاتحہ نازل ہوگئی تو مجھے اطمینان ہوگیا، آپ ﷺ نے پوچھا: اے جبریل! اس کی کیا وجہ ہے؟ جیریل e نے عرض کیا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور ان سب سے جہنم کا وعدہ ہے جس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کےلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں‘‘، اور فاتحہ کی سات آیتیں ہیں، سو جو شخص ان کو پڑھےگا تو ہر آیت جہنم کے دروازوں میں سے ہر دروازے پر پردہ بن جائےگی، چنانچہ آپ کی امت ان دروازوں سے سلامتی کے ساتھ گزر جائےگی‘‘۔