روایت: ’’حجام کے شیشہ میں دیکھنا، گھٹیا پن ہے‘‘، یہ روایت صحیح نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: {عن أنس رضي الله عنه قال: النظر في مرآة الحجام دناءة} [انسr سےمنقول ہے:حجام کے شیشہ میں دیکھنا، گھٹیا پن ہے ]. (رواه الديلمي) بموجب اس روایت کے آئینہ حجام کا، دیکھے یا نہیں ؟
جواب: یہ روایت بھی صحیح نہیں، فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : حجام کا آئینہ نہ دیکھنے کی روایت کیسی ہے ؟ ص: ۵۳۳، دار الکتاب لاہور ۔
یہ روایت حضرات محدثین کے نزدیک منکر ہے،تفصیل ملاحظہ ہو:
یہ روایت دو سندوں سے مروی ہے: 1 ابو اسماعیل ابراہیم بن عطیہ کی سند 2 محمد بن احمد قصبی کی سند
1 ابو اسماعیل ابراہیم بن عطیہ (متوفی :۱۸۱ھ)کی سند
روایت بسندِ ابراہیم بن عطیہ کے بارے میں حافظ ابن معین l کی ذکر کردہ علت کا حاصل یہ ہے کہ اس روایت کو مغیرہ نے اس ابراہیم بن عطیہ سے نقل کیا تھا،اور مغیرہ سے ہشیم نے،لیکن ہشیم نے تدلیس کرتے ہوئے درمیان سے ابراہیم بن عطیہ کو حذف کرکے براہِ راست مغیرہ سے اسے نقل کیاانتہی،نیز اس ابراہیم بن عطیہ کےبارے میں اسی تبصرہ میں شدید جرح کی ہے،یعنی اسے {لایساوي شیئًا} کہا ہے(دیکھئے،تاریخ یحیی بن معین: ۲/۳۰۰)،عبارت ملاحظہ ہو:
{سألت يحيى عن أحاديث يرويها هشيم، عن مغيرة، عن إبراهيم: النظر في مرآة الحجام دناءة، وإذا بلي المصحف دفن وأشباه هذه الأحاديث، فقال: سمعها هشيم من إبراهيم بن عطية الواسطي عن مغيرة، قلت ليحيى: إبراهيم هذا سمع من المغيرة هذه الأحاديث؟ قال كان إبراهيم هذا لايساوي شيئا، وينبغي أن يكون قد سمع من مغيرة، فهشيم إنما سمع هذه الأحاديث منه عن مغيرة، وكان يقول: مغيرة، هكذا قال يحيى أو شبيه بهذا}.
امام بخاری l نے بھی ابراہیم بن عطیہ کے بارے میں {عنده مناکیر} کہہ کر اس روایت کی یہی علت ذکر کی ہے،یعنی ہشیم نے ابراہیم بن عطیہ کو درمیان میں سے ساقط کیا ہے۔ (دیکھئے،ضعفاء العقیلی:۱ /۶۰)
اس روایت میں یحیی بن معین l کی ذکر کردہ علت کوحافظ ابن عدی l نے ’’الکامل ‘‘ (۷/۱۳۵) میں،خطیب بغدادی l نے ’’تاریخ بغداد ‘‘ (۷/۲۶)میں اور حافظ ابن حجر l نے ’’لسان المیزان‘‘ (۱/۳۱۸) میں اعتماد کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔
2 محمد بن احمد قَصَبِی کی سند
اس طریق سے روایت کو امام ابو بکر اسماعیلی l نے اپنی ’’معجم‘‘ (۱/۴۲۶) میں تخریج کرکے اسے منکر کہا ہے،ملاحظہ ہو:
{حدثنا محمد بن أحمد القصبي، حدثنا إسحاق بن شاهين، حدثنا خالد بن عبدالله، عن أبي طوالة، عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: النظر في مرآة الحجام دناءة. قال الإسماعيلي: هو منكر}.
سند میں موجود راوی محمد بن احمد قَصَبی کو حافظ ابو بکر اسماعیلی l نے {لم یکن بذاك} کہا ہے،نیز حافظ ابو الفضل جارودی l نے اس سند میں محمد بن احمد قَصَبِی کو علت قرار دیتے ہوئے کہا ہے: {والحمل فیه علی القَصَبِي} (دیکھئے،لسان المیزان: ۶/۵۲۵)۔
الحاصل سابقہ تصریحات کے مطابق یہ روایت منکر ہے، فضائل کے باب میں بھی بیان نہیں کی جاسکتی۔
ملتی جلتی احادیث
نبیﷺکا حضرت فاطمہ R کے عقدِ نکاح میں چھوہاروں کے لٹانے کی روایت من گھڑت ہے۔
{لولاك لما خلقت الأفلاك}. اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا‘‘، یہ حدیث نہیں ہے، بزرگوں کے مکشوفات میں سے ہے، اور اس کا مضمون محققین کے نزدیک صحیح ہے۔
’’ایک شخص مدعی ہوا کہ حضورﷺ نے میرے برہنہ تن پر چابک مارا ہے، لہذا میں بھی حضور ﷺ سے مستدعی ہوں کہ آپ پیراہن مبارک اتاریں۔۔۔‘‘، یہ واقعہ صحیح نہیں،صحیح واقعہ دوسرا ہے۔
’’نزع کے وقت آدمی کو ستر رمضان کی پیاس لگنا اور شیطان کا پانی کی لالچ دے کر کلماتِ کفر کہلوانا‘‘، اس روایت کی اصل نہیں۔
وضو کے اندر ہر ہر عضو پر اذکار پڑھتے ہیں ان کی کوئی سند صحیح نہیں ہے، لیکن روایات قابلِ عمل ہیں۔