’’نزع کے وقت آدمی کو ستر رمضان کی پیاس لگنا اور شیطان کا پانی کی لالچ دے کر کلماتِ کفر کہلوانا‘‘، اس روایت کی اصل نہیں۔
تفصیل
’’سوال: مشہور ہے کہ نزع کے وقت آدمی کو ستر رمضان کی پیاس لگتی ہے اور شیطان شیشہ میں پانی لے کر سامنے کھڑا ہوتا ہے اور کلماتِ کفر، پانی کا لالچ دے کر کہلاتا ہے، تو چاہئے کہ اس وقت شربت مردہ کو دیا جاوے، تاکہ اس کی پیاس بجھے اور شیطان کا داؤ نہ لگے، یہ بات صحیح ہے یا غلط ؟
جواب: اس کی اصل نہیں،فقط!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاوی رشیدیہ : نزع کے وقت پیاس لگنے کی ایک بے اصل روایت کا ذکر، ص: ۱۹۲، دار الکتاب لاہور۔
ملتی جلتی احادیث
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
1 ’’جو شخص تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے 2 جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو‘‘، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے۔
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔