روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
تفصیل
{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. [جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا ] روایت کیا اس کو دیلمی l نے مرفوعاً ان الفاظ سے: {إذا عرف نفسه عرف ربه}. اسی طرح ہے ”کنوز الحقائق“ میں۔
مؤ لفِ تشرف [حضرت تھانوی l] کہتا ہے کہ ”مقاصد“ میں ابو ا لمظفر بن سمعان [اصل میں اسی طرح ہے اورصحیح سمعانی ہے ] کا قول اس حدیث کی نسبت نقل کیا ہے : {إنه لا یعرف مرفوعا، و إنما یحکى عن یحیی بن معاذ، یعني من قوله}. [یہ روایت آپ ﷺ کی نسبت سے معروف نہیں ہے، بلکہ یحیی بن معاذ کے اقوال میں سے ہے] اور نووی l کا قول نقل کیا ہے: {إنه لیس بثابت، والله أعلم}. [یہ ثابت نہیں ہے] مگر باوجود غیر ثابت کہنے کے، اس کے معنی کو اس تاویل سے صحیح کیا ہے : {من عرف نفسه بالحدوث عرف ربه بالقدوم، ومن عرف نفسه بالغناء [کذا فيه والصحیح بالفناء] عرف ربه بالبقاء}اھ[1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۲۵ ،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔ التشرف: صاحب کلید کا قول ، ص: ۱۳۹، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
حافظ صغانی ؒ اور حافظ ابن تیمیہ ؒ نے بھی اسےموضوعات میں شمار کیا ہے، دیکھئے: ”موضوعات الصغانی“ (ص:۳۵)، (المصنوع:ص:۱۸۹). نیزحافظ سخاویؒ نے ”المقاصد الحسنہ“ (ص۶۵۷) میں، حافظ سیوطیؒ نے ”الدررالمنتثرہ“ (ص:۱۸۵)میں، علامہ زرکشیؒ نے ”اللآلی المنثورہ“ (ص:۸۶) میں، ملاعلی قاریؒ نے ”الاسرار المرفوعہ“ (ص:۲۳۷) میں، علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“ (رقم:۱۴۳۵) میں،علامہ احمدبن عبدالکریم غزیؒ نے ”الجد الحثيث“ (رقم:۲۳۲) میں،علامہ محمدامیر مالکیؒ نے ”النخبہ البہيہ“ (ص:۱۲۱) میں، اورعلامہ محمدبن خلیل طرابلسیؒ نے ”اللؤلؤ المرصوع“ (رقم:۵۹۴)میں حافظ ابن تیمیہؒ، علامہ نووی ؒ اور حافظ سمعانی ؒ کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت : ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، اس کے الفاظ
ثابت نہیں، لیکن مضمون صحیح ہے۔
روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔
روایت: ”قلب خانۂ خدا ہے“، لفظا ً اس کی کوئی اصل نہیں، البتہ اس کے قریب المعنیٰ ایک دوسری روایت ثابت ہے۔
روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔