التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔

تفصیل

{من عرف نفسه فقد عرف ربه}. [جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا ] روایت  کیا   اس  کو  دیلمی l نے مرفوعاً ان الفاظ سے: {إذا عرف نفسه عرف ربه}. اسی  طرح  ہے     ”کنوز  الحقائق“ میں۔

مؤ لفِ  تشرف [حضرت تھانوی l]  کہتا  ہے  کہ  ”مقاصد“   میں  ابو  ا لمظفر  بن  سمعان [اصل میں اسی طرح ہے اورصحیح سمعانی ہے ]   کا  قول  اس  حدیث  کی  نسبت نقل  کیا  ہے : {إنه لا یعرف  مرفوعا، و إنما  یحکى عن یحیی  بن معاذ، یعني من  قوله}. [یہ روایت  آپ  ﷺ کی نسبت سے معروف نہیں ہے، بلکہ یحیی بن معاذ کے اقوال میں سے ہے] اور  نووی l کا  قول  نقل  کیا  ہے: {إنه  لیس بثابت، والله  أعلم}. [یہ ثابت نہیں ہے]   مگر باوجود  غیر  ثابت  کہنے  کے،  اس  کے  معنی  کو اس  تاویل  سے  صحیح  کیا  ہے : {من  عرف  نفسه بالحدوث  عرف ربه  بالقدوم، ومن عرف نفسه بالغناء [کذا فيه والصحیح بالفناء] عرف ربه بالبقاء}اھ[1]۔

حوالہ جات

[1]  التشرف   : ص:۲۵  ،مکتبہ محبوب المطابع،دہلی۔    التشرف: صاحب کلید کا قول ،  ص: ۱۳۹،      ادارہ  تالیفات  اشرفیہ،ملتان  ۔  

حافظ صغانی   ؒ  اور حافظ ابن تیمیہ ؒ  نے بھی اسےموضوعات میں شمار  کیا ہے، دیکھئے: ”موضوعات الصغانی“ (ص:۳۵)، (المصنوع:ص:۱۸۹). نیزحافظ سخاویؒ نے ”المقاصد الحسنہ“ (ص۶۵۷) میں، حافظ سیوطیؒ نے ”الدررالمنتثرہ“ (ص:۱۸۵)میں، علامہ زرکشیؒ نے ”اللآلی المنثورہ“ (ص:۸۶) میں، ملاعلی قاریؒ نے ”الاسرار المرفوعہ“ (ص:۲۳۷) میں، علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“ (رقم:۱۴۳۵) میں،علامہ احمدبن عبدالکریم غزیؒ نے  ”الجد الحثيث“ (رقم:۲۳۲) میں،علامہ محمدامیر مالکیؒ نے ”النخبہ البہيہ“ (ص:۱۲۱) میں، اورعلامہ محمدبن خلیل طرابلسیؒ نے  ”اللؤلؤ المرصوع“ (رقم:۵۹۴)میں حافظ ابن تیمیہؒ، علامہ نووی ؒ اور حافظ سمعانی ؒ کے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔