روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: جب قیامت کے دن تمام لوگ میدانِ محشر میں ہوں گے تو بچھو کی نسل کا ایک جانور نکلے گا، جس کا نام حریش ہوگا، اس کا سر آسمان پر ہوگا اور اس کی دم زمین پر ہوگی، اور وہ ستر مرتبہ آواز لگائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ رب العالمین کو مقابلہ کی دعوت دی ہے؟ اور کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالی سے جنگ کا اعلان کیا ہے؟جبرائیل e کے پوچھنے پر وہ جانور پانچ قسم کے لوگوں کو سزا دینے کا کہے گا: 1 نماز چھوڑنے والا 2 زکوۃ نہ دینے والا 3 شراب پینے والا 4 سود کھانے والا 5 مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے والا‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] دقائق الأخبار في ذكر الجنة والنار:ص:34،المطبعة الميمنية ـ مصر،الطبعة1306هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
روایت: ’’اوپر والا جنتی کروٹ بدلے گا نیچے والے جنتی کو خوشبو آئے گی، وہ فرشتوں سے پوچھے گا یہ خوشبو کیسی؟ فرشتے عرض کریں گے اوپر والے جنتی نے کروٹ بدلی ہے اس کی خوشبو ہے، وہ پوچھے گا اوپر والے درجہ کے جنتی کا عمل کیا مجھ سے زیادہ تھا؟ جواب ملے گا اس نے ایک مرتبہ تجھ سے سبحان اللہ زیادہ کہا تھا‘‘۔
روایت: ’’غار ثور میں حضرت ابو بکرr کو شدید پیاس لگی، آپﷺ سے عرض کیا، غار کے دہانے پر جاکر پینے کا حکم ہوا، حضرت ابو بکرr نے پانی پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھاجو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ایک فرشتے نے جنت الفردوس کی نہر سے جاری کیا تھا‘‘۔
روایت: ’’ایک بچے کا اپنی ماں کےلئے لباس لینے کےلئے چچا کے پاس جانا، اور چچا کا لباس دینے سے انکار کرنا، پھر بچے کا کسی کے کہنے پر آپﷺ کے پاس جاکر لباس کا مطالبہ کرنا اور ساتھ میں یہ کہنا کہ میں آپ کا اسلام قبول نہیں کروں گا، حضورﷺ کا اس بچے کو اپنی چادر دینا، اس پر اس بچے کی ماں کا کہنا کہ حضورﷺ کے اسلام کو قبول کرنا چاہئے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔