روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: حضرت داؤدe اللہ تعالی کے سامنے چالیس دن روتے رہے اور چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے؟ اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں؟‘‘۔
حکم: زیر بحث روایت کا پہلا جزء: ’’حضرت داؤد e کا چالیس دن تک اللہ تعالی کے سامنے روتے رہنا‘‘مرفوعاً (آپ ﷺ کے ارشاد کے طور پر) ’’شدید ضعیف‘‘ہے، اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، تاہم ’’اسرائیلی روایت‘‘ کے طور پر بیان کرسکتے ہیں، اور دوسرا جزء ہے:’’داؤد e نے کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے، اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور کہا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے، اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں‘‘، یہ مرفوعاً سند کے ساتھ نہیں مل سکا، چنانچہ سند ملنے تک اسے آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا موقوف رکھا جائے، تاہم بظاہر اسے ’’اسرائیلی روایت‘‘ کہہ کر بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
زیر بحث روایت کے دو اجزاء ہیں:
1 حضرت داؤدe چالیس دن اللہ تعالی کے سامنے روتے رہے۔
2 چالیس دن گزرنے کے بعد کہا: اے اللہ! میرے اس رونے دھونے پر آپ رحم نہیں فرماتے، اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی اور کہا: اے داؤد! تجھے اپنا رونا یاد ہے، اور اپنی غلطی تجھے یاد نہیں۔
ذیل میں پہلے جزء اول کی پھر جزء ثانی کی تحقیق پیش کی جائے گی۔
حوالہ جات
[1] جامع البيان:۲0/74،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر،الطبعة الأولى۱۴۲۲هـ .
[2] تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك:1/483،ت:محمد أبو الفضل إبراهيم،دار المعارف ـ مصر،الطبعة الثانية1387هـ .
[3] الكشف والبيان المعروف تفسير الثعلبي:8/190،ت:أبو محمد بن عاشور،دار إحياء التراث العربي ـ بیرت، الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[4] تفسير البغوي معالم التنزيل:7/82،ت:محمد عبد الله النمر،عثمان جمعة ضميرية وسليمان مسلم الحرش، دار طيبة ـالرياض،الطبعة۱۴09هـ .
[5] نوادر الأصول في أحاديث الرسول:۴/23،رقم:۸3۲،ت:توفيق محمود تكله،دار النوادر ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۳۱هـ .
[6] المجروحين:۳/۹۸،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[7] الطبقات الكبرى:۷/۱۸۲،رقم:۳۱۸۸،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .
[8] الجرح والتعديل:۹/۲۵۱،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[9] الجرح والتعديل:۹/۲۵۱،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[10] الجرح والتعديل:۹/۲۵2،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[11] معرفة الرجال برواية ابن محرز:1/71،رقم:167،ت:محمد كامل القصار،مطبوعات مجمع اللغة العربية ـ دمشق،الطبعة1405هـ .
[12] المجروحين:۳/۹۸،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[13] الكنى والأسماء:ص:۵۷۱،رقم:۲۳۲۳،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،الجامعةالإسلامية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[14] الضعفاء والمتروکين:253،رقم:673،ت:بوران الضناوي،کمال یوسف الحوت،مؤسسة الکتب الثقافية ـ بيروت، الطبعة۱۴۰۵هـ .
[15] الجرح والتعديل:۹/۲۵۲،رقم:۱۰۵۳،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدرآباد الدكن،الطبعة الأولى۱۳۷۱هـ .
[16] الضعفاء الکبیر:4/373، رقم:1983،ت:عبد المعطی أمین قلعجی، دارالکتب العلمیةـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[17] الضعفاء الکبیر:4/373، رقم:1983،ت:عبد المعطی أمین قلعجی، دارالکتب العلمیةـ بیروت،الطبعة الأولى1404هـ .
[18] سؤالات أبي عبيد الآجري:ص:320،رقم:491،ت:محمد علي قاسم العمري،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1399.
[19] تهذيب الكمال:۳۲/۶۹،رقم:۶۹۵۸،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[20] تهذيب الكمال:۳۲/۶۹،رقم:۶۹۵۸،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .
[21] المجروحين:۳/۹۸،ت:محمودابراهيم زايد،دارالمعرفةـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[22] الكامل:9/131،رقم:2158،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[23] المغني في الضعفاء:2/534،رقم:۷۰۸3،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .
[24] الكاشف:۲/۳۸۰،رقم:۶۲۷۷،ت:محمدعوامة،دارالقبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة الأولى۱۴۱۳هـ .
[25] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:۲/597،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .
[26] البداية والنهاية:۷/۴۱۷،ت:عبد الله بن عبد المحسن التركي،دار هجر ـ مصر،الطبعة الأولى1417هـ .
[27] تقريب التهذيب:ص:599،رقم:7683،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة1411هـ .
[28] كتاب الزهد والرقائق:ص:163،رقم:474ت:حبيب الرحمن الأعظمي،مؤسسةالريان ـ بيروت .
[29] الرقة والبكاء:ص:239،رقم:339ت:محمد خير رمضان يوسف،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الثالثة1419 هـ .
حافظ ابن ابی الدنیا l نے یہی روایت عبد العزیز بن ابی رواد l سے ان الفاظ سے تخریج کی ہے: ’’حدثني محمد بن الحسين، قال: حدثنا محمد بن يزيد بن خنيس، عن ابن أبي رواد، قال: سجد داود حتى دبرت جبهته وكفاه وركبتاه، وبكى وهو ساجد حتى نبت العشب من دموع عينيه، فكان ينادي: يا رب! فيقال له: أجائع فتطعم؟ أم ظمآن فتسقى؟ أم عار فتكسى؟ ولا يذكر بخطيئته، فكان يزفر الزفرة يهيج العود من العشب، فيحترق ويحرق ما حوله من العشب‘‘. (الرقة والبكاء:ص:242،رقم:351ت:محمد خير رمضان يوسف،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الثالثة 1419 هـ).
اسی طرح حافظ ابن ابی الدنیا l نے بکر بن عبد اللہ مزنی l سے بھی ان الفاظ سے تخریج کی ہے: ’’حدثني محمد، قال: حدثنا زيد بن الحباب، عن عبد ربه صاحب الحرير، عن بكر بن عبد الله المزني قال: مكث داود أربعين يوما ساجدا يبكي على خطيئته، حتى نبت البقل من دموعه، ثم زفر زفرة فهاج العود، قال: فنودي: أظمآن فتسقى؟ أجائع فتطعم؟ أعار فتكسى؟ قال: فلم يرجع إليه بشيء، فازداد بكاء حتى انقطع صوته، فكان لا يسمع له إلا كهيئة الأنين، فعند ذلك غفر له‘‘. (الرقة والبكاء:ص:256،رقم:393ت:محمد خير رمضان يوسف،دار ابن حزم ـ بيروت، الطبعة الثالثة1419 هـ).
[30] إحياء علوم الدين:4/182،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
’’احیاء علوم الدین کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’وروي أنه عليه السلام لما طال بكاؤه ولم ينفعه ذلك ضاق ذرعه واشتد غمه، فقال: يا داود! نسيت ذنبك وذكرت بكاءك، فقال: إلهي وسيدي! كيف أنسى ذنبي؟ وكنت إذا تلوت الزبور كف الماء الجاري عن جريه، وسكن هبوب الريح، وأظلني الطير على رأسي، وأنست الوحوش إلى محرابي، إلهي وسيدي! فما هذه الوحشة التي بيني وبينك؟ فأوحى الله تعالى إليه: يا داود! ذلك أنس الطاعة، وهذه وحشة المعصية، يا داود! آدم خلق من خلقي خلقته بيدي، ونفخت فيه من روحي، وأسجدت له ملائكتي، وألبسته ثوب كرامتي، وتوجته بتاج وقاري، وشكا لي الوحدة فزوجته حواء أمتي، وأسكنته جنتي، عصاني فطردته عن جواري عريانا ذليلا، يا داود! اسمع مني والحق أقول: أطعتنا فأطعناك، وسألتنا فأعطيناك، وعصيتنا فأمهلناك، وإن عدت إلينا على ما كان منك قبلناك‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’نبی ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں یہ آیت پڑھی جائے شیطان اس گھر سے تین دن یا تیس دن دور رہتا ہے، اور اس گھر میں چالیس راتوں تک کوئی جادو گرنی اور جادو گر داخل نہیں ہوسکتا، اے علی! تم اپنے اہل وعیال اور اپنے پڑوسیوں کو آیۃ الکرسی سکھاؤ، اس سے بڑی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی‘‘۔
روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’رحم الله رجلا قال: يا أهلاه! صلاتكم، صيامكم، زكاتكم، مسكينكم، يتيمكم، جيرانكم، لعل الله يجمعهم معه في الجنة‘‘. اللہ اس شخص پر رحم فرمائےجو کہے: اے گھر والو! اپنی نماز، اپنی زکوۃ، اپنے مسکین، اپنے یتیم، اپنے پڑوسی کی دیکھ بھال کرو، شاید اللہ تعالی اس کے ساتھ ان کو جنت میں اکٹھا کردے‘‘۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔