1 ’’جو شخص تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے 2 جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے، خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو‘‘، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے۔
تفصیل
’’سوال: میں نے ایک کتاب میں دیکھا ہے کہ ’’شفاء‘‘ میں قاضی عیاض l فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ نے یہ فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص تین حج کرلیتا ہے خدا تعالیٰ آگ کو دنیا وآخرت میں اس پر حرام کردیتا ہے، اور مولوی محبّ الدین مہاجر مکی l نے مجھ سے یہ فرمایاتھا کہ ’’بخاری شریف‘‘ میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے تین حج کرلیتا ہے خدا تعالیٰ کرامًا کاتبین کو حکم دے دیتا ہے کہ اس کے نامۂ اعمال لکھنا بند کردو، یہ احادیث کس درجہ کی ہیں؟
جواب: حج کی فضیلت بہت کچھ ہے، ایک حدیث میں ہے: {الحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة. بخاري ومسلم}. [حج مبرور کرنے والے کا بدلہ جنت ہی ہے،بخاری ومسلم]اور ایک حدیث میں ہے جس نے حج کیا اور اس میں معصیت اور فسق نہ کیا تو وہ گناہوں سے ایسا پاک وصاف ہوجاتا ہے جیسا کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا، یہ حدیث بھی ’’بخاری‘‘ و’’مسلم‘‘ کی ہے، باقی وہ روایتیں جو آپ نے لکھی ہیں وہ کہیں نہیں ملیں، بظاہر ان کی کچھ اصل نہیں ہے، مکرر یہ کہ بعد تحریرہٰذا ’’شفاء‘‘ قاضی عیاض کو دیکھا گیا، اس میں وہ حدیث جو آپ نے لکھی ہے نہیں ملی، اور ’’بخاری‘‘ کے حوالہ سے جو مولوی محب الدین صاحب نے فرمایا ہے وہ حدیث بھی ’’بخاری شریف‘‘ میں نہیں ہے، فضیلتِ حج میں جو حدیثیں جواب میں نقل کی گئیں، ان سے ہی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ فقط، والله تعالىٰ اعلم!‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] فتاوی دار العلوم دیوبند :حج کی فضیلت اور چند بے اصل روایات، ۱۸/۱۶۲ مکتبہ حقانیہ ملتان۔
قاضی عیاض مالکی l نے ’’الشفا بتعر يف حقوق المصطفى‘‘ (۲/۹۳)میں اس پہلی روایت (تین حج والی)کو سَعْدُوْن خولانی l کے حوالہ سے صیغہ ٔ تمریض کے ساتھ ان لفظوں سے ذکر کیا ہے:
{وحكي أن قوما أتوا سَعْدُون الخولاني بالمُنَسْتِيْر [أي: مكان بالقيروان]، فأعلموه أن كُتَامَة [أي: قبيلة من بربر] قتلوا رجلا، وأضرموا عليه النار طول الليل، فلم تعمل فيه شيئا، وبقي أبيض البدن، فقال: لعله حج ثلاث حجج؟ قالوا: نعم، قال: حدثت أن من حج حجة أدى فرضه، ومن حج ثانية داين ربه، ومن حج ثلاث حجج حرم الله شعره وبشره على النار}.
نیز علامہ تقی الدين احمد بن علی مقريزیl نے ’’اِمتاع الاَسماع‘‘ (۱۴/۶۲۳)میں،اورحافظ ابو بكر عثمان بن محمد دمياطیl نے ’’اعانۃ الطالبين على حل الفاظ فتح المعين‘‘ (۲/۲۸۴)میں اس روایت کو سَعْدُوْن خولانی l کےحوالے سے نقل کیا ہے۔
علامہ خفاجی l نے ’’نسیم الریاض‘‘ (۵/۱۳۲)میں اس روایت کے متعلق لکھا ہے : {وهذا الحديث لايعرف من رواه}. اور اس حدیث کو جس نے روایت کیا ہے اس کی کوئی معرفت نہیں ہے۔
ملتی جلتی احادیث
1 روایت: ’’رسول اللہ ﷺ وتر تین مرتبہ پڑھتے تھے: عشاء کے بعد مسجد میں، پھر گھر میں تشریف لے جاکر، پھر تہجد کے وقت‘‘، یہ لااصل ہے۔
2 ’’ایک خاص طریقے پر نمازِ قضاء ادا کی جائے تو چالیس برس کی نمازیں معاف ہو جاتی ہیں‘‘، اس کی بھی کچھ اصل نہیں۔
صلوٰۃِ رغائب بدعت ہے۔
3 ’’عہد نامہ قبر میں رکھنا ‘‘، یہ شعائرِروافض میں سے ہے۔
4 ’’بیس آیتیں حضرت عائشہ R کی پاکی میں نازل ہوئیں، مگر رسول اللہ ﷺ کو گاہے گاہے یہ خیال ہوتا تھاکہ کلام، اللہ کا، بیشک برحق ہے اور راست ہے، لیکن ایک نام خدا کا ستار ہے، بیشک عائشہ R کی ستاری کرتا ہے‘‘، معاذ اللہ! یہ در پردہ حضرت عائشہ R پر تہمتِ عدم عصمت، اور رسول اللہ ﷺ پر تہمتِ عدمِ وثوق کلام اللہ وعدمِ اعتبار خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ پر تہمت کذب ہے۔
5 ’’حضرت عمر r نے وصیت کی کہ میرا گرز، میری قبر میں، میرے ساتھ رکھنا‘‘، یہ بڑا بہتان ہے۔
6 ’’حضرت علی r نے دیکھا کہ زمین نے حضرت عمر r کو بھینچا‘‘، یہ کھلا ہوا رفض ہے۔
7 ’’جب منکر نکیر نے حضرت عمر r سے’’من ربك‘‘ کہا تو حضرت عمر r نے فرمایا کہ میں نہیں سنتا، قریب آؤ، منکر نکیر گرز کو دیکھ کر ڈرگئے اور نزدیک نہ ہوئے، حضرت عمر r گرز لے کر بیٹھ گئے، تاکہ فرشتوں کو ماریں، قبر چند فرسخ کھل گئی، اور فرشتے بھاگ گئے‘‘، یہ قول بدیہی البطلان ہے۔
1 ’’بایزید بسطامی l کاباری تعالیٰ کے اختیار دینے پر مختلف چیزیں مانگنا اور باری تعالی کا انھیں دینے سے عاجز ہونا‘‘[معاذاللہ]۔
2 ’’عثمان ہارونی l کاباری تعالیٰ سے روٹھ کر کافر،پھر آپ ﷺ کے منانے پر مسلمان ہونا‘‘ [معاذاللہ]۔
3 ’’حضرت حسین r کے دونوں پاؤں کے نیچے تلووں میں قرآن مجید لکھا ہوا تھا‘‘ [معاذاللہ]۔
4 ’’کلمہ توحید میں دو چیزیں کفر ہیں۔۔۔‘‘ [معاذاللہ]۔
5 ’’بت خانے میں باری تعالی کا خاص بندہ‘‘ [معاذاللہ]۔
6 ’’ایک چور کی حکایت‘‘۔
7 ’’سید عبد القادر l کا اوپر کے ہاتھ سے آسمان اور عصا سے زمین کو تھامنا‘‘ [معاذاللہ]۔
اس وعظ کہنے والے شخص کے کفر میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں، اس کا تمام وعظ سرا سر جہالت اور گمراہی ہے۔
’’حضرت غوث اعظم قدس سرہ کاایک روح کی واپسی کے لئے ملک الموت سے زبردستی تمام روحوں کی زنبیل چھیننا،
لوحِ محفوظ میں ایک عورت کی اولاد کے نہ ہونے کے فیصلہ کے باوجود حضرت عبدالقادر جیلانی l کااسے سات بچے دلوانا،
نیزحضرت عبد القادر جیلانی l کا منکر نکیر سے سوالات کرنا‘‘، ان تینوں حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِد کی بنائی ہوئی ہیں۔
1 رسول اللہﷺ کا حضرت بلال r کو بعوض حسنین q خریدنا محض غلط ہے، ایسی باتیں بے اصل، بیان کرنے والامستحق وعظ گوئی نہیں۔
2 ابوہریرہ r کا نکاح بعد وفات رسول اللہﷺ ہوا ہے، پہلے نہیں ہوا، آپ ﷺ کی خدمت میں اس نکاح کے کھانے کا پہنچنا لا اصل ہے۔
3 آنحضرت ﷺ کا شب معراج میں حور کے نور کو سجدہ کرنا بالکل افتراء ہے، قرآن شریف کے بالکل مخالف ہے: {ماكذب الفؤاد مارأى} [جھوٹ نہیں کہا رسول( اللہ ﷺ) کے دل نے جو دیکھا] صاف بیان ہے کہ آپ کو کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی، ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر ہے، سخت زندیق ہے۔
3 شب برات کو تین غسل کرنا، یا حلوا وغیرہ کا پکانا شریعت سے ثابت نہیں، یہ باتیں محض لا اصل ہیں۔
عمرہ حج اصغر ہے،اور ہر ایک حج، حج اکبر ہے۔