التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا من گھڑت روایات پر تعاقب

روایت: {تلك الغرانیق العُلى وإن شفاعتها لتُرْتَجى}. اس قصہ کو قاضی عیاض l اور اکثر محققین نے نقلاً و عقلاً رد کیا ہے۔

تفصیل

”۔۔۔ ف: یہ تو ان چار اشعار کا حل لفطی تھا، اب ان کی شرح سننا چاہئے : شعر اول وثانی میں اشارہ کیا ہے ایک قصہ کی طرف جس کو بعض محدثین نے نقل کیا ہے، حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ نے سورۂ والنجم کی تلاوت فرمائی، جب اس آیت پر پہونچے: (أفرءيتم اللت والعزى ومنوة الثالثة الأخرى) إلخ، تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پر بلاقصد یہ  الفاظ  جاری ہوگئے: {تلك الغرانیق العُلى، وإن شفاعتها لتُرْتَجى}. [یہ عالی شان غرانیق ہیں،جن سے شفاعت کی امید کی جاتی ہے] جو بظاہر دال ہیں مدحِ اصنام پر ۔ {والغرانیق جمع  غُرْنُوق طائر مائی، والشاب الأبیض الجمیل} [غرانیق جمع ہے غُرنُوق کی،ایک آبی پرندہ کا نام ہے،اور سفید،خوب صورت جوان کےلئے بھی  استعمال ہوتا ہے ].

مشرکین نے جو کہ اس مجلس میں تھے سن کر کہا : {ما ذکر آلهتنا بخیر قبل الیوم}. [یعنی آپ ﷺ نے آج سے پہلے کبھی بھی ہمارے معبودوں کا اچھائی سے تذکرہ نہیں کیا] پھر جب آپ نے آیت ِسجدہ پر سجدہ کیا تو ان مشرکین  نے بھی سجدہ  کیا،اور اس قصہ کو قاضی عیاض l  اور اکثر محققین نے نقلاً وعقلاً رد کیا ہے  .... مگر تاہم طریق اسلم وارجح محققین ہی کا ہے کہ اس قصہ کو غلط سمجھا جاوے، اور مولانا [یعنی جلال الدین رومی صاحبِ مثنوی] کا مقصود اس کی طرف اشارہ کرنے سے خود قصہ کا اثبات نہیں ہے، بلکہ مقصود محض تمثیل ہے، جس کےلئے محض مثال  کی  من وجہ شہرت  کافی  ہے  خواہ  ثابت  ہو یا  نہ  ہو ۔۔۔“[1]۔ 

ایک دوسرے انداز سے

حوالہ جات

[1] بوادر النوادر : ساٹھویں حکمۃ،تحقیق وتو جیہ قصہ غرانیق ،ص :۲۹۰،۲۸۹،ادارہ اسلامیات،لاہور ۔

امام رازی ؒ نے اپنی ”تفسير كبير“(۲۳/۲۴۶)میں،علامہ قاضی ابوبکر  ابن العربی  ؒنے ”احكام القرآن“(۳/۳۰۴)میں، امام قرطبی ؒ نے بھی اپنی ”تفسير“(۱۴/۴۳۳)میں،علامہ بدر الدین عینی ؒ نے ”عمدة القاري“(۷/۱۴۶)میں اس واقعہ کو باطل،غیر ثابت کہا ہے،البتہ حافظ ابن حجر ؒ اس کے قائل ہیں کہ اسے بالکل بے اصل کہنا درست نہیں ہے،دیکھئے:”فتح الباري“(۸/۴۳۹)۔

[2] بیان القرآن : اقترب للناس  حسابہم،  ۷/۷۸،میر محمد کتب خانہ،کراچی ۔