روایت: بچے کی بسم اﷲ پر، اس بچے کی، اس کے والدین کی اور اس کے اُستاد کی بخشش۔
حکم: من گھڑت
تفصیل
اعداءِ دین، چراغِ اسلام بجھانے کےلئے، سر توڑ کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن وہ ان مذموم مقاصد میں ہمیشہ، بری طرح ناکام رہے ہیں، کیونکہ قرآن کے اعلان کے مطابق یہ چراغ تا قیامت نور پھیلاتا رہے گا ’’یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اﷲِ بِأفْوَاهِهِمْ وَاللهُ مُتِمُّ نُوره وَلَو کَرِهَ الکَافِرُونَ‘‘[1] ترجمہ: ’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کی تکمیل کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بُری لگے‘‘۔
وضعِ حدیث،دشمنانِ اسلام کاخطرناک ہتھیار رہا ہے، جس کے ذریعے زنادقہ شریعت کومسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں،چنانچہ جعفر بن سلیمانl ، مہدیl سے نقل کرتے ہیں: ’’أقَرّ عندي رَجُلٌ مِنَ الزَّنَادِقَةِ أنّه وَضَعَ أربعمائة حدیث تَجَولُ في أیدي الناس‘‘[2].ایک زندیق نے میرے سامنے اقرار کیا کہ اس نے چار سو ایسی روایتیں گھڑی ہیں،جو لوگوں کے درمیان گردش کر رہی ہیں۔
یہ صرف اسلام ہی کی شان ہے کہ وہ نہ صرف ان تمام تباہ کن فتنوں سے محفوظ رہا ہے، بلکہ اس نے ان من گھڑت روایتوں اور وضّاعین کی شناخت کو تاریخ کا حصّہ بنا دیا، آج آپ کسی بھی راوی کا نام لے کر، کتب الرجال، اصولِ حدیث اور اعلامِ امت کی رہنمائی سے، اس کا متعین فنّی مقام جان سکتے ہیں۔
ذیل میں احمد بن عبداﷲ بن خالد الجُوَیْبَاری کی ایک ایسی ہی روایت پیش کی جائے گی، جو پاک وہند میں زبان زَد عام ہے، حالانکہ حافظ ذَہَبِی l فرماتے ہیں: ’’الجُوَیْبَارِي مِمَّنْ یُضْرَبُ له بِالْکِذْبِ‘‘ جویباری کا شمار ان لوگوں میں ہے، جن کا جھوٹ ضرب المثل ہے۔
حوالہ جات
[1] سورة الصف:الآية8 .
[2] الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة:1/12،ت:دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[3] الكشف والبيان:سورة الفاتحة، في فضل التسمية،1/21،دار الكتب العلمية ـ بیرت،الطبعة الأولى ۱۴۲0هـ .
[4] كتاب الموضوعات:باب ثواب المعلمين،۱/220،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفیة ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[5] اللآلي المصنوعة:1/180،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .
[6] كتاب الموضوعات:باب ثواب المعلمين،۱/220،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفیة ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[7] تلخيص الموضوعات:العلم،113،رقم:115،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفیة ـ المدینة المنورة، الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[8] اللآلئ المصنوعة:1/180،ت:محمد عبد المنعم رابح،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴28هـ .
[9] تنزيه الشريعة:كتاب العلم،الفصل الأول،1/252،رقم:6،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .
[10] الفوائد المجموعة:كتاب الفضائل،276،رقم:14،ت:عبد الرحمن بن يحيى،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[11] تذكرة الموضوعات:ص:1/80،كتب خانه مجيديه ملتان ـ باکستان .
[12] ميزان الاعتدال:1/106،رقم:421،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[13] الضعفاء والمتروكين:من اسمه محمد،3/95،رقم الترجمة:3170،ت:عبد الله القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة 1406هـ .
ملتی جلتی احادیث
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
روایت: حضرات اہل بیت کا مسکین،یتیم اور قیدی پر اِیثاراور تین دن بھوکا رہنا۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: ’’فِکْرَةُ سَاعَةٍ خَیْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سِتِّیْنَ سَنَة‘‘. ایک گھڑی کا غور وفکر ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔