التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)

روایت: ’’ایک بچے کا اپنی ماں کےلئے لباس لینے کےلئے چچا کے پاس جانا، اور چچا کا لباس دینے سے انکار کرنا، پھر بچے کا کسی کے کہنے پر آپﷺ کے پاس جاکر لباس کا مطالبہ کرنا اور ساتھ میں یہ کہنا کہ میں آپ کا اسلام قبول نہیں کروں گا، حضورﷺ کا اس بچے کو اپنی چادر دینا، اس پر اس بچے کی ماں کا کہنا کہ حضورﷺ کے اسلام کو قبول کرنا چاہئے‘‘۔

تفصیل

’’ایک بچہ اپنے چچا کے پاس اپنی ماں کےلئے لباس لینے گیا، اس کی ماں بیوہ تھی اور لباس پھٹ گیا تھا، تو چچا نے اس کو دھتکار دیا، ماں نے اس کو روکا تھا بیٹا نہ جانا، تو اس نے کہا: آپ کے بدن پر جو لباس ہے وہ بھی پھٹ گیا اور جگہ جگہ جسم جھلک رہا ہے تو میں اپنے چچا سے آپ کےلئے لباس لے کر آتا ہوں، جب اس کے چچا نے اس کو ڈانٹا تو وہ واپس روتے ہوئے آرہا تھا، کسی نے راستے میں پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: چچا کے پاس ماں کےلئے لباس لینے گیا تھا، تو اس نے دھتکار دیا، تو اس شخص نے کہا: جا، صحن حرم میں محمدﷺ کے نام کا ایک شخص بیٹھا ہوا ہے، اگر تو اپنا دکھڑا اس کے سامنے پیش کرےگا تو امید ہے کہ وہ تمہیں رد نہیں کرے گا، لیکن سن لے ان کا دین کوئی اور ہے، تو وہ بچہ اپنی ماں کے پاس آیا چچا نے رُلا کر بھیج دیا، لیکن آپ کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جارہی، بچہ ابھی شعور کی منزل میں قدم رکھ رہا تھا، بہت چھوٹا تھا، تو ماں نے کہا: نہیں بیٹا ان کے پاس نہیں جانا، سُنا ہے جو ان سے ملے تو وہ دین ودھرم چھین لیتا ہے، بچے نے کہا: ماں میں پکا رہوں گا، بتوں کا وفادار ہوں، تم اس پریشانی کو چھوڑ دو، چنانچہ وہ بچہ حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، حضور ﷺصحن حرم میں چادر اوڑھے بیٹھے ہوئے تھے، وہ جاکر کہنے لگا: میں پہلی بات آپ سے کہتا ہوں کہ آپ کا دین میں نے قبول نہیں کرنا۔

حضور ﷺمسکرا کر بولے: بیٹا! بتاؤ کس لئے آئے ہو؟ کہا: میری ماں بے لباس ہے میں آپ سے لباس لینے آیا ہوں، حضورﷺ نے چادر رحمت اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال دی، وہ واپس آگیا اور ماں کو حضور ﷺکی چادر اوڑھائی، تو ماں نے کہا: بیٹا! انھوں نے اپنا دین تو تجھے نہیں دیا؟ تو کہا: ماں! نہیں ، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کا دین نہیں مانوں گا، ماں کہنے لگی: نہیں بیٹا، اس کا دین ماننا چاہئے جس نے یہ رحمت کی چادر ہمارے سر پر ڈالی ہے۔

ملتی جلتی احادیث