روایت: ’’ایک بچے کا اپنی ماں کےلئے لباس لینے کےلئے چچا کے پاس جانا، اور چچا کا لباس دینے سے انکار کرنا، پھر بچے کا کسی کے کہنے پر آپﷺ کے پاس جاکر لباس کا مطالبہ کرنا اور ساتھ میں یہ کہنا کہ میں آپ کا اسلام قبول نہیں کروں گا، حضورﷺ کا اس بچے کو اپنی چادر دینا، اس پر اس بچے کی ماں کا کہنا کہ حضورﷺ کے اسلام کو قبول کرنا چاہئے‘‘۔
تفصیل
’’ایک بچہ اپنے چچا کے پاس اپنی ماں کےلئے لباس لینے گیا، اس کی ماں بیوہ تھی اور لباس پھٹ گیا تھا، تو چچا نے اس کو دھتکار دیا، ماں نے اس کو روکا تھا بیٹا نہ جانا، تو اس نے کہا: آپ کے بدن پر جو لباس ہے وہ بھی پھٹ گیا اور جگہ جگہ جسم جھلک رہا ہے تو میں اپنے چچا سے آپ کےلئے لباس لے کر آتا ہوں، جب اس کے چچا نے اس کو ڈانٹا تو وہ واپس روتے ہوئے آرہا تھا، کسی نے راستے میں پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: چچا کے پاس ماں کےلئے لباس لینے گیا تھا، تو اس نے دھتکار دیا، تو اس شخص نے کہا: جا، صحن حرم میں محمدﷺ کے نام کا ایک شخص بیٹھا ہوا ہے، اگر تو اپنا دکھڑا اس کے سامنے پیش کرےگا تو امید ہے کہ وہ تمہیں رد نہیں کرے گا، لیکن سن لے ان کا دین کوئی اور ہے، تو وہ بچہ اپنی ماں کے پاس آیا چچا نے رُلا کر بھیج دیا، لیکن آپ کی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جارہی، بچہ ابھی شعور کی منزل میں قدم رکھ رہا تھا، بہت چھوٹا تھا، تو ماں نے کہا: نہیں بیٹا ان کے پاس نہیں جانا، سُنا ہے جو ان سے ملے تو وہ دین ودھرم چھین لیتا ہے، بچے نے کہا: ماں میں پکا رہوں گا، بتوں کا وفادار ہوں، تم اس پریشانی کو چھوڑ دو، چنانچہ وہ بچہ حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، حضور ﷺصحن حرم میں چادر اوڑھے بیٹھے ہوئے تھے، وہ جاکر کہنے لگا: میں پہلی بات آپ سے کہتا ہوں کہ آپ کا دین میں نے قبول نہیں کرنا۔
حضور ﷺمسکرا کر بولے: بیٹا! بتاؤ کس لئے آئے ہو؟ کہا: میری ماں بے لباس ہے میں آپ سے لباس لینے آیا ہوں، حضورﷺ نے چادر رحمت اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال دی، وہ واپس آگیا اور ماں کو حضور ﷺکی چادر اوڑھائی، تو ماں نے کہا: بیٹا! انھوں نے اپنا دین تو تجھے نہیں دیا؟ تو کہا: ماں! نہیں ، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کا دین نہیں مانوں گا، ماں کہنے لگی: نہیں بیٹا، اس کا دین ماننا چاہئے جس نے یہ رحمت کی چادر ہمارے سر پر ڈالی ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت شیماء R کا بکریاں چرانے کےلئے والدہ کو اپنے رضاعی بھائی محمد ﷺ کو اپنے ساتھ بھیجنے کا کہنا، اور وجہ یہ بتانا کہ بکریاں جلدی سے چر کر بھائی کے پاس آکر بیٹھ جاتی ہیں، اور ان کا چہرہ دیکھتی رہتی ہیں۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے اہل خانہ کےلئے کوئی چیز خریدے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ان کے پاس لائے، تو اس کے ستر سال کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’غار ثور میں حضرت ابو بکرr کو شدید پیاس لگی، آپﷺ سے عرض کیا، غار کے دہانے پر جاکر پینے کا حکم ہوا، حضرت ابو بکرr نے پانی پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھاجو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ایک فرشتے نے جنت الفردوس کی نہر سے جاری کیا تھا‘‘۔
روایت: حدیث قدسی: اللہ تعالی کا اپنے نبی شعیا e کے واسطہ سے آسمان وزمین کو مخاطب کرکے نبیﷺ کی شان بیان کرنا۔