التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)

روایت: حضرت شیماء R کا بکریاں چرانے کےلئے والدہ کو اپنے رضاعی بھائی محمد ﷺ کو اپنے ساتھ بھیجنے کا کہنا، اور وجہ یہ بتانا کہ بکریاں جلدی سے چر کر بھائی کے پاس آکر بیٹھ جاتی ہیں، اور ان کا چہرہ دیکھتی رہتی ہیں۔

تفصیل

’’ایک دن ماں نے کہا: شیماء! بہت دیر ہوگئی ہے تم ابھی بکریاں چرانے نہیں گئی؟ اس نے کہا: امی میں اکیلی ہوں اور بکریاں زیادہ ہیں، یہ مجھ سے نہیں سنبھل سکتیں، میرے ساتھ کسی اور کو بھیج دو، میں گرمی کے موسم میں سارا دن بھاگ کر تھک جاتی ہوں، حلیمہ سعدیہ نے کہا: بیٹی گھر میں اور تو کوئی نہیں ہے جسے آپ کے ساتھ بھیجوں، اس لئے آپ کو اکیلے ہی جانا پڑے گا، اس نے کہا: امی مجھ سے یہ کام نہیں ہوسکتا، میں اکیلی بکریوں کو نہیں سنبھال سکتی، جب ماں نے مجبور کیا تو شیماء R کہنے لگی: میں ایک شرط پر بکریاں چرانے کےلئے جاتی ہوں، ماں نے کہا بیٹی کیا شرط ہے؟ شیماء R نے کہا: جی آپ میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی محمد ﷺ کو بھیج دیں تو میں بکریوں کے ساتھ چلی جاؤں گی، ماں نے کہا: بیٹی! ایک بکریوں کو چرانا اور دوسرا بچے کو سنبھالنا یہ دونوں کام ایک ساتھ کیسے کر پاؤ گی؟ اس نے کہا: امی! اگر اکیلی جاؤں گی تو بکریاں نہیں سنبھال سکوں گی، اور اگر ساتھ بھائی کو لے کر جاؤں گی تو بکریاں سنبھال لوں گی پھر حلیمہ سعدیہ نے پوچھا: شیماء R ذرا کھل کر بتاؤ کہ تم کیا کہنا چاہتی ہو؟ شیماء R نے کہا: امی! ایک دن میں اپنے بھائی کو ساتھ لے کر چلی گئی تھی تو میں نے دیکھا کہ بکریوں نے تھوڑی دیر میں جلدی جلدی گھاس چر کر کھالی، اور جس جگہ میں اپنے بھائی محمد ﷺ کو گود میں لے کر بیٹھی تھی، بکریاں بھی وہیں آکر بیٹھ گئیں، اور تمام بکریاں بھائی کا چہرہ دیکھنے لگیں‘‘۔

ملتی جلتی احادیث