روایت: ’’ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ علماء اور فقہاء سے دور بھاگیں گے، تو اللہ تعالی ان کو تین مصیبتوں میں مبتلا کردیں گے: 1 ان کی کمائی سے برکت اٹھا لی جائے گی، 2 اللہ تعالی ان پر ظالم بادشاہ مسلط کردیں گے، 3 وہ دنیا سے بغیر ایمان کے جائیں گے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] درة الناصحين:ص:24،فيضي كتب خانه ـ كوئته ـ باكستان .
ملتی جلتی احادیث
حکایت: آیت شریفہ ’’يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا‘‘ کی تفسیر میں نصوح نامی شخص کا قصہ
حکایت کا خلاصہ:نصوح نامی ایک شخص گزرا ہے جس کی آواز اور چہرہ عورتوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا تھا، وہ عورتوں کو حمام میں نہلاتا اور ان کے جسم کو ملتا تھا، بادشاہ کے گھر کی عورتیں بھی اس کے پاس آتی تھیں، اس کے فریب پر کوئی مطلع نہ ہوسکا، وہ توبہ کرتا لیکن توڑ دیتا، ایک مرتبہ بادشاہ کی لڑکی کا ایک موتی حمام میں گم ہوگیا، دربان عورتوں نے حمام کا دروازہ بند کر دیا اور سامانوں میں تلاش کرنا شروع کردیا لیکن وہ موتی کہیں نہیں ملا، آخر میں سب کو کپڑے اتارنے کا حکم ہوا، نصوح خوف سے تنہائی میں چلا گیا، چہرہ زرد اور ہونٹ نیلے ہوگئے، وہ مرنے کے قریب ہو گیا کہ اگر اس کے کپڑے اتارے گئے تو راز فاش ہو جائے گا، اس نے اللہ تعالی سے تنہائی میں آہ و زاری کی، پکی اور سچی توبہ کی، چنانچہ اس کی باری آنے سے قبل ہی موتی مل گیا۔
روایت: ’’جو شخص دن میں پچیس مرتبہ ’’اللهم بارك لي في الموت، وفيما بعد الموت‘‘ پڑھے گا،اللہ تعالی اسے شہیدوں جیسا اجر عطا فرمائیں گے اگرچہ اسے موت اپنے بستر پر ہی کیوں نہ آئے‘‘۔
روایت: ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا شبہ کے ساتھ سوچنا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد ضرار کے معاملہ میں پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ پھر اسی فکر میں صحابی رضی اللہ عنہکا سوجانا، اور خواب میں مسجد ضرار کو گند سے بھرا ہوا دیکھنا اور اس کے پتھروں سے دھواں کا اٹھنا، اور اس دھواں کا صحابی رضی اللہ عنہکے حلق میں جانا، اور پھر صحابی رضی اللہ عنہ کا اپنے اوپر افسوس کرنا۔
روایت:ایک بچہ کا اپنی ماں کی گود میں حضرت یوسف e کی پاک دامنی کی گواہی دینا، اور حضرت یوسف e کا اس بچے کے جوان ہونے پر اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا، اور اس پر حضرت جبرئیل e کا یہ فرمانا: اللہ کریم اس مومن کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے جس نے پوری زندگی اللہ تعالی کی وحدانیت کی گواہی دی۔
روایت: ’’يقول الله تعالى: لا إله إلا الله حصني فمن دخله أمن عذابي‘‘. اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے، جو شخص اس میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سےمامون ہے۔