’’الیواقیت الغالیه فی تحقیق و تخریج الأحادیث العاليه‘‘ کا مختصر تعارف
تفصیل
خود حضرت جونپوری l اس گراں قدر مجموعہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ چند علمی خطوط کے جوابات ہیں، ان کے لکھنے میں نہ تحریر الفاظ پیش نظر ہے،نہ خوشنمائی مقصود ہے، نہ یہ خوشنمائی کاذریعہ ہیں، اس لئے شائع کئے جارہے ہیں کہ شاید طلبہ کو نفع ہوجائے،اگر اللہ تعالیٰ قبول فرمالیں ان کا کرم ہے،علماء سے گذارش ہے کہ اس کو دیکھیں،اگر کسی مقام پر سقم معلوم ہومجھے اطلاع کردیں تاکہ بعد وضوحِ حق اس کی اصلاح کی جاسکے‘‘[1]۔
مجموعہ ہذا کے مُرَتِّب ومُہَذِب حضرت مولانا محمد ایوب سورتی صاحب مدظلہ اس مخزن کے زیورِ قرطاس سے آراستہ ہونے کی سرگزشت یوں بیان کرتے ہیں:
’’یہ مجموعہ مکاتیبِ علمیہ بنام ’’الیواقیت الغالیة فی تحقیق وتخریج الأحادیث العالیة‘‘ حضرت الاستاذ کے ان قیمتی ونادر وحدیثی مضامین وعلوم کا خزینہ ہے جس کی ترتیب وتہذیب اور نشر واشاعت کی سعادت اس حقیر کے حصہ میں آرہی ہے۔
اس کا بہت افسوس ہے کہ یہ خزینہ بہت دیر سے منظرعام پر آرہاہے، راقم الحروف [مولانا ایوب سورتی دامت برکاتہم] کو اپنی زمانہ طالب علمی سے اس کا علم تھا خوداستاذمحترم نے بعض جوابات کو اپنی کاپی میں نقل کروانے کا حکم فرمایا تھا،یہ وہ کنز مکنون تھا جس کو بہت پہلے منظرعام پر آنا چاہئےتھا، مگر حضرت کی طبیعت پر انکسار وتواضع کا غلبہ اور شہرت پسندی سے تنفر نے اب تک اس کو چھپائے رکھا۔
جب گذشتہ سال مارچ ۲۰۰۷ء میں بندہ حضرت الاستاذ کی خدمت میں سہارنپور حاضر ہو اتب پتہ چلاکہ اس مجموعۂ علمیہ کی کتابت ہوچکی ہے، اور اس کی ذمہ داری محترم مولانا محمد ناظم ندوی صاحب مہتمم وبانی ا لمعہد الاسلامی مانک مئو سہارنپور نے لے لی ہے،اور عموم نفع کے لئے کئی مضامین کا اردو ترجمہ کروا کر اپنے ماہنامہ ’’حرا کا پیغام‘‘سے شائع بھی کررہے ہیں،مگر پورے مجموعۂ پر نظر ثانی اور تصحیح کی ضرورت ہے جس کا انتظار ہے،احقر نے اپنی نااہلی کے باوجود اس کی تصحیح ونظرثانی اور اس کے طبع کروانے کی ذمہ داری لے لی، اور پھر اپنے مستقر پر آکر مولانا ناظم صاحب سے کتابت شد ہ اوراق کی C.D حاصل کرلی اور اپنے بڑے بیٹے مولوی حذیفہ سلمہ اللہ سے کمپوٹر پر ہی کتابت کی اغلاط کی اصلاح کروانی شروع کردی، مگر چونکہ اصل کاپی کو جس پر حضرت نے جوابات نقل کروائے ہیں مختلف طلبہ اپنے اپنے وقت میں نقل کرتے رہے، اور ان کی نقل میں اغلاط کا احتمال بھی تھا، اور بعض الفاظ کا سمجھنا بھی دشوار تھا،اس لئے بسااوقات اصل کتب ومتون کی طرف مراجعت کرنی پڑتی،مگر حضرت کے پاس اور اس وقت جوکتب وشروح تھیں اب اپنے پاس جوکتب ہیں، مطابع کے اختلاف سے صفحات بھی بدل گئے، اس لئے بڑی دقت پیش آتی رہی اور کافی وقت گذرنے کےبعد تھوڑا ہی کام ہوسکا،پھرعزیز موصوف دوسری جگہ ملازمت کی وجہ سے چھٹیوں میں جب آتے کام ہوتا،جب جاتے رک جاتا،اسی میں تقریبا ۶ماہ گذر گئے،پھر رمضان المبارک اور اس کے بعد ان کے حج کا مسئلہ آیا اور کام رک گیا[2]۔
مولانا محمد ایوب سورتی صاحب مدظلہ چند سطروں کے بعد لکھتے ہیں:
’’اس مجموعہ کا نام حضرت الاستاذ نے انتہائی تواضع کی بناء پریہ فرمایا کہ بس چند علمی خطوط رکھ دیا جائے،کسی طالب علم کو کچھ فائدہ ہوجائے توبساغنیمت [اصل میں اسی طرح ہے] ہے مگر نہ صرف احقر بلکہ بہت سے تلامذہ نے یہ چاہا کہ مجموعہ کا مستقل کوئی نام آج کل کے حالات کے اعتبار سے ہونا چاہئے،چنانچہ استاذِمحترم سے معذرت کے ساتھ اس کانام ’’الیواقیت الغالیة فی تحقیق وتخریج الأحادیث العالیة‘‘ رکھا جارہاہے،اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ اس مجموعہ کو اہل علم اور باذوق طلبہ کےلئے نافع اور مفید بنائے اور عنداللہ قبولیت نصیب ہو‘‘[3]۔
مولانا ناظم ندوی صاحب تعارف ِکتاب میں رقم طراز ہیں:
’’زیرنظر
کتاب آپ کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے،بلکہ یہ ان سوالات کے جوابات ہیں جومختلف
اوقات میں مختلف علماء ومحدثین اور اصحابِ تحقیق نے احادیث کے متعلق آپ سے کئے،
ان میں بہت سے حضرات نے قطب العرب والعجم حضرت شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا صاحبl سے سوالات کئے،بہت سے حضرات نے رئیس المتکلمین حضرت مولانا شاہ اسعداللہ صاحب l ناظم
مدرسہ مظاہرالعلوم سے کئے،ان شیوخ کبار نے بھی وہ سوالات آپ پر اعتماد فرماکرآپ
ہی کے پاس بھیج دئیے کہ ان کے جوابات تحریر فرمادیں، کبھی خود شیح l نے آپ سے سوالات کئے اور ان کے
جوابات لکھنے کو فرمایا،سوالات کرنے والوں میں مقتدر علماء کرام بھی ہیں اور
محدثین عظام بھی،اساتذہ کبار بھی ہیں اور قابل قدر محققین بھی،آپ نے اپنے علمی
مشاغل،مصروفیات اور کثرت امراض کے باوجود ان کے تحقیقی جوابات عنایت فرمائے‘‘[4]۔
استاذ شعبۂ تخصص فی علوم الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ معروفی صاحب مجموعہ ہذا کو حضرت دامت برکاتہ کے علوم الحدیث میں رسوخ کی سند قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ کوئی باضابطہ تصنیف نہیں، لیکن اپنی معنویت وافادیت کے لحاظ سے بہت سی ان تصانیف سے فائق ہے،جو برسوں کی منصوبہ بندی، غور وتدبر اور اہل علم وفضل یا اربابِ دانش کی مشترکہ جد وجُہد کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوا کرتی ہیں، کتاب درحقیقت علوم اسلامیہ خصوصاً علم حدیث کی ایک جامع اور موسوعی شخصیت کی نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط شبانہ روز محنت وجاں کا ہی ثمرہ ہے، دنیا تو انہیں صرف درسِ حدیث کے ایک مسند نشیں یا شیخ الحدیث کی حیثیت سے جانتی تھی، مگر اس کتاب نے ان کی زندگی کے اس پہلو سے بھی نقاب کشائی کردی کہ آپ ایک بلند پایہ محقق، نکتہ رس، خاص طور سے علوم حدیث کی پوری لائبریری پر عبوررکھتے ہیں، یہ کتاب بجاطور پر مشہور مثل کی مصداق ہے کہ: سوسنار کی ایک لوہار کی۔۔۔‘‘[5]۔
حضرت مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی اس مجموعہ کو نایاب گوہر قرار دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’الیواقیت الغالیہ میں حضرت مولانا مدظلہم العالی کے وہ مکتوبات اور وہ بہت سے اجزاء اور رسائل شامل کیے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے موضوع اور مبحث پر بصیرت افروز کتاب،علمی رہنما اور اس عنوان کی کم سے کم قریب العہد مصنفات میں جامع ترین اور اعلیٰ ترین تحقیق ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ برصغیر ہند کی علمی تاریخ میں، خصوصاً حدیث شریف کے مباحث میں فخر المتأخرین حضرت مولانا عبد الحئ فرنگی محلی کی تصانیف رائقہ اور تحقیقاتِ عالیہ کے بعد سے اس قدر متنوع موضوعات پر اس جامعیت، اس شرح وبسط، دقت نظر اور احسن استدلال کے ساتھ ایسا متنوع اور علم آفریں مجموعہ یا خزانۂ علم شائع نہیں ہوا۔
یوں تو ماشاء اللہ بڑی بڑی کتابیں، شروحات کتبِ ستہ، تعلیقاتِ کتبِ حدیث اور حدیث شریف کے مختلف مباحث پر نہایت بلند مرتبہ اور محدثانہ شان کی تصانیف ورسائل مرتب ہوئے اور شائع ہوئے، اہل علم کی ایک بڑی تعداد ان سے فائدہ اٹھارہی ہے، لیکن قریب کے دور میں حدیث کے مباحث وعنوانات پر کسی ایک عالم نے ایسا بسیط کام کیا ہو، روایات کے تمام گوشوں اور نقد وتحقیق کے تمام اصولوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس قدر عنوانات پر اس جامعیت اور وسعت نظر کے ساتھ گفتگو فرمائی ہو، راقم السطور کے علم میں نہیں۔۔۔‘‘[6]۔
ملتی جلتی احادیث
امام،محقق،محدث العصر،شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یونس جونپوری l کا اجمالی تعارف
روایت: ’’نماز مؤمن کی معراج ہے‘‘،یہ حدیث نہیں ہے، کسی کا مقولہ ہے۔
’’تختم بالعقیق‘‘(عقیق کی انگوٹھی پہننے)کے بارےمیں منقول روایات سب واہی ہیں،اورمحققین ناقدین ان روایات کوبے اصل اورموضوع کہتےہیں۔
روایت: ’’عدلِ فاروقی کا مشہور قصہ جس میں حضرت عمر r نے اپنے بیٹے کی قبر پر کوڑے مارے‘‘، یہ بے اصل ہے،اور صحیح قصہ دوسرا ہے۔
روایت: ’’×طلب العلم فريضة على كل مسلم ومسلمة÷. (علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے)‘‘، اس میں لفظِ ×مسلمة÷ (مسلمان عورت) کا اضافہ ثابت نہیں ہے، لیکن معنی درست ہیں۔