التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ اول)

روایت: ’’الناس کلّهم مَوْتَى إلاّ العالمون...‘‘. علماء کے علاوہ تمام لوگ بے جان ہیں۔۔۔‘‘۔

حکم: یہ من گھڑت ہے، البتہ اس مضمون پر مشتمل الفاظ ذوالنون مصری l اور سَہل تُستَرِی l سے ثابت ہیں۔

تفصیل

محدثینِ کرام ہر زمانے میں یہ اہتمام فرماتے رہے ہیں کہ آثار صحابہp کو ارشادات ِنبوی سے ممتاز رکھا جائے، تاکہ اسلامی مستدلات خلط سے محفوظ رہیں، اور یہ بھی ملحوظ رہے کہ ایک شخص کبھی غلطی سےبھی غیر نبویﷺ الفاظ کو حضورﷺ کی جانب منسوب کرسکتا ہے،علامہ ابن عراقl  وضاعین کی ایک نوع کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’(الصِنْف السابع)قوم وقع الموضوعُ في حدیثهم ولم یتعمّدوا الوضعَ، کمَنْ یغلط فیُضِیفُ إلى النبي صلی ﷲ علیه وسلم کلامَ الصحابة أوغیرَهم...‘‘.

’’ساتویں قسم ان لوگوں کی ہے جن کی احادیث میں من گھڑت روایات داخل ہوجاتی ہیں، حالاں کہ یہ لوگ اسے خود وضع نہیں کرتے، مثلاً: ایک شخص غلطی سے صحابہp یا کسی اور کا کلام حضور ﷺ کی جانب منسوب کر دے۔۔۔‘‘۔

ذیل میں اسی عنوان کے تحت ترتیب وار چار (حدیث نمبر: ۲۴ تا ۲۸) ایسی روایتوں کی تحقیق لکھی جائی گی ،جو زبان زدِعام صاحب رسالت ﷺ کی جانب منسوب ہیں، حالاں کہ یہ بعض صحابہp یا سلف کا قول ہے یا اسرائیلیات میں سے ہے:

’’الناس كلّهم مَوْتَى إلاّ العالمون، والعالمون کلّهم هَلْکَى إلاّ العاملون، والعاملون کلّهم غَرْقَى إلاّ المُخلِصون، والمُخلِصون على خَطَرٍ عظیمٍ‘‘.

ترجمہ: ’’علماء کے علاوہ تمام لوگ بے جان ہیں، اور علماء میں عمل کرنے والوں کے علاوہ تمام علماء ہلاک ہونے والے ہیں ،اور عمل کرنے والوں میں مخلصین کے علاوہ تمام غرق ہونے والے ہیں ،اور اخلاص والے بہت بڑے خطرے سے دوچار ہیں‘‘۔

روایت کی تحقیق چار اجزا پر مشتمل ہے:

۱- روایت کا مرفوع (آپ ﷺ کا قول) طریق

۲- ذوالنون مصری l اور سہل تستری l کا قول

۳- روایت کے بارے میں ائمہ حد یث کے اقوال

۴- روایت کا فنی مقام

ذوالنون مصری l   اور سَہل تُستَرِی l کا قول

روایت پر ائمہ حدیث کا کلام:

حوالہ جات

[1] انظر أسنى المطالب:1/309،رقم:1629،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[2] شعب الإيمان:9/181،رقم:6455،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .

[3] تاريخ دمشق:ذو النون بن إبراهيم:17/428،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة1415هـ .

[4] شعب الإيمان:9/180،رقم:6454،ت:مختار أحمد الندوي،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1423هـ .

[5] اقتضاء العلمِ العمل: ص:28، رقم:21،المكتب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الرابعة1397هـ .

[6]  حلية الأولياء:10/194،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴09هـ .

[7] كشف الخفاء:حرف النون:378،رقم:2796،ت:عبد الحميد الهندواني،المكتبة العصرية ـ بيروت، الطبعة1427هـ .

[8] تذكرة الموضوعات:باب القصص والوعظ:ص:200،كتب خانه مجيدية ملتان ـ باكستان .

[9] الفوائد المجموعة:كتاب الأدب والزهد:257،رقم:123،ت:عبد الرحمن المعلمي ،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .

[10] أسنى المطالب:1/309،رقم:1629،دار الكتب العلمية ـ بيروت .