روایت: ”جو شخص اللہ کی ہم نشینی اختیار کرنا چاہے تو وہ اہلِ تصوف کے ساتھ بیٹھا کرے“، یہ روایت ان الفاظ سے منقول نہیں ہے۔
تفصیل
قول صاحبِ مثنوی : {من أراد أن یجلس مع الله فلیجلس مع أهل التصوف}. [جو شخص اللہ کی ہم نشینی اختیار کرنا چاہے تو وہ اہلِ تصوف کے ساتھ بیٹھا کرے ] مؤ لفِ تشرف [حضرت تھانوی l] کہتا ہے جن بعض رسائل سے یہ تخریج نقل کر رہا ہو ں اس میں اس قول کی تخریج نہیں کی ، یہ میں نے بڑھا یا کہ یہ الفاظ تو منقول نہیں دیکھے گئے ، لیکن دوسرے منقول الفاظ سے یہ قول ماخوذ ہو سکتا ہے، وہ ماخوذ الفاظ یہ ہیں: {أنا جلیس من ذکرني} [میں اس کا ہم نشین ہو جو مجھے یاد کرے]۔۔۔“[1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۲۳ ،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : صوفیہ کی ہم نشینی اللہ کی ہم نشینی ہے ، ص: ۱۳۸، ادارہ تالیفات اشرفیہ،ملتان ۔
اس روایت کو حافظ ابن جوزی ؒ نے ” كتاب الموضوعات“ (۲/۴۹) میں من گھڑت کہا ہے،حافظ ابن جوزی ؒ کے کلام پر امام سیوطی ؒ نے”اللآلی المصنوعہ“ (۲/۲۲۴) اور علامہ ابن عرّاق نے ”تنزيہ الشريعہ“ (۲/۲۶۸) میں اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
حضرت حکیم الامت l کی علمی و اصلاحی خدمات کا اجمالی تعارف
روایت : ”وطن کی محبت ایمان میں داخل ہے“،
اس حدیث پر مطلع نہیں ہوں۔
روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔
روایت: ”میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں“، لفظاً منقول نہیں، لیکن معنی صحیح ہے۔