روایت: ’’اللہ نے عقل کو پیدا کر کے اس سے کہا: آگے ہوجاؤ، عقل آگے ہوگئی، پھر اللہ نے فرمایا: پیچھے ہوجاؤ، عقل پیچھے ہوگئی، اور فرمایا کہ یہ دو کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں‘‘،یہ من گھڑت ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×خلق الله العقل، فقال له: أقبل فأقبل، وقال له: أدبر فأدبر، وقال: هذان كتابان من رب العالمين÷. [اللہ نے عقل کو پیدا کر کے اس سے کہا: آگے ہوجاؤ، عقل آگے ہوگئی، پھر اللہ نے فرمایا: پیچھے ہوجاؤ، عقل پیچھے ہوگئی، اور فرمایا کہ یہ دو کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں]
جواب: حدیث ثالث [یعنی یہ روایت]حافظ ابو احمد بن عدی l نے ’’الکامل‘‘ میں اور امام بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ میں روایت کی ہے:
×عن أبي هريرة مرفوعا: لما خلق الله العقل قال له: قم فقام، ثم قال له: أدبر فأدبر، ثم قال: أقبل فأقبل، ثم قال له: اقعد فقعد، فقال: ماخلقت خلقا هو خير منك، ولا أحسن منك، ولا أكرم منك، بك آخذ وبك أعطى، وبك أعْرَف وبك أعاقب، لك الثواب وعليك العقاب.
وفي إسناده حفص بن عمر قاضي حلب، عن الفضل بن عيسى الرَقَاشِي، عدّه ابن عدي منكرا، وأشار إليه الذهبي في الميزان، فأورده في ترجمة حفص بن عمر وشيخه الفضل بن عيسى، وقال البيهقي في الشعب: إسناد غير قوي، وهو مشهور من قول الحسن، ثم أخرجه بإسناده.
وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (ص: ۱۷۴، ج:۱) وقال: لايصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال يحيى بن معين: الفضل رجل سوء، وقال ابن حبان: حفص بن عمر يروي الموضوعات، لايحل الاحتجاج به [انتهى كلام ابن الجوزي].
وأخرجه الدار قطني في الأفراد من وجه آخر، وفيه سيف بن محمد الكوفي ابن أخت سفيان الثوري، قال ابن الجوزي: وهو كذاب بالإجماع.
وقال السخاوي في المقاصد الحسنة (ص: ۱۱۸) : قال ابن تيمية وتبعه غيره: إنه كذب موضوع باتفاق، انتهى.
وأخرجه العُقَيْلِي من حديث أبي أمامة بنحوه، وفيه سعيد بن الفضل القرشي عن عمر بن أبي صالح العَتَكِي، وهما مجهولان .
وقد روي الحديث عن عائشة وغيرها، بسطها السيوطي في اللآلي المصنوعة(ص: ۱۲۹،ج:۱).
قال أحمد بن حنبل: هذا الحديث موضوع، ليس له أصل.
وقال العُقَيْلِي: ولا يثبت في هذا المتن شيء.
وقال ابن حبان: ليس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر صحيح في العقل.
وقال ابن تيمية في الفرقان (ص: ۴۳): والحديث الذي ذكروه في العقل كذب موضوع عند أهل المعرفة بالحديث كما ذكر ذلك أبو حاتم البُسْتِي والدَارَقُطْنِي وابن عدي وغيرهم [انتهى كلام ابن تيمية]÷.
[ابو ہریرہ r سے مرفوعاً منقول ہے: جب اللہ نے عقل کو پیدا کیا تو اس سے فرمایا: کھڑی ہوجا، وہ کھڑی ہوگئی، پھر فرمایا: پیچھے ہٹ، وہ پیچھے ہٹ گئی، پھر فرمایا: آگے بڑھ، وہ آگے بڑھ گئی، پھر فرمایا: بیٹھ جا، وہ بیٹھ گئی، پھر اللہ نے فرمایا: میں نے تجھ سے بہتر کوئی مخلوق پیدا نہیں کی، تجھ سے زیادہ خوبصورت کوئی مخلوق پیدا نہیں کی، تجھ سے زیادہ معزز کوئی مخلوق پیدا نہیں کی، تیری وجہ ہی سے میں گرفت کروں گا، تیرا حق ادا کرنے والے کواچھا بدلہ دوں گا، اور تیری ہی وجہ سے پہچانا جاؤں گا، اور تیری ہی وجہ سے خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دوں گا، ثواب بھی تیرے لئے اور سزا بھی تجھ پر۔
اس حدیث کی سند میں قاضی حلب حفص بن عمر ہے جو فضل بن عیسی رَقَاشِی سے روایت کرتا ہے، اس روایت کو ابن عدی l نےمنکر شمار کیا ہے، اور ذہبی l نے ’’میزان‘‘ میں اسی طرف اشارہ فرمایا ہے، چنانچہ ذہبی l حفص بن عمر اور ان کے شیخ فضل بن عیسی کے ترجمہ میں اس حدیث کو لائے ہیں، اور بیہقی l نے ’’شعب الایمان‘‘ میں کہا ہے: اس کی سند قوی نہیں ہے، اور یہ حسن کے قول کے طور پر مشہور ہے، پھر اس کو سندا ًتخریج کیا ۔
ابن جوزی l نے اسے ’’موضوعات‘‘ میں ذکر کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: یہ روایت رسول اللہ ﷺ سے صحیح نہیں ہے، یحیی بن مَعِین l فرماتے ہیں: (سند میں موجود) فضل برا شخص ہے، اور ابن حبان l فرماتے ہیں: حفص بن عمر موضوعات نقل کرتا ہے، ان سے احتجاج جائز نہیں ہے، (ابن جوزی l کا کلام مکمل ہوا)۔
اور اسے دَارَ قُطْنِی l نے ’’افراد‘‘ میں ایک دوسری سند سے تخریج کیا ہے، اور اس سند میں سفیان ثوری l کا بھانجا سیف بن محمد کوفی ہے، جن کے بارے میں ابن جوزی l کا کہنا ہے کہ وہ بالاجماع جھوٹا ہے۔
اور سخاوی l نے ’’المقاصد الحسنہ‘‘ میں فرمایا ہے: ابن تیمیہ l اور ان کی اتباع میں دوسروں نے کہا ہے کہ یہ بالاتفاق جھوٹی، من گھڑت روایت ہے، انتہیٰ۔
اور عُقَیْلِی l نے ابو امامہ t سے اسی طرح روایت تخریج کی ہے، اور اس میں سعید بن فضل قرشی عن عمر بن ابی صالح عَتَکِی ہے، اور یہ دونوں مجہول ہیں ۔
اور یہ روایت عائشہ R وغیرہ سے بھی مروی ہے، سیوطی l نے ’’اللآلئ المصنوعہ‘‘ میں اسے تفصیل سے لکھا ہے۔
احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: یہ موضوع حدیث ہے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔
اور عُقَیْلِی l فرماتے ہیں: اور اس متن میں کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔
اور ابن حبان l فرماتے ہیں: عقل کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی صحیح خبر نہیں ہے۔
اور ابن تیمیہ l’’فرقان‘‘ میں فرماتے ہیں: اور یہ لوگ عقل کے بارے میں جو حدیث ذکر کرتے ہیں، حدیث کی معرفت رکھنے والوں کے نزدیک یہ جھوٹ، من گھڑت ہے، جیسا کہ یہی بات ابوحاتم بُسْتِی l ، دَارَ قُطْنِی l ، ابن عدی l وغیرہ نےکہی ہے(ابن تیمیہ l کی بات مکمل ہوئی)]
اور×هذان كتابان من رب العلمين÷ [یہ دونوں کتابیں رب العالمین کی جانب سے ہیں] کی زیادتی[1]اس حدیث میں کسی طریق میں بھی نہیں ملی‘‘[2]۔
حوالہ جات
[1]حضرت شاہ ولی اللہ l نےبھی ’’حجۃ الله البالغۃ‘‘ (۱/۴۴) میں یہ اضافہ بغیر کسی مخرج کو ذکر کیے لکھا ہے۔
[2]الیواقیت الغالیہ: خلق العقل فقال له الخ کی تخریج ؟ ۱/۳۹۶ ۔
حافظ صغانی l ’’الموضوعات‘‘ (ص:۳۵،رقم:۲۷)میں اور حافظ ابن قیم l’’المنارالمنیف‘‘ (ص:۶۶،رقم:۱۲۰)میں فرماتے ہیں کہ یہ من گھڑت ہے،حافظ ابن حجر l’’فتح الباری‘‘ (۶/ ۲۸۹)میں فرماتے ہیں کہ اس روایت کا کوئی طریق ثابت نہیں ہے،حافظ زرکشی lفرماتے ہیں کہ یہ روایت من گھڑت ہے(دیکھئے :کشف الخفاء:رقم:۲۰۷۵)،البتہ حافظ سیوطی l اور علامہ زَبِیدی l اس کے ثبوت کی جانب مائل ہیں،دیکھئے: ’’الدرر المنتثرة‘‘ (رقم:۳۴۴)، ’’اتحاف السادة المتقين‘‘ (۱/۷۵۳). بہر صورت اثبات کے طرق بھی محل نظرہیں،لہذاعدمِ ثبوت کا قول ہی درست ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روزِ قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، اس آواز کو سن کر محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، انہیں محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے نہیں روکا جائے گا(یعنی یہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے)‘‘، یہ من گھڑت روایت ہے۔
۳ - اس کے تحت دو اجزاء ہیں
روایت: ’’جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے‘‘،ذہبی l فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔
روایت: ’’دنیا کے واسطے عمل اس طرح کر، گویا کہ تو ہمیشہ زندہ رہے گا، اور آخرت کے واسطے عمل اس طرح کر گویا کہ تو کل مرنے والا ہے‘‘،یہ روایت ان لفظوں سے حدیث نہیں ہے،بلکہ اقوالِ سلف میں سے ہے۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تمہاری دنیا میں، تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے،اس کے بعد حضرت ابوبکرr نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی تین چیزیں محبوب ہیں .... پھر حضرت عمر r نے بھی یہی فرمایا،اور ان کے بعد حضرت عثمان r و حضرت علی r نے بھی اپنی تین محبوب چیزیں ذکر کیں‘‘، آپ اس کی کوئی صحیح یا حسن یا ضعیف سند ہی نہ پائیں گے۔