التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابر عظام کا من گھڑت روایات پر تعاقب

{العلم علمان: علم الأبدان و علم الأديان}. ’’علم کی دو قسمیں ہیں: جسمانی علوم اور دینی علوم‘‘، یہ حدیث نہیں۔

تفصیل

{ .... العلم علمان الخ}  اولاً یہ حدیث نہیں، بعد تسلیم وفرض اس کے حدیث ہونے کے، وہ خود تفرقہ کرتی ہے کہ علم کی دو نوع ہیں، اور علم اَبْدَان جو فن طب ہے علم دین سے جدا ہے، کیونکہ ہر نوع دوسری نوع سے متبائن اور ضد ہوتی ہے، بہر حال علم اَبْدَان کا علم دین کا غیر اور ضد ہونا، اس سے واضح ہوگیا، اور بالا [اوپر]واضح ہوگیا کہ جس علم کی تحصیل کا حکم ہے، وہ علم دین کا ہی ہے، فقط!‘‘[1]۔

حوالہ جات

[1]  باقیات فتاوی رشیدیہ : علم سے مراد علم دین ہے، طلب علم سے اسی کی ترغیب دی گئی، ص: ۳۹۹،  دار الکتاب  لاہور۔

علامہ صغانی l نے ’’موضوعات‘‘ (ص:۳۸)میں، ملا علی قاری l نے  ’’اسرار المرفوعہ‘‘ (ص: ۲۴۷) میں،اور علامہ پٹنی l نے ’’ تذکرة الموضوعات‘‘ (ص:۱۸)میں،علامہ شوکانیl  نے ’’الفوائد المجموعہ‘‘ (ص:۳۱) میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے،نیز ربیع بن سلیمان l نے اسے امام شافعی l    کا قول کہا ہے،تفصیل کے لئے دیکھئے :کتاب غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ، حصہ دوم،ص:۲۹۶۔