روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’الزارع يتاجر ربه‘‘.کھیتی کرنے والا اپنے رب کے ساتھ تجارت کرتا ہے‘‘۔
حکم: حافظ جمال الدین زیلعی l فرماتے ہیں: ’’ یہ غریب جداً ہے‘‘، علامہ صدر الدین ابن ابی العز حنفیl فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث منکر ہے،اس کی کوئی اصل نہیں ہے‘‘، حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ حدیث نہیں مل سکی‘‘،حافظ بدر الدین عینی l فرماتے ہیں: ’’اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے، اور یہ غریب جداً ہے‘‘، شیخ عبد الفتاح ابو غدہ l فرماتے ہیں: ’’میں اس حدیث پر واقف نہیں ہوسکا ہوں‘‘، الحاصل اس روایت کو آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] كتاب الكسب:ص:143،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[2] كتاب المبسوط للسرخسي:۲۲/۷۲،دار المعرفة ـ بيروت .
[3] شرح كتاب السير الكبير:3/117،ت:أبو عبد الله محمد حسن محمد حسن إسماعيل الشافعي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .
[4] الهداية:۶/۴۵۸،ت:نعيم أشرف نور أحمد،إدارة القرآن والعلوم الإسلامية ـ كراتشي ـ باكستان،الطبعة الأولى1417هـ .
[5] الاختيار لتعليل المختار:4/171،ت:محمود أبو دقيقة،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[6] تبيين الحقائق:۵/۲۰۷،المطبعة الكبرى الأميرية ـ مصر،الطبعة الأولى1315هـ .
[7] العناية شرح الهداية:۵/۳۹۰،ت:أبو محروس عمرو بن محروس، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1428 .
[8] تكملة شرح فتح القدير أي: نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار:۹/295،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1424هـ .
[9] تكملة البحر الرائق:8/103،المطبعة العلمية ـ مصر،الطبعة الأولى1311هـ .
[10] نصب الراية:4/۱۶۶،رقم:۶۹۶۳،ت:محمد عوامة،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[11] التنبيه على مشكلات الهداية:5/۶۵۶،ت:أنور صالح أبو زيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1424هـ .
[12] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:2/2۰۰،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .
[13] البناية شرح الهداية:1۱/۱۳۶،ت:أيمن صالح شعبان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۰هـ .
[14] انظرالتعليقات على كتاب الكسب:ص:143،ت:عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1417هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو یا اس کے پاس سے گزرے، اور اس نے سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص اور سورۂ تکاثرایک بار پڑھی، اور پھر اس نے کہا: (اے اللہ!) میں نے تیرے کلام میں سے جو پڑھا، میں اس کا ثواب قبرستان کے مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے کرتا ہوں، نبیﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اس بندے کےلئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہوں گے، باوجودیکہ میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا، شفاعت کی اجازت دئیے جانے والا ہوں گا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’السخي إنما يجود من حسن الظن بالله، والبخيل إنما يبخل من سوء الظن بالله‘‘. جو شخص سخاوت کرتا ہے وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ حسن ظن کی وجہ سے کرتا ہے، اور جو بخل کرتا ہے وہ حق تعالی شانہ کے ساتھ بدظنی سے کرتا ہے‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ نے چار دراہم کی ایک قمیص خرید کر اسے پہنا، اچانک ایک انصاری آدمی سامنے آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ قمیص مجھے دے دیں، اللہ تعالی آپ کو جنت کا لباس پہنائیں گے، آپ ﷺ نے قمیص اتار کر اسے دے دی، آپ ﷺ پھر دکان دار کے پاس گئے، اور اس سے چار دراہم کے بدلہ ایک قمیص خرید لی، آپ ﷺ کے پاس دو درہم باقی رہ گئے، راستہ میں ایک باندی ملی جو رو رہی تھی، آپ ﷺ نے وجہ پوچھی تو باندی نے کہا: میرے گھر والوں نے مجھے آٹا خریدنے کےلئے دو درہم دئے تھے، وہ دونوں ہلاک ہوگئے، سو نبی ﷺ نے بچے ہوئے دو درہم اسے دے دئے، پھر وہ روتے ہوئے پلٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: اب کیوں رو رہی ہو؟ باندی نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے ماریں گے، آپ ﷺ اس کے ساتھ گھر گئے، آپ ﷺ نے سلام کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کی آواز کو پہچان لیا، آپ ﷺ نے پھر سلام کیا، پھر سلام کیا، غرض یہ کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ سلام کیا ،پھر انہوں نے جواب دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ لوگوں نے پہلا سلام سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن ہم نے چاہا کہ آپ ہم پر سلام کی زیادتی کریں، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کتنی بلند شخصیت ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ باندی ڈر رہی تھی کہ تم اسے مارو گے، باندی کے مالک نے کہا: آپ کے اس کے ساتھ چل کر آنے کی وجہ سے یہ اللہ کی رضا کےلئے آزاد ہے، چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں خیر اور جنت کی خوشخبری دی، پھر فرمایا: اللہ تعالی نے دس میں برکت دے رکھی ہے، اللہ تعالی نے اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، اور انصار کے ایک آدمی کو بھی قمیص پہنائی، اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالی نے ایک گردن کو آزاد کروایا، اور میں اللہ تعالی کی تعریف بیان کرتا ہوں، وہی ہے جس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا کیا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج حجة الإسلام، وغزا بعدها غزوة كتبت غزاته بأربع مائة حجة، قال: فانكسرت قلوب قوم لا يقدرون على الجهاد، ولا الحج، قال: فأوحى الله عز وجل إلي: ما صلى عليك أحد إلا كتبت صلاته بأربع مائة غزاة، كل غزاة بأربع مائة حجة‘‘. جو شخص حج اسلام کرلے اور اس کے بعد جہاد کرے، تو اس کا جہاد چار سو حج کے ساتھ لکھا جائے گا، علی r فرماتے ہیں: ان لوگوں کے دل ٹوٹ گئے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور نہ ہی حج کی، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ عزوجل نے مجھ پر وحی نازل فرمائی: جو آپ پر درود پڑھے گا، اس کا درود چار سو جہاد کے ساتھ لکھا جائے گا، ہر جہاد چار سو حج کے ساتھ‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ قبیلہ بنو الحارث کے پاس گئے، وہ لوگ بخار میں مبتلا تھے، حضور ﷺ نے فرمایا: کیا حال ہے؟ کہنے لگے: حضور ہم لوگ بخار میں مبتلا ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس تو صُعَیب موجود ہے، (یہ مدینہ کی ایک خاص جگہ کا نام ہے جو وادی بطحان میں ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! ہم صُعَیب کو کیا کریں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کی مٹی لے کر پانی میں ڈال کر اس پر یہ پڑھ کر لعاب ڈالو: ’’بسم الله، تراب أرضنا بريق بعضنا شفاء لمريضنا بإذن ربنا‘‘، ان حضرات نے اس کا استعمال کیا، اللہ کے فضل سے بخار جاتا رہا‘‘۔