روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×إن الله تعالى يتجلى بصور كثيرة في الموقف÷. [اللہ تعالیٰ محشر میں مختلف صورتوں کے ساتھ تجلی فرمائیں گے]
جواب: حديث رابع، متعدد صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی ہے، انس بن مالک r، جابر بن عبد اللہ r، ابو ہریرہ r، عائشہ R وغیرہم ۔
انس بن مالک r کی حدیث خطیب بغدادی l نے ’’تاریخ بغداد‘‘ (ص: ۳۸۸،ج: ۲۰) میں روایت کی ہے ۔
×قال أخبرنا محمد بن أحمد رِزْق، حدثنا محمد بن يوسف بن حمدان الهَمْدَاني، حدثنا محمد بن عبيد [كذا فيه والصحيح عبد] بن عامر، أخبرنا عبد بن حميد الكِسِّي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر عن قتادة، عن أنس قال: لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من الغار أخذ أبوبكر بغَرْزِه، فنظر النبي صلى الله عليه وسلمإلى وجهه، فقال: يا أبا بكر! ألا أبشرك؟ قال: بلى فداك أبي وأمي! فقال: إن الله تعالى يتجلى يوم القيامة للخلائق عامة ويتجلى لك يا أبا بكر! خاصة.
قال الخطيب: هذا الحديث لا أصل له عند ذوي المعرفة بالنقل فيما نعلمه، وقد وضعه محمد بن عبد بن عامرإسنادا ومتنا÷.
[۔۔۔ انس r فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غار سے باہر تشریف لائے تو ابوبکر r نے آپ کی رِکاب تھام لی، نبی ﷺ نے ان کے چہرے کی جانب دیکھ کر فرمایا: اے ابوبکر ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤ ں؟ ابوبکر r نے کہا: کیوں نہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لئے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے ۔
خطیب l فرماتے ہیں: ہماری معلومات کے مطابق یہ روایت، نقل روایت کی معرفت رکھنے والے کے نزدیک بے اصل ہے، اس کی سندو متن سند کے راوی محمد بن عبد بن عامر نے ایجاد کی ہے]
حضرت جابر r کی حدیث الحاکم l نے ’’المستدرک‘‘ (ص: ۷۸، ج:۳) میں تخریج کی ہے۔
×قال أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، ثنا يوسف بن محمد رئيس الخياط، ثنا محمد بن خالد الخُتَلِي، ثنا كثير بن هشام الكِلابي، ثنا جعفر بن بُرْقَان، عن محمد بن سُوْقَة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر عن [كذا فيه، والصحيح بن] عبد الله رضي الله تعالى عنهما قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلمإذ جاءه وفد عبد القيس، فتكلم بعضهم بكلام لغا في الكلام، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلمإلى أبي بكر وقال: يا أبابكر! سمعت ماقالوا؟ قال: نعم يا رسول الله! وفهمته، قال: فأجبهم، قال: فأجابهم أبوبكر بجواب وأجاد في الجواب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبابكر! أعطاك الله الرضوان الأكبر، فقال له بعض القوم: وما الرضوان الأكبر يا رسول الله؟ قال: يتجلى لعباده في الآخرة عامة ويتجلى لأبي بكر خاصة .
وأخرجه أبونعيم في الحلية من طريق محمد بن خالد الخُتَلِي وقال: هذا حديثٌ ثابتٌ، رواه أعلام، تفرد به الخُتَلِي عن كثير.
وقال الذهبي في مختصر المستدرك: تفرد به الخُتَلِي، وأحسبه وضعه. وأقره الحافظ ابن حجر في اللسان .
وأخرجه الدَارَقُطْنِي وابن عدي والخطيب (ص:۱۹،ج:۱۲) من وجه آخر، وفيه علي بن عبدة التميمي أبو الحسن المكتب، وقيل: في اسمه علي بن الحسن المكتب، وقيل: إنما هو علي أبو الحسن واسم أبيه عبدة.
قال ابن عدي والخطيب: هذا باطل.
وقال الذهبي في الميزان: هذا أقطع بأنه من وضع هذا الشيخ.
[قال الشيخ الجونفوري] وله طرق أخرى لايخلو واحد منها عن علة قادحة÷.
[۔۔۔ جابر بن عبد اللہ r فرماتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے پاس تھے، اس دوران عبدِ قیس کا وفد آگیا، ان میں سے ایک شخص نے گفتگو کی، جس میں اس نے لغو انداز اختیار کیا، نبی ﷺ ابوبکر r کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے ابوبکر! تم نے ان کی بات سن لی ہے؟ ابوبکر r نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ! اور میں سمجھ بھی چکا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا: انہیں جواب دو، راوی کہتے ہیں کہ ابوبکر r نے جواب دیا اور اچھا جواب دیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! اللہ نے تمہیں بہت بڑی خوشنودی سے نواز دیا ہے، لوگوں میں سے کسی شخص نے کہا: یا رسول اللہ! یہ بڑی خوشنودی کیا ہے؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ آخرت میں دیگر لوگوں کے لئے عام تجلی فرمائیں گے،اور ابوبکر r کے لئے خاص تجلی فرمائیں گے ۔
ابو نعیم lنے ’’حلیہ‘‘ میں اس روایت کو محمد بن خالد خُتَلِی کی سند سے تخریج کیا ہے، اور پھر فرماتے ہیں: یہ حدیث ثابت ہے، جس کے راوی اعلام ہیں، خُتَلِی اسے کثیر سے نقل کرنے میں متفرد ہے۔
اور ذہبی l نے ’’مختصر المستدرک‘‘ میں کہا ہے کہ خُتَلِی اس میں متفرد ہے، اور میرا گمان ہے کہ خُتَلِی نے اسے گھڑا ہے۔ ذہبی l کے اس قول کو ابن حجر l نے ’’لسان المیزان ‘‘ میں برقرار رکھا ہے ۔
دَارَقُطْنِی l ، ابن عدی lاور خطیب l نے اسے دوسرے طریق سے نقل کیا ہے، اور اس سند میں ابوالحسن مکتب علی بن عبدہ تمیمی ہے، اور کہا گیا ہے کہ ان کا نام علی بن حسن مکتب ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ علی ابو الحسن ہے اور ان کے والد کا نام عبدہ ہے۔
ابن عدی l وخطیب lفرماتے ہیں کہ یہ باطل ہے۔
اور ذہبی l ’’میزان‘‘ میں فرماتے ہیں: میں قطعی طور پر کہتا ہوں کہ اس شیخ نے اسے گھڑا ہے ۔
(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں)اس کی دیگر سند یں بھی ہیں، لیکن کوئی بھی علت سے خالی نہیں ہے]
حضرت ابوہریرہ r کی حدیث، ابن حبان l نے کتاب ’’الضعفاء‘‘ میں روایت کی ہے:
×بنحو حديث أنس، وفيه أحمد بن محمد بن عمر بن يونس اليَمَامِي، كذبه أبو حاتم وابن صاعد، وقال الدَارَقُطْنِي: ضعيف، وقال مرة: متروك، وذكر الذهبي هذا الحديث في ترجمته في الميزان÷. [یہ روایت حدیث انس r کی طرح ہے، اس میں احمد بن محمد بن عمر بن یونس یَمَامِی ہے، ابو حاتم l اور ابن صاعد l نے اسے جھوٹا کہا ہے، اور دار قطنی l نے ایک موقع پر ضعیف، اور ایک دوسرے موقع پر متروک کہا ہے، اور ذہبی l نے احمد یَمَامِی کے ترجمہ میں یہ حدیث ’’میزان الاعتدال‘‘ میں ذکر کی ہے]
اور حضرت عائشہ R کی حدیث ابو عبد اللہ بن بَطَّہ l نے روایت کی ہے:
×بطريق عبد الله بن واقد، حدثنا ابن جريج، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا أبا بكر! ألا أبشرك؟ قال: بلى يا رسول الله! قال: إن الله تعالى يتجلى للناس عامة ويتجلى لك خاصة.
وعبد الله بن واقد هو أبو قتادة الخراني [كذا فيه، والصحيح الحَرَّانِي]، قال البخاري: سكتوا عنه، وقال أيضا: تركوه، وقال أبوزرعة والدَارَقُطْنِي: ضعيف، وقال أبوحاتم: ذهب حديثه، وقال الجُوزجاني: متروك.
واختلف الرويات عن يحيى بن مَعِيْن، فقال في رواية عبد الله بن أحمد: ليس شيء[كذا في الأصل]، وكذا روى الدُوْلابي عن عباس الدُوْرِي عن يحيى بن معين، وروی ابن جَوْصَا عن عباس، عن يحيى: ثقة، وقال مرة: ليس به باس كثير الغلط. وقال أحمد بن حنبل: كان أبو قتادة يتحرى الصدق، رأيته يشبه أصحاب الحديث، وقال في موضع آخر: ما به بأس، رجل صالح، يشبه أهل النسك، وربما أخطأ. وقال ابن حبان: كان أبو قتادة من عباد الجزيرة، فغفل عن الإتقان، فوقعت المناكير في أخباره، فلايجوز أن يحتج بخبره، ثم ذكر بعض مناكير.
[قال الشيخ الجونفوري] فالحاصل أن الرجل صدوق، ولكنه يخطیء كثيرا، فالحديث لايعتمد عليه من أجل خطأه÷.
[۔۔۔ عائشہ R سے منقول ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر ! کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں، ابوبکر r نے عرض کی، کیوں نہیں، یارسول اللہ! نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لوگوں کے لئے عام تجلی فرمائیں گےاور آپ کے لئے خاص تجلی فرمائیں گے۔
(سند میں موجود راوی) عبد اللہ بن واقد، ابوقتادہ حرانی ہے، بخاری l نے اس کے بارے میں ایک جگہ ’’سکتوہ‘‘ اور دوسری جگہ ’’ترکوہ‘‘ نقل کیا ہے، ابوزرعہ l اور دَارَ قُطْنِی l نے اسے ضعیف کہا ہے، اور ابو حاتم l نے ذاہب الحدیث اور جُوزجانی l نے متروک کہا ہے۔
یحیی بن مَعِین l سے اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں، عبد اللہ بن احمد کی روایت کے مطابق یہ ’’لیس بشیء‘‘ ہے، اور یہی قول دُوْلَابِی نے عباس دُورِی عن یحیی l کی سند سے نقل کیا ہے، اور ابن جَوصَا نے عباس عن یحیی l کی سند سے ’’ثقہ‘‘ نقل کیا ہے، اور ایک دوسری جگہ ’’لیس بہ باس، کثیر الغلط‘‘ نقل کیا ہے، اور احمد بن حنبل l فرماتے ہیں: ابوقتادہ سچائی کو طلب کرنے والےہیں، میں تو انہیں اہل حدیث کے مشابہ پاتا ہوں، اور احمد بن حنبل l نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ان میں کوئی حرج نہیں، نیک شخص ہے، عبادت گذار لوگوں کی طرح ہے، اور کبھی کبھی خطاء کر جاتا ہے، اور ابن حبان lفرماتے ہیں کہ ابوقتادہ جزیرہ کےعبادت گذار لوگوں میں تھا، ان سے پختگی میں غفلت ہوئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی روایت میں مناکیر ہیں، لہٰذا ان کی خبر سے احتجاج جائز نہیں، پھر ابن حبان l نے ان کی بعض مناکیر ذکر کیں ۔
(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں)خلاصہ یہ کہ یہ شخص صدوق ہے، لیکن بہت زیادہ خطاء کرنے والاہے،چنانچہ ان کی خطاء کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کیا جائے گا]
اس حدیث کے اور بھی طرق ہیں، ابن الجوزی lنے ان تمام طرق کو کتاب ’’الموضوعات‘‘ میں (ص: ۳۰۴ سے ۳۰۸ تک) مع تنقید کے ذکر فرمایا ہے۔
ابن عرَّاق الکِنَانی lنے ’’تنزیہ الشریعہ‘‘ میں(ص: ۳۷۲،ج:۱) میں حضرت عائشہ R کے طریق کو حسن قراردیا ہے، لیکن یہ درست نہیں ہے، اس لئے کہ حدیث حسن کی دو قسمیں ہیں: حسن لذاتہ، حسن لغیرہ ۔
حسن لذاتہ وہ حدیث ہے جس میں حدیث صحیح لذاتہ کی تمام شرائط موجود ہوں، صرف ضبط میں کمی ہو، حدیث صحیح وہ حدیث ہے جس کا راوی عادل تامّ الضبط ہو، سند متصل ہو،معلول اور شاذ نہ ہو:
×قال الحافظ ابن حجر في نخبة الفِكَر: وخبر الآحاد بنقل عدل تام الضبط متصل السند غير معلل ولا شاذ هو الصحيح لذاته، فإن خف الضبط فالحسن لذاته، انتهى مختصرا÷. [حافظ ابن حجر l ’’نخبۃ الفکر‘‘ میں فرماتے ہیں: خبر آحاد مع نقل عدل، کامل الضبط راوی، متصل سند، علتِ وشدوذ سے خالی، صحیح لذاتہ کہلاتی ہے، پھر اگر راوی کا ضبط خفیف ہو تو خبر آحاد حسن لذاتہ کہلاتی ہے، انتہیٰ مختصراً]
اور حسن لغیرہ وہ حدیث ہے جس کی سند ضعیف ہو، لیکن دوسری اسانید وطرق سے مروی ہو،جس کے ملانے سے قوت پیدا ہوجائے اور سند ضعیف سے درجہ حسن کو پہنچ جائے ۔
حدیث ِمذکورحسن لذاتہ اس لئے نہیں ہے کہ اس کاراوی صرف خفیف الضبط ہی نہیں ہے، بلکہ کثیر الغلط ہے، کماتقدم عن ابن مَعِیْن. [جیسا کہ ابن مَعِین l کے حوالہ سے گذر چکا ہے]اور ایسا شخص سئ الحفظ والضبط ہوتا ہے۔
اور حسن لغیرہ بھی نہیں کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ ماقبل کے تمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے،اس مضمون کے لکھنے کے بعد جو دیکھا تو حدیث السوال اور ہے،لیکن بایں لفظ اب تک کہیں نہیں ملی،البتہ بخاری l ومسلم lکی بعض احادیث سے یہ مضمون ثابت ہوتا ہے‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1]الیواقیت الغالیہ: ان الله تعالی یتجلّی بصور کثیرة الخ کی تخریج،۱/۳۹۵ - ۴۰۰ ۔
حافظ عراقی lنے ’’المغنی عن حمل الاسفار‘‘ (رقم:۴۱۶۳)میں، حافظ ابن عدی l ،حافظ ذہبی l اور حافظ ابن جوزی lکے کلام کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے،نیز حافظ ابن قیم lنے ’’المنارالمنیف‘‘ (ص:۱۱۵،رقم:۲۳۹)میں اور علامہ قاؤقجیl نے ’’اللؤلؤ المرصوع‘‘ (ص:۵۵، رقم:۱۰۷)میں اس روایت کو من گھڑت کہا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: میرے نزدیک تمہاری دنیا میں، تین چیزیں محبوب ہیں: خوشبو، عورتیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے،اس کے بعد حضرت ابوبکرr نے ارشاد فرمایا کہ مجھے بھی تین چیزیں محبوب ہیں .... پھر حضرت عمر r نے بھی یہی فرمایا،اور ان کے بعد حضرت عثمان r و حضرت علی r نے بھی اپنی تین محبوب چیزیں ذکر کیں‘‘، آپ اس کی کوئی صحیح یا حسن یا ضعیف سند ہی نہ پائیں گے۔
روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔
روایت: ’’نمک سے کھانے کی ابتداء کی روایات‘‘،سب معلول ہیں، کسی کا راوی متروک ہے تو کوئی روایت گھڑنے میں متہم ہے۔
روایت : ’’میں نہیں جانتا کہ روزِ قیامت میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا‘‘،میں اس میں لفظِ ’’روزِ قیامت‘‘ پر واقف نہیں ہو سکا ہوں۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔