روایت : ’’میں نہیں جانتا کہ روزِ قیامت میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا‘‘،میں اس میں لفظِ ’’روزِ قیامت‘‘ پر واقف نہیں ہو سکا ہوں۔
تفصیل
’’سوال: ×لا أدري ما يفعل بي يوم القيامة÷ [میں نہیں جانتا کہ روزِ قیامت میرے ساتھ کیا ہوگا]حدیث ہے یا نہیں ؟
جواب: ×أخرج البخاري (ص: ۱۶۶، و:۱۰۳۹) عن أم العلاء الأنصارية رضي الله تعالى عنه قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والله! ما أدري وأنا رسول الله مايفعل بي ولا بكم÷.
[قال الشيخ الجونفوري] ولم أقف على زيادة ×يوم القيامة÷، والله أعلم.
وفي لفظ للبخاري: مايفعل به، والضمير لعثمان بن مظعون رضي الله تعالى عنه، قال ابن كثير(ص: ۱۵۵/۴): هذا أشبه أن يكون هو المحفوظ÷[1] ‘‘.
[بخاری l نے ام علاء انصاریہ R سے اپنی متصل سند سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! باوجود اللہ کا رسول ہونے کے میں نہیں جانتا میرے اور تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔
(حضرت جونپوری l فرماتے ہیں) میں لفظ ’’یوم القیامۃ‘‘ کی زیادتی پر واقف نہیں ہوسکا ہوں، واللہ اعلم!
اور بخاری l کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ×مايفعل به÷. لفظ ×به÷ کی ضمیر عثمان بن مظعون r کی جانب لوٹ رہی ہے، ابن کثیر l فرماتے ہیں: ضمیر کا عثمان بن مظعون r کی جانب لوٹانا محفوظ ہونے کے زیادہ قریب ہے]
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:لاأدری مايفعل بی يوم القيامه.حدیث ہے یا نہیں ؟۲/۳۷۷۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روزِ قیامت ایک منادی آواز لگائے گا: اے محمد ! کھڑے ہو کر بلاحساب جنت میں داخل ہوجاؤ، اس آواز کو سن کر محمد نامی ہر شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے پکارا گیا ہے، کھڑا ہوجائےگا، انہیں محمدﷺ کی شرافت کی وجہ سے نہیں روکا جائے گا(یعنی یہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے)‘‘، یہ من گھڑت روایت ہے۔
روایت: ’’تمہاری دنیا میں سے میرے لئے تین چیزیں محبوب بنائی گئی ہیں: خوشبو، عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے‘‘،محدثین کی ایک جماعت کے نزدیک اس روایت میں لفظِ ’’ثلٰث‘‘ ثابت نہیں ہے۔
روایت: ’’حضورِ قلب کے بغیر کوئی نماز نہیں‘‘،یہ قصہ گوواعظوں کی حدیث ہے، میں اب تک ان الفاظ کے ساتھ اس کی اصل پر واقف نہیں ہوسکا ہوں۔
روایت : ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ روزِ قیامت دیگر تمام لوگوں کے لیے عمومی تجلی فرمائیں گے، اور اے ابوبکر! آپ کے لئے خصوصی تجلی فرمائیں گے‘‘، اس کےتمام طرق معلول ہیں، ائمہ فن نے ان کے بطلان کا حکم لگایا ہے۔
روایت: ’’قیامت میں لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام کے ساتھ پکارا جائےگا‘‘، یہ سنداً شدید ضعیف ہے، نیز صحیح روایت سے بھی معارض ہے۔