روایت:’’نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’إياكم وجيران الأغنياء، وعلماء الأمراء، وقراء الأسواق‘‘. تم مالداروں کے پڑوسیوں، امراء کے علماء، اور بازاروں کے قاریوں سے بچو‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1]تنبیه الغافلین:ص:527،رقم: 844 ،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .
[2]تنبیه الغافلین:ص:456،رقم: 70۷،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421 هـ .
[3] الرسالة القشيرية:ص:137،ت:خليل المنصور،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة1422هـ .
[4] الغنية لطالبي طريق الحق عزوجل:2/۳۰۹،ت: صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1417هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’خمسة أضمن لهم الجنة: المرأة الصالحة المطيعة لزوجها، والولد المطيع لأبويه، والمتوفى في طريق مكة، وصاحب الخلق الحسن، ومن أذن في مسجد من المساجد إيمانا واحتسابا ‘‘. میں پانچ افراد کےلئے جنت کا ضامن ہوں: نیک عورت جو خاوند کی تابعدار ہو، اپنے والدین کا مطیع بیٹا، مکہ کے راستہ میں فوت ہونے والا، اچھے اخلاق والا ،اور جو شخص ایمان واحتساب کے ساتھ مساجد میں اذان دے‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’المجلس الصالح يكفر عن المؤمن ألفي ألف مجلس من مجالس السوء‘‘. نیک مجلس، مؤمن کی دو لاکھ بری مجلس کا کفارہ بن جاتی ہے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ کےلئے کسی شخص سے محبت کی کسی ایسے عدل کی وجہ سے جو اس سے ظاہر ہوا ہو، حالانکہ وہ اللہ کے علم کے مطابق دوزخ والوں میں سے تھا، اللہ اس سے اس کی محبت پر اسے اجر عطاء فرمائیں گے، جیسا کہ اگر یہ جنت والوں میں سے کسی شخص سے محبت کرتا، اور جس نے اللہ کےلئے کسی شخص سے بغض رکھا کسی ایسے ظلم کی وجہ سے جو اس سے ظاہر ہوا ہو، حالانکہ وہ اللہ کے علم کے مطابق جنت والوں میں سے تھا، اللہ اس شخص کو اس سے بغض رکھنے پر اجر عطاء فرمائیں گے، جیسا کہ اگر یہ دوزخ والوں میں سے کسی شخص سے بغض رکھتا‘‘۔
روایت: ’’قیامت کے دن ایک آدمی کو حاضر کیا جائےگا، سو اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامۂ اعمال دیا جائےگا، جس میں وہ حج، عمرہ، جہاد، زکوۃ، اور صدقہ دیکھے گا، سو وہ بندہ اپنے آپ سے کہےگا: ان چیزوں میں سے میں نے تو کچھ بھی عمل نہیں کیا، اور یہ میرا نامۂ اعمال نہیں ہے، سو اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے: پڑھ، کیونکہ یہ تیرا نامۂ اعمال ہے، تونے اتنا عرصہ زندگی گزاری ہے، اور تو کہتا رہا: اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں حج کرتا، اور اگر میرے پاس مال ہوتا تو ضرور میں جہاد کرتا، اور میں تیری نیت سے واقف تھا کہ تو سچا ہے، چنانچہ میں نے ان تمام کا ثواب تجھے عطاء کردیا‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں ایک انتہائی خوبصورت عابد تھا، جو ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کے دروازہ کے سامنے سے گزرا، بادشاہ کی بیوی کو وہ بہت پسند آیا، اور اس نے اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا چاہا، اس نے انکار کیا، اور گناہ سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو مارنے کےلئے چھت سے گرا دیا، اور حضرت جبرائیل e نے اللہ کے فرمان سے آکر بچا لیا۔۔۔‘‘۔