روایت:’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’إني لأكره أن أرى الرجل فارغا، لا في عمل دنيا ولا آخرة‘‘. بے شک میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی شخص کو فارغ دیکھوں، نہ کسی دنیا کے کام میں لگا ہو، اور نہ آخرت کے کسی کام میں مشغول ہو‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الزهد والرقائق:ص:۲۵۶،رقم:741 ،ت:حبيب الرحمن الأعظمي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت.
[2] كتاب الزهد للإمام وكيع:2/652،رقم:369،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة، الطبعة الأولى۱۴04هـ .
[3] الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار:۷/10۸،رقم:34562،ت:كمال يوسف الحوت،دارالتاج ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۹هـ .
[4] الزهد للإمام أحمد بن حنبل:ص:۱۳۱،رقم:874،ت:محمدعبدالسلام شاهين،دارالكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1420هـ .
[5] كتاب الزهد للإمام هناد بن السري:۲/357رقم:676،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي،دار الخلفاء للكتاب الإسلامي ـ الكويت، الطبعة الأولى۱۴06هـ .
[6] كتاب الزهد للإمام أبي داود السجستاني:ص:171،رقم:184،ت:أبو تميم ياسر بن إبراهيم بن محمد، وأبو بلال غنيم بن عباس بن غنيم، دار المشكاة للنشر والتوزيع ـ القاهرة،الطبعة الأولى۱۴14هـ .
[7] المجالسة وجواهر العلم:4/152،رقم:1326،ت:أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[8] المعجم الكبير:9/1۰۶، رقم:8۵۳۸،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة .
[9] حلية الأولياء:1/13۰،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۶هـ .
[10] كتاب الزهد الكبير:ص:294، رقم775،ت:عامر أحمد حيدر،مؤسسة الكتب الثقافية ـ بيروت،الطبعة الأولي۱۴08هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔
روایت: ’’آپ s کا ارشاد ہے: قیامت کی علامات میں سے ہےکہ خاوند اپنی بیویوں کو طلاق دیں گے ، اور پھر رجوع کئے بغیر ان کے ساتھ اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من جاع أو احتاج، فكتمه الناس وأفضى به إلى الله عز وجل، كان حقا على الله عز وجل أن يفتح له رزقا حسنا من حلال‘‘. جو شخص بھوکا ہو یا محتاج ہو اور اپنی حاجت کو لوگوں سے چھپائے، اور اسے اللہ عز وجل کے سامنے پیش کرے، تو اللہ تعالی کے ذمہ ہے کہ اس کو ایک سال کی روزی حلال طریقہ سے عطا فرمائیں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ اپنے ایک صحابی rکے ساتھ جھاڑی میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے ایک درخت سے دو مسواکیں توڑیں، ان میں سے ایک ٹیڑھی اور دوسری سیدھی تھی، آپ ﷺ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی rکو دے دی، اور ٹیڑھی مسواک خود رکھ لی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدھی مسواک کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہر گز نہیں، جب بھی کوئی شخص کسی کی مصاحبت اختیار کرتا ہے اگرچہ وہ دن کی ایک گھڑی ہو، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے اس کی مصاحبت کے متعلق سوال کریں گے، سو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کسی چیز میں اپنے آپ کو آپ پر ترجیح نہ دوں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لأن يؤدب الرجل ولده خير له من أن يتصدق بصاع‘‘. کوئی شخص اپنی اولاد کو تنبیہ کرے یہ ایک صاع صدقہ سے بہتر ہے‘‘۔