بھنگ،سگرٹ نوشی،اورتارکِ نماز کی مذمت پر مشتمل یہ حدیثیں کہیں نہیں ملتیں،حتیٰ کہ من گھڑت روایتوں پرلکھی گئی کتابوں میں بھی نہیں ہیں۔
تفصیل
’’سوال: حضرت الاستاذ شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب l کی خدمت میں ایک سوال آیا جس کا جواب لکھنے کو حضرت موصوف نے بندہ کو ارشاد فرمایا ۔
سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بزرگ ’’محمد شاہ پناہ‘‘ تقریباً دو سو سال قبل لاہور سے آکر بسلسئہ تبلیغ کَچھ (گجرات) میں مقیم ہوئے، نہایت باشرع تھے، ان کے کتب خانہ کی باقی ماندہ کتابوں میں ایک کتاب میں تارکِ نماز اور شاربِ دخان[سگرٹ پینے والا] کے بارے میں کچھ احادیث نقل کی گئی ہیں جو غیر معروف ہونے کے ساتھ مضمون کے اعتبار سے بھی غریب ہیں،اگر یہ احادیث کتبِ حدیث میں آپ نے دیکھی ہوں تو تحریر فرمائیں، وہ احادیث یہ ہیں :
1 ×قال النبي صلى الله عليه وسلم: من سمع الأذان والإقامة ولم يحضر الجماعة، فكأنما زنى مع أمه ألف مرات÷. [آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے اذان واقامت سنی اور جماعت میں حاضر نہ ہوا گویا کہ اس نے ہزار مرتبہ اپنی ماں سے زنا کیا]
2 ×قال النبي صلى الله عليه وسلم: من أعان تارك الصلوة متعمدا بِذرّة، فكأنما زنى مع أمه ألف مرات÷. [آپ ﷺ کا ارشاد ہے: اگر کسی نے جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کی ذرّہ بھر مدد کی تو گویا کہ اس نے اپنی ماں سے ہزار مرتبہ زنا کیا]
3 ×قال النبي صلى الله عليه وسلم: سيأتي زمان على أمتي يأكل الدخان في فم، وليس من أمتي، وليس شفاعة له يوم القيمة÷. [آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ دھواں اپنے منہ میں داخل کریں گے، اور یہ لوگ نہ میری امت میں سے ہیں، اور نہ روز قیامت ان کی شفاعت ہوگی]
4 ×قال النبي صلى الله عليه وسلم: من أكل البَنْج مرة، فكأنما زنى مع أمه سبعين مرة÷. [آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک مرتبہ بھی بھنگ نوشی کی، اس نے اپنی ماں سے ستر مرتبہ زنا کیا]
جواب: یہ احاد یث باوجود کثرتِ تتبع و تلاش کے کہیں نظر سے نہیں گذریں، حتیٰ کہ کتب موضوعہ للاحادیث الموضوعۃ [من گھڑت روایتوں پر لکھی گئی کتابوں] میں بھی ان کا پتہ نہیں چلتا ہے، واللہ اعلم!
(تتمہ) پھر بہت دنوں کے بعد ’’مجموعۂ فتاوی ‘‘ لمولانا عبد الحی l ( ص : ۴۱،ج ۳) دیکھنے کی نوبت آئی، اس میں یہ عبارت ملی:
سوال: ×كل دخان حرام، من أكل البنج لقمة فكأنما زنى مع بأمه÷. [ہر دھواں حرام ہے، جس نے بھنگ کا ایک لقمہ بھی کھایا، گویا کہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا] حدیث است یا نہ؟
جواب: درکتبِ معتبرہ حدیث بنظر نر سیدہ وکسیکہ ایں را حدیث نوشتہ نہ باشد، مجرد نوشتن آں قابل اعتبار نیست، اعتبار بر قولِ محدث معتبر است کہ حدیث را باسند بیان نماید، وبعض وُعَّاظ احادیث غیر معتبرہ را برائے تخویف وترغیب ذکر می کنند واز حال آں احادیث مطلع نمی باشد، انتہیٰ‘‘[1]۔
[یہ حدیث معتبر کتبِ حدیث میں نہیں گذری، اور نہ ہی کسی نے اس کو حدیث لکھا ہے،صرف اس کو لکھنا قابلِ اعتبار نہیں ہے،کسی معتبر محدث کے قول پر اعتماد کیا جائے گا، جو اس کو سند کے ساتھ بیان کرتا ہو، ویسے بھی بعض واعظین غیر معتبر روایات کو بطور تخویف و ترغیب ذکر کر دیتے ہیں، حالانکہ اس حدیث کے مکمل حالات سے مطلع نہیں ہوتے]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیۃ:من سمع الأذان والا قامة ولم یحضر الجماعة ۔۔۔ ،۲/۶۰۔
حضرت لکھنوی l (المتوفی ۱۳۰۴ھ)نے ’’الآثار المرفوعۃ‘‘ (ص:۱۵) میں ’’کل دخان حرام ‘‘ جیسی روایات لاکرانھیں موضوع قرار یا ہے،ملاحظہ ہو:
’’ومن هذا القبيل أحاديث النهي عن شرب دخان التنباك، فإني رأيت في رسالة لبعض مانعيه أخبار منسوبة إلى النبي.
منها: كل دخان حرام. ومنها: كل جوف يدخل الدخان فيه من أوراق السُمُوْم يخرج من الإيمان. ومنها: سيأتي على الناس زمانٌ يأكل أمتي الدخان قلوبها سُوْد ووجوهها ناقص وشفتاها أخضر، فإنه ذريعة الشيطان من زمان نوح، وسقي من بوله، من أكله مرة لا يدخل الجنة. ومنها: دخان كل شيء حرام. ومنها: سيأتي على الناس زمان يشربون النار من ورق الشجر يحصل فيهم ست خصال: قلوبهم سوداء، ألسنتهم خُضْر، وفمهم رسوق [كذا في الأصل]، ورغبتهم ناقص، وبصرهم قليل، يعذبون في القبر أبدا. ومنها: من شرب الدخان ولا يتوب عند الموت فليس له شفاعتي يوم القيامة. ومنها: تظهر شجرة في بلاد الهند يشرب الناس دخانها، يذهب الدين والعقول في الدنيا. ومنها: من شرب الدخان القاحك [كذا في الأصل] ولو كان مرة دخل النار في بطنه ونفس قلبه بالنار.
وهذه الأخبار يشهد من له أدنى ممارسة بالمحاورات العربية فضلا عمن له مهارة بالأحاديث النبوية بأنها موضوعة مختلقة، وضعها المشددون من مانعي شرب الدخان، وتبوأوا مقاعدهم من النيران، وقد فصلت هذه المسألة في ذكر أقوال المانعين والمبيحين في رسالتي ترويح الجنان بتشريح حكم شرب الدخان فلتطالع‘‘.
ملتی جلتی احادیث
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
۶ – جزء: صلوة الرغائب
روایتِ صلوۃ الرغائب (رجب کے پہلے ہفتہ میں پڑھی جانے والی ایک مخصوص نماز)اور پندرہ شعبان کی شب پڑھی جانے والی مخصوص نماز والی روایت محققین کے نزدیک من گھڑت ہے۔
’’مصنف عبد الرزاق‘‘ میں مذکور حضرت فاطمہ R کے نکاح کا قصہ، من گھڑت ہے،اور ’’صحیح ابن حبان‘‘ میں مذکور اسی جیسا واقعہ بھی نکارت پر مبنی ہے۔