التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: ہجرت و غزوات

ہجرت، غارِ ثور، مدینہ آمد اور غزوات کے واقعات۔

گروپ: سیرت

5 روایات

  1. روایت: ’’ ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام اپنے گھر سے باہر تشریف لائے، اور صدیق اکبر r کے دروازے پر پہنچے، ہلکی سی آواز میں سلام کیا، صدیق اکبر r فوراً باہر تشریف لائے جیسے پہلے ہی سے جاگ رہے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگ سو رہے ہیں، کیا آپ جاگ رہے تھے؟ جواب میں صدیق اکبر r نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کچھ دنوں سے اندازہ ہورہا تھا کہ آپ کو ہجرت کا حکم ملے گا، اور یہ بھی دل مانتا تھا کہ جب آپ ہجرت کےلئے روانہ ہوں گے تو اس غلام کو اپنی غلامی میں اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، پھر دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ حکم رات کو ملا، اور آپ تشریف لائے تو آپ کو جگانے کی تکلیف اٹھانی پڑے گی، چنانچہ جس دن سے خیال آیا، اسی دن سے میں نے رات کو سونا چھوڑ دیا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو میرے دروازے پر آکر کھڑا ہونا پڑے‘‘۔

  2. روایت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایک جنگ کے دوران قلعہ فتح نہیں ہورہا تھا، آپس میں مشورہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ہم سے مسواک کی سنت چھوٹ رہی ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مسواک کرنا شروع کردیا، جب دشمنوں نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ تو اپنے دانت تیز کررہے ہیں، وہ تو ہمیں کچا ہی کھا جائیں گے، تو وہ ڈر کر بھاگ گئے اور مسواک کی سنت کی وجہ سے قلعہ فتح ہوگیا۔

  3. روایت:آپ ﷺ کا بنی ہذیل کے ایک نوجوان شخص کو لشکر کا امیر مقرر کرنا، اور اس پر ایک شخص کا اعتراض کرنا کہ اسے امیر نہ بنائیں، کیونکہ آپ ہی کا فرمان ہے کہ پیشوا بوڑھا ہونا چاہئے، اور آپ ﷺ کا اس شخص سے فرمانا کہ اے ظاہر بیں! تو اس کو جوان اور بے ہنر نہ سمجھ ۔

  4. روایت: ’’جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کی جانب ہجرت کرنے کا حکم فرمایا تو آپ ﷺ نے دعا مانگی: اے اللہ! آپ مجھے میرے محبوب ترین شہر سے لے جارہے ہیں تو آپ مجھے اپنے محبوب شہر میں آباد کر دیجئے‘‘،ذہبی l فرماتے ہیں کہ یہ موضوع ہے۔