روایت: موت کے وقت دو شیطانوں کا ماں باپ کی شکل میں آنا اور آدمی کو یہودی یا نصرانی بنانا۔
باب: موت و سکرات
موت کی یاد، نزع اور سکرات کی کیفیات۔
گروپ: آخرت
13 روایات
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من مات فقد قامت قيامته‘‘.جو مرجائے تو اس کی قیامت قائم ہوگئی‘‘۔
روایت: روزانہ بیس مرتبہ موت کو یاد کرنے سے روزِ قیامت شہداء کے ساتھ حشر۔
روایت: نبی ﷺ نے فرمایا:’’ ليس للماضين هم الموت، وإنما لهم حسرة الفوت‘‘.جانے والوں کو موت کا غم نہیں ہے، ان کو فوت کی حسرت ہے۔
روایت: ’’ ہر مرنے والا ضرور یہ تمنا کرے گا کہ وہ پہلے مرجاتا، نیک تو اس لئے کہ جلد بھلائی کی طرف پہنچ جاتا، اور بَد اس لئے کہ بدکاری کم ہوتی‘‘۔
روایت: ’’جو شخص دن میں پچیس مرتبہ ’’اللهم بارك لي في الموت، وفيما بعد الموت‘‘ پڑھے گا،اللہ تعالی اسے شہیدوں جیسا اجر عطا فرمائیں گے اگرچہ اسے موت اپنے بستر پر ہی کیوں نہ آئے‘‘۔
روایت: ’’نبیﷺ کا ارشاد ہے:’’الموت جسر يوصل الحبيب إلى الحبيب‘‘. موت ایک پل ہے جو ایک دوست کو دوسرے دوست سے ملا دیتا ہے‘‘۔
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے موت کا اتنا بھروسہ بھی نہیں ہے کہ ایک طرف سلام پھیروں، تو دوسری طرف بھی پھیر سکوں گا یا نہیں۔
روایت: ’’الناس نيام، فإذا ماتوا انتبهوا‘‘. لوگ سورہے ہیں مرجائیں گے تو بیدار ہوجائیں گے۔
روایت: حالتِ مرض میں آیت کریمہ:’’ لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين‘‘.چالیس مرتبہ پڑھنے کے بعد اگر اسی مرض کی حالت میں مرگیاتو چالیس شہداء کا اجر ملے گا، اور اگر تندرست ہوگیا تو سارےگناہوں کی بخشش ہوجائے گی۔