روایت: روزانہ بیس مرتبہ موت کو یاد کرنے سے روزِ قیامت شہداء کے ساتھ حشر۔
حکم: حافظ عراقی l، علامہ سبکی l، علامہ پٹنیlاور علامہ شوکانی lفرماتے ہیں: ’’ یہ روایت سنداً نہیں ملتی‘‘، لہذا اس روایت کو آپﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] قوت القلوب:2/960،ت:محمود إبراهيم محمد الرضواني،مكتبة دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى1422هـ .
[2] إحياء علوم الدين:4/290،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة1402هـ .
[3] التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة:1/122،ت:الصادق بن محمد بن إبراهيم,دار المنهاج ـ الرياض،الطبعة الأولى1425 هـ .
[4] شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور:ص:20،مطبعة المدني ـ مصر .
[5] المغني عن حمل الأسفار:2/1140،رقم:4134،ت:أشرف بن عبد المقصود،مكتبة طبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[6] طبقات الشافعية الكبرى:6/375،ت:عبد الفتاح محمد الحلو ومحمود محمد الطناحي،هجر للطباعة والنشر والتوزيع،الطبعةالثانية 1413هـ .
[7] تذكرة الموضوعات:ص:213،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت،الطبعة الثانية1399هـ .
[8] الفوئد المجموعة:ص:264،رقم:175،ت:عبد الرحمن بن يحيي المعلمي،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة 1416هـ .
[9] نزهة المجالس: 1/77 ،المكتب الثقافي ـ القاهرة،الطبعة الأولى1425هـ .
[10] تذكرة الواعظين،ص:55، مطبع محمدي، بمبئي .
ملتی جلتی احادیث
روایت: گناہوں کو یاد کرکے غم زدہ ہوجانے والے کےلئے روزِ قیامت شہداء کے ساتھ حشر کی بشارت۔
روایت: ’’جو شخص دن میں پچیس مرتبہ ’’اللهم بارك لي في الموت، وفيما بعد الموت‘‘ پڑھے گا،اللہ تعالی اسے شہیدوں جیسا اجر عطا فرمائیں گے اگرچہ اسے موت اپنے بستر پر ہی کیوں نہ آئے‘‘۔
روایت: نبی ﷺ نے فرمایا:’’ ليس للماضين هم الموت، وإنما لهم حسرة الفوت‘‘.جانے والوں کو موت کا غم نہیں ہے، ان کو فوت کی حسرت ہے۔
روایت: آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ’’موتوا قبل أن تموتوا‘‘. اپنے آپ کو مردہ سمجھو اس سے پہلے کہ تمہیں موت آجائے۔
روایت: ’’درج ذیل کلمات پڑھنے پر حضور ﷺکی سفارش کہ حساب نہ لیا جائے، اور یہ کہ اللہ تعالی نے بخش دیا:
’’اللهم آمنّا في أوطاننا، وأصلحنا وأصلح ولاة أمورنا، اللهم صل على محمد كلما ذكره الذاكرون، وكلما غفل عن ذكره الغافلون‘‘. اے اللہ! ہمارے وطنوں کو امن کا گہوارہ بنا، اور ہمیں نیک بنا اور ہمارے حاکموں کو نیک بنا، اے اللہ! محمدﷺ پر رحمت کاملہ نازل فرما جب بھی یاد کرنے والے انہیں یاد کریں اور جب بھی غافل ہونے والے ان سے غافل ہوں‘‘۔